بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 61 hadith
حضرت عبد اللہؓ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہﷺ کی معیت میں سات غزوات کئے ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔ ایک روایت میں سات غزوات اور ایک میں چھ غزوات کا ذکر ہے۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم جارہے تھے تو ہم نے مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ لوگ اس کو پکڑنے کے لئے دوڑے مگر وہ تھک گئے۔ وہ کہتے ہیں میں دوڑا یہاں تک کہ اسے جا لیا۔ اور میں اسے حضرت ابو طلحہؓ کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا۔ انہوں نے اس کی پُٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہﷺ کے پاس بھیجیں۔ میں انہیں لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا آپؐ نے اسے قبول فرمایا۔
ابن بریدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبد اللہؓ بن مغفّل نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اس سے کہا کنکریاں نہ مارو کیونکہ رسول اللہﷺ اسے ناپسند فرماتے تھے یا انہوں نے کہا کہ آپؐ کنکریاں مارنے سے منع فرماتے تھے۔ کیونکہ نہ تو اس سے شکار ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے دشمن مرتا ہے لیکن یہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے۔ بعد ازاں پھر انہوں نے اس کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہﷺ کنکر مارنے کو ناپسند فرماتے تھے یا اس سے منع فرماتے تھے پھر بھی میں تمہیں کنکرمارتے دیکھتا ہوں۔ اب میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
حضرت عبد اللہ بن مغفّلؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے کنکرمارنے سے منع فرمایا ہے۔ ابن جعفر اپنی روایت میں کہتے ہیں اور آپؐ نے فرمایا یہ نہ تو دشمن کو مارتا ہے اور نہ ہی شکار کو لیکن یہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتاہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ دشمن کو نہیں مارتا اور آنکھ کے پھوڑنے کا ذکر نہیں کرتے۔
سعید بن جُبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہؓ بن مغفّل کے ایک رشتہ دار نے کنکر مارے۔ انہوں نے اسے منع کیا اور کہا رسول اللہﷺ نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے اور کہاہے یہ نہ تو شکار مارتا ہے نہ دشمن کومارتا ہے لیکن یہ دانت توڑتا اور آنکھ پھوڑتا ہے۔ راوی کہتے ہیں اس نے دوبارہ ایسا کیا تو انہوں نے کہامیں تمہیں بتاتا ہوں تمہیں رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے پھر بھی تم کنکر مارتے ہو؟اب میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
حضرت شداّدؓ بن اوس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے دو باتیں یاد رکھی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے احسان کو فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو اچھے طریق سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو۔ تم میں سے جوکوئی ذبح کرنا چاہے وہ اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے۔
ہشام بن زید بن انسؓ بن مالک کہتے ہیں میں اپنے دادا حضرت انسؓ بن مالک کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر گیا تو دیکھا کہ کچھ لوگوں نے مرغی کو باندھ کر (تیر) مارا ہے۔ وہ کہتے ہیں حضرت انسؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کسی روح والی چیز کو ٹارگٹ نہ بناؤ۔
سعید بن جُبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو ایک مرغی کو باندھ کراس پر تیر اندازی کر رہے تھے۔ جب انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا تو اس کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا یہ کس نے کیا ہے؟ یقینا رسول اللہﷺ نے اس پر لعنت کی ہے جس نے یہ کیا ہے۔
سعید بن جُبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عمرؓ قریش کے چندنوجوانوں کے پاس سے گذرے۔ انہوں نے ایک پرندہ کو باندھا ہوا تھا اور اس پر تیر اندازی کر رہے تھے۔ انہوں نے پرندہ کے مالک سے یہ طے کیا تھا کہ ان کے ہر خطا جانے والے تیر اس کے ہوں گے۔ جب انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا تو منتشر ہو گئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے۔ یقینا رسول اللہﷺ نے اس پر لعنت کی ہے جو کسی روح والی چیز کو (باندھ کر) ٹارگٹ بناتا ہے۔