بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ پس بالوں کو دھوؤ اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایاپانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور امانت کا ادا کرنا کفارہ ہے جو ان کے درمیان ہے۔ میں نے کہا امانت کا ادا کرنا کیا ہے؟ فرمایا غسلِ جنابت کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے غسل جنابت کے دوران اپنے جسم سے بال کے برابر بھی جگہ چھوڑدی اور اُسے نہیں دھویا ، اُس سے آگ کے ساتھ ایسا ایسا کیاجائے گا۔حضرت علی ؓ نے فرمایا پس اُس وقت سے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوگیا ہوں اورآپؓ اُن کو کاٹ دیتے تھے۔
حضرت زینب بنتِ امِّ سلمہ ؓ نے اپنی والدہ حضرت ام المؤمنین امِّ سلمہؓ سے روایت کی انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اورآپؐ سے عورت کے بارہ میں پوچھا جو نیند میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ، جب وہ پانی دیکھے تو غسل کرے ۔ میں نے کہا تم نے تو عورتوں کوشرمندہ کردیا۔کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟نبی ﷺ نے فرمایا تیرا بھلا ہو، تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہوتا ہے۔
حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا کہ نیند میں وہ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایسا دیکھے اور اُسے انزال بھی ہوجائے تو اُس پر غسل واجب ہے ۔ حضرت ام سلمہ ؓنے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا یہ ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ۔ ان دونوں میں سے جو سبقت لے جاتا ہے ، یا غالب آجاتا ہے تو بچہ اُسی سے مشابہ ہوجاتا ہے ۔
حضرت خَولَہ بنت حکیم ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورت کے بارے میں سوال کیا کہ وہ نیند میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایااُس پر غسل نہیںہے یہاں تک کہ اُسے انزال ہو، جیسا کہ مرد پر بھی غسل نہیں ہے جب تک اُسے بھی انزال نہ ہو ۔
حضرت ام المؤمنین ام سلمہؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے عرض کیایارسولؐ اللہ! میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنے سر کی مینڈھیوں کو مضبوطی سے باندھتی ہوں۔ کیا میں اُنہیں غسلِ جنابت کے لئے کھولا کروں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ( اپنے دونوں ہاتھوں کی) تین اُوک پانی بھر کر سر پر ڈال لو۔ پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈال لو ۔ پس تم پاک ہوجاؤگی ۔ یا یہ فرمایا تب تم پاک ہو گئیں۔
عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ تک یہ بات پہنچی کہ حضرت عبد اللہ بن عمروؓاپنی بیویوں کو جب وہ غُسل کریں حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے سرکے بالوں کو کھولا کریں ۔ انہوں(حضرت عائشہؓ) نے کہا اس ابن عمروؓپر تعجب ہے ۔ وہ اُن کو یہ حکم کیوں نہیں دے دیتے کہ وہ اپنے سرہی منڈوادیں ۔ میں اور رسول اللہ ﷺ تو ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے ۔ میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لوں ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے ایسی حالت میں کہ وہ جنبی ہو ۔ راوی نے پوچھا اے ابوہریرہ !پھر وہ کیا کرے ؟ انہوں نے کہااس سے پانی لے لے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصارؓ کے ایک آدمی کے (گھر) کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے اُس کو بھلا بھیجا۔وہ نکلا ، اور اُس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈال دیا۔ اُس نے عرض کیا جی ہاںیارسولؐ اللہ! آپ ﷺنے فرمایا جب تجھے جلدی میں ڈالا جائے اور انزال میں روک پیدا ہوجائے تو تم پر غسل نہیں، تم پر وضو ہے ۔