بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 61 hadith
حضرت ابی ثعلبہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے کچلیوں والے ہر درندے کے کھانے سے منع فرمایا۔ اسحاق اور ابن ابی عمرؓ نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ زہری نے کہا کہ ہم نے اس کاذکر نہیں سنا جب تک کہ ہم شام نہیں آئے۔
حضرت جابر ؓ جیش الخبط کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین اونٹ (ذبح کئے)پھر انہیں حضرت ابو عبیدہؓ نے منع کردیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہﷺ نے بھیجا اور ہم تین سو تھے اور ہم اپنا زاد راہ اپنی گردنوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔
حضرت ابو ثعلبہخُشَنیؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے تمام کچلیوں والے درندے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے اپنے حجاز کے علماء سے یہ نہیں سنا یہانتک کہ میرے پاس ابو ادریس نے بیان کیا اور وہ اہل شام کے فقہاء میں سے تھے۔
حضرت ابو ثعلبہ خُشَنیؓؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے تمام کچلی والے درندے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں (نَھٰی عَنْ اَکْلِ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعکی بجائے) نَھٰی عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِکے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا ہر کچلی والے درندے کوکھانا حرام ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے (کے کھانے سے) منع فرمایا ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ہمیں بھیجااورحضرت ابو عبیدہؓ کوہمارا امیر مقرر فرمایا کہ ہم قریش کے قافلہ کا مقابلہ کریں اور آپؐ نے ہمیں کھجوروں کا ایک تھیلا زادِ راہ کے طور پر دیا۔ اس کے علاوہ آپؐ نے ہمارے لئے کچھ نہ پایا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ(اور ایک وقت ایسا آیا) کہ حضرت ابو عبیدہؓ ہمیں ایک ایک کھجور دیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا تم ایک (کھجور سے) کیسے گذارا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ہم اسے چوستے تھے جس طرح بچہ چوستا ہے پھر اس پر کچھ پانی پی لیتے تھے تو وہ ہمیں دن رات کے لئے کافی ہوجاتا تھا۔ اور ہم اپنی چھڑیوں کے ساتھ پتے جھاڑتے پھر انہیں پانی سے تر کر کے کھا لیتے۔ وہ کہتے ہیں ہم ساحلِ سمندر پرجا رہے تھے تو بڑے ٹیلے کی طرح کوئی چیز نظر آئی۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا یہ مری ہوئی ہے۔ پھر کہا نہیں ہم رسول اللہﷺ کی طرف سے اللہ کی راہ میں بھیجے ہوئے ہیں اور تم مضطر بھی ہو اس لئے کھاؤ۔ وہ کہتے ہیں ہم نے اس پر ایک ماہ گذارا کیا اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم خوب موٹے (صحت مند) ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں میں دیکھ رہا ہوں ہم اس کی آنکھ کے گڑھے سے چربی کے مٹکے بھر بھر کر نکالتے تھے اور اس سے بیل کی طرح یا بیل کے برابر ٹکڑے کاٹتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے ہم میں سے تیر ہ آدمی لئے اور انہیں اس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھادیا اور اس کی پسلیوں سے ایک پسلی لی اسے کھڑا کیا اور ہمارے پاس جو اونٹ تھے ان میں سے سب سے بڑے اُونٹ پر پالان باندھا تو وہ اس کے نیچے سے گذر گیا اور ہم نے توشہ کے طور پر اس کے گوشت کے پارچے خشک کرکے ساتھ لئے۔ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو یہ بات بتائی۔ آپؐ نے فرمایا یہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکالا تھا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ گوشت ہے کہ تم ہمیں بھی کھلاؤ۔ راوی کہتے ہیں ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا اور آپؐ نے اسے تناول فرمایا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ہمیں قریش کے ایک قافلہ پر نظر رکھنے کے لئےبھیجا اور ہم تین سو سوار تھے اور ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح تھے۔ ہم ساحل پر آدھا مہینہ رہے ہمیں سخت بھوک کا سامنا کرنا پڑا یہانتک کہ ہم نے پتے کھائے_ تو اس کا نام پتوں والا لشکر رکھا گیا _سمند ر نے ہمارے لئے ایک جانور پھینکا جسے عنبر کہا جاتا ہے ہم اسے آدھے مہینہ تک کھاتے رہے اور اس کا تیل استعمال کرتے رہے یہانتک کہ ہمارے جسم بحال ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اسے نصب کیا پھر لشکر میں سے ایک سب سے لمبا آدمی اور سب سے اونچا اونٹ دیکھا اور اس آدمی کواس پر بٹھایا وہ اس کے نیچے سے گذر گیا۔ راوی کہتے ہیں اور اس کی آنکھ کے حلقہ میں کئی آدمی بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے اس کی آنکھ کے گڑھے سے اتنے اتنے گھڑے چربی کے نکالے۔ راوی کہتے ہیں اور ہمارے پاس کھجور کا ایک تھیلا تھا اور حضرت ابو عبیدہؓ ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک مٹھی دیا کرتے تھے۔ پھر آپؓ ہمیں ایک ایک کھجور دیتے تھے۔ جب وہ ختم ہوگئیں تو ہم نے اس کی کمی محسوس کی۔