بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 61 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے جبکہ آپؐ منبر پر تھے سوسمار کھانے کے متعلق پوچھا آپؐ نے فرمایا نہ میں اسے کھاتا ہوں نہ میں اسے حرام ٹھہراتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس سوسمار لائی گئی مگر آپؐ نے اسے نہ کھایا اور نہ ہی حرام قرار دیا اور حضرت اُسامہؓ کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا اور رسول اللہﷺ منبر پر تھے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ آپؐ کے کئی صحابہؓ تھے۔ ان میں سعدؓ بھی تھے۔ آپؐ کے پاس سوسمار کا گوشت لایا گیا۔ نبیﷺ کی خواتین میں سے ایک خاتون نے پکارا یہ سوسمار کا گوشت ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایاکھاؤ یہ حلال ہے لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہؓ بن عباس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اور حضرت خالدؓ بن ولیدرسول اللہﷺ کے ساتھ حضرت میمونہؓ کے گھر گئے وہاں ایک بھنا ہوا سوسمار لایا گیا۔ رسول اللہﷺ نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔ حضرت میمونہؓ کے گھر میں جو عورتیں تھیں ان میں سے ایک نے کہا رسول اللہﷺ کو جو وہ کھانا چاہتے ہیں اس کے بارہ میں بتادو۔ رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ !کیا یہ حرام ہے؟آپؐ نے فرمایا نہیں لیکن یہ ہم لوگوں کے علاقہ میں نہیں ہوتی۔ اس لئے مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے مزاج کے مطابق نہیں۔ حضرت خالدؓ کہتے ہیں میں نے اسے کھینچا اور کھایا اور رسول اللہﷺ دیکھ رہے تھے۔
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حُنیف انصاریؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت خالدؓ بن ولید جنہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار)کہا جاتاہے نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ کے گھر گئے اور وہ ان کی اور ابن عباسؓ کی خالہ تھیں انہوں نے ان کے پاس بھنا ہوا سوسمار دیکھا جو اُن (حضرت میمونہؓ ) کی بہن حُفیدۃ بنت حارث نجد سے لائی تھیں۔ پھر انہوں نے وہ سوسمار رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور بالعموم جب آپؐ کے سامنے کھانا رکھا جاتا توآپؐ کو اس کے بارہ میں بتایا جاتااور اس کا نام لیا جاتا۔ رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ سوسمار کی طرف بڑھایا توموجود عورتوں میں سے ایک نے کہا رسول اللہﷺ کو بتا دیں جو تم نے آپؐ کے سامنے پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ سوسمار ہے یا رسولؐ اللہ!۔ رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا سوسمار حرام ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں لیکن یہ ہمارے ہاں نہیں ہوتی۔ اس لئے مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے مزاج کے مطابق نہیں۔ حضرت خالدؓ کہتے ہیں میں نے اسے کھینچا اور کھایا اور رسول اللہﷺ دیکھ رہے تھے۔ آپؐ نے مجھے منع نہیں فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت خالدؓ بن ولیدنے بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ حضرت میمونہؓ جو اُن کی اور حضرت ابن عباسؓ کی خالہ تھیں کے ہاں گئے۔ رسول اللہﷺ کے سامنے سوسمار کا گوشت پیش کیا گیا۔ جو اُم حُفید بنت حارث نجد سے لائی تھیں اور وہ بنی جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں اور رسول اللہﷺ جب تک معلوم نہ کرلیتے کیا چیزہے تناول نہ فرماتے۔ اس روایت میں یہ اضافہ ہے ابن الاصم نے حضرت میمونہؓ سے روایت کی جو ان کی گود میں تھے (یعنی حضرت میمونہؓ نے ان کی پرورش کی تھی) حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبیﷺ کے پاس دو بھنے ہوئے سوسمار لائے گئے جبکہ ہم حضرت میمونہؓ کے گھر میں تھے۔ ایک اور روایت میں یزید بن الاصم کے حضرت میمونہؓ سے روایت کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت امامہ بن سہلؓ نے بتایا حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ کے پاس سوسمارکا گوشت لایا گیا جبکہ آپؐ حضرت میمونہؓ کے گھر میں تھے اور آپؐ کے پاس حضرت خالدؓ بن ولید (بھی) تھے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ ام حُفیدؓ نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں گھی پنیر اور سوسمارتحفہ پیش کیں۔ آپؐ نے گھی اور پنیرکھایا اور سوسمارنا پسند کرتے ہوئے چھوڑ دیاور وہ رسول اللہﷺ کے دستر خوان پر کھائی گئی۔ اگر یہ حرام ہوتی تو رسول اللہﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی۔
یزید بن الاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمیں مدینہ میں ایک دلہا نے دعوت میں بلایا اور ہمارے سامنے تیرہ سوسمار رکھے۔ بعض نے کھائے، بعض نے چھوڑ دئیے۔ میں حضرت ابن عباسؓ سے اگلے دن ملا اور انہیں بتایااوربہت سے لوگ ان کے گرد تھے۔ ایک نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے نہ میں اسے کھاتا ہوں نہ میں اس سے منع کرتا ہوں اور نہ اسے حرام ٹھہراتا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا تم نے بہت بری عجیب کہی ہے۔ نبیﷺ تو حلال اور حرام بتانے ہی آئے تھے۔ (ایک دفعہ) جب آپؐ حضرت میمونہؓ کے ہاں تھے اور آپؐ کے پاس فضل بن عباسؓ اور خالدؓ بن ولید اور ایک اور خاتون تھیں۔ جب ان کے سامنے ایک دسترخوان جس میں گوشت تھا پیش کیا گیا۔ نبیﷺ نے کھانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت میمونہؓ نے آپؐ کو بتایا کہ یہ سوسمار کا گوشت ہے۔ آپؐ نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا یہ گوشت میں نے کبھی نہیں کھایا اور ان سے فرمایا تم کھاسکتے ہو تو فضلؓ اور خالدؓ بن ولید اور خاتون نے اس میں سے کھایا اور حضرت میمونہؓ نے کہا میں تو وہی چیز کھاؤں گی جو رسول اللہﷺ کھائیں گے۔
ابو زبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ کے پاس سوسمار لایا گیا۔ آپؐ نے اس میں سے کھانے سے انکار فرمایا اور فرمایامیں نہیں جانتا شاید یہ ان قوموں میں سے ہوں جو مسخ ہوگئی تھیں۔
ابو زبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ سے سوسمارسے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا اسے نہ کھاؤ اور اسے ناپسند کیا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر ؓ بن خطاب کہتے ہیں نبیﷺ نے اسے حرام نہیں ٹھہرایا۔ یقینا اللہ عزوجل اس کے ذریعہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ دیتا ہے کیونکہ یہ چرواہوں کا کھانا ہے اور یہ میرے پاس ہوتا تو میں بھی کھاتا۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں سوسماربہت ہیں۔ آپؐ ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ یا (اس نے کہا) آپؐ ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا میرے پاس ذکر کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کیا گیا تھا پھر٭ آپؐ نے نہ حکم دیا نہ منع کیا۔ ابو سعید کہتے ہیں بعد ازاں حضرت عمرؓ نے کہا یقینا اللہ عزّوجل اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عام چرواہوں کا کھانا ہے اور اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں بھی اسے ضرور کھاتا۔ رسول اللہﷺ نے اسے صرف ناپسند فرمایا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں سوسمار بہت ہیں اور یہ میرے گھر والوں کا کھانا ہے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اسے جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا دوبارہ پوچھو، اس نے دوبارہ پوچھا(تو بھی)آپؐ نے اسے جواب نہ دیا۔ یہ تین مرتبہ ہوا۔ پھر رسول اللہﷺ نے اسے تیسری دفعہ کے بعد بلایا اور فرمایا اے بدوی! یقینا اللہ تعالیٰ نے لعنت کی یا فرمایا بنی اسرائیل کی ایک شاخ پر غضب نازل فرمایا اور انہیں جانوروں کی صورت میں مسخ کردیا جو زمین پر چلتے ہیں۔ میں نہیں جانتا شاید یہ ان میں سے ہوں۔ نہ میں اسے کھاتا ہوں نہ میں اس سے منع کرتا ہوں۔