بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ابو اُمامہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اس حالت میں نماز ادا کرے کہ وہ پیشاب روکے ہوئے ہو ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا نہ ہو کہ اسے تکلیف ہو ۔
حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مسلمانوں میں سے کوئی (نماز کے لئے) کھڑا نہ ہو،اس حالت میں کہ وہ پیشاب روکے ہوئے ہو یہانتک کہ( اس کے بوجھ سے) ہلکا نہ ہوجا ئے ۔
عروہ بن زبیرؓسے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ ؓبنت ابی حُبَیش نے اُن سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور خون جاری رہنے کی شکایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رگ ہے، توتم دیکھو، جب تمہارے حیض کے دن آئیں نماز نہ پڑھو اور جب ایام گزر جائیں تو طہارت کے لئے غسل کرو پھر نماز پڑھو ایک حیض سے دوسرے حیض کے درمیان۔
حضرت عائشہ ؓنے بیان فرمایاکہ حضرت فاطمہؓ بنت ابی حُبَیْش رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیایارسولؐاللہ!میںمستحاضہ عورت ہوںاور پاک نہیں ہوتی ، کیا نماز چھوڑ دوں ؟ حضورؐنے فرمایا نہیں ، یہ تو ایک رگ ہے اور حیض نہیں۔ جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب گزر جائے تواپنے آپؐ سے اس خون کودھولو اور نماز پڑھو۔
حضرت اُمِّ حبیبہ بنت جَحْشؓ نے بیان کیا کہ مجھے استحاضہ کی تکلیف دیر تک چلتی تھی۔ وہ کہتی ہیں میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ آپؐ سے فتویٰ لوں اور یہ بتاؤں۔وہ بیان کرتی ہیں میں نے اپنی بہن زینب ؓکے ہاں حضور ﷺ کو پایا۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!مجھے آپؐ سے ایک کام ہے۔ فرمایا وہ کیا ہے اے چھوٹی! میں نے عرض کیا مجھے بڑی طویل مدت تک استحاضہ کا خون جاری رہتا ہے اور اُس نے مجھے نماز اور روزہ سے روک دیا ہے، اس بارہ میں آپؐ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا میں تجھے روئی(کے استعمال) کا مشورہ دیتا ہوں ۔وہ خون کو صاف کر دے گا ۔ میں نے عرض کیا وہ (خون)توبہت زیادہ ہے۔باقی روایت راوی نے شریک کی روایت کی طرح بیان کی ہے ۔
حضرت اُمِّ سلمہؓ نے بیان فرمایا ایک عورت نے نبی ﷺسے سوال کیااس نے کہا میں مستحاضہ ہوتی ہوںاور پاک نہیں ہوتی ، کیا میں نماز چھوڑدوں؟ فرمایانہیں مگر اتنے دن اور راتیں چھوڑ دے جن میں تو حائضہ ہوا کرتی تھی ۔ راوی ابوبکر نے اپنی روایت میں_قَدْرَ الْاَیَّامِ وَاللِّیَالِیَکی بجائے وَقَدْرَھُنَّ مِنَ الشَّہْرِ یعنی مہینے میں ان کی گنتی کے مطابق،بیان کیاہے_ پھر نہاؤاورکپڑا اچھی طرح باندھ لو اور نمازپڑھو ۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایاکہ حضرت فاطمہؓ بنت ابی حُبَیْش نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول ؐاللہ!میں ایک ایسی عورت ہوں جو مستحاضہ ہوں اور پاک نہیں ہوتی ، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ فرمایا نہیں ، یہ صرف ایک رگ ہے ۔ حیض نہیں ہے ۔ اپنے ایام حیض میں نماز سے الگ رہو، پھر غسل کر واور ہر نماز کے لئے وضو کرو خواہ خون چٹائی پر ٹپکے ۔
عدی بن ثابت اپنے والد سے اور وہ اُن کے داداسے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا مستحاضہ اپنے حیض کے ایام میں نماز چھوڑ ے گی اورپھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لئے وضو کرے گی اور روزہ رکھے گی اور نماز ادا کرے گی۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایاحضرت اُمِّ حبیبہؓ بنت جحش جو کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓکے نکاح میں تھیں۔ سات سال استحاضہ کی بیماری میں رہیں۔ اُس کی شکایت انہوں نے نبی ﷺ سے کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا یہ حیض نہیں ہے ،یہ تو ایک رگ ہے۔ جب حیض کے ایام شروع ہوں توتم نماز چھوڑدو اور جب وہ ختم ہوجائیں تونہاؤ اور نمازپڑھو۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس پروہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھیں٭۔ پھر نماز ادا کیا کرتی تھیں ۔ وہ اپنی بہن زینب ؓبنت جحش کے ٹب میں بیٹھتیں تو خون کی سرخی پانی پر غالب آجایا کرتی تھی