بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 45 hadith
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جوحضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کو سب سے زیادہ قیامت کے دن غیظ دلانے والا اور بدترین اور اس کو سب سے زیادہ غصہ دلانے والا وہ شخص ہوگا جو مَلِکَ الْاَمْلَاککہلاتا تھا۔ کوئی بادشاہ نہیں مگر اللہ۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں لڑکے کی پیدائش ہوئی۔ میں اسے لے کر نبی
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس بچّوں کو لایا جاتا توآپؐ انہیں برکت دیتے اور اُنہیں گھٹی دیتے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ہم عبداللہ بن زبیر کو لے کر نبیﷺ کی خدمت میں گئے تاکہ آپؐ اُسے گھٹی دیں، چنانچہ ہم نے کھجور کی تلاش کی تو اس کی تلاش میں ہمیں مشکل پیش آئی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابو طلحہؓ انصاری کی ولادت ہوئی تو میں اسے لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺ اپنی عباء اوڑھے ہوئے اپنے اونٹ کو تارکول لگا رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں۔ میں نے چند کھجوریں آپؐ کی خدمت میں پیش کیں جنہیں آپؐ نے اپنے منہ میں ڈالا اور پھر انہیں اچھی طرح چبا یا پھر بچہ کا منہ کھولا اور اسے بچہ کے منہ میں ڈالا تووہ بچہ اسے چوسنے لگا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا انصار کی کھجور سے محبت !اور آپؐ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہؓ کا بیٹا بیمار تھا۔ حضرت ابو طلحہؓ باہر گئے توبچہ کی وفات ہو گئی۔ جب (حضرت ابو طلحہؓ ) واپس لوٹے تو انہوں نے کہا میرے بیٹے کا کیا حال ہے؟ حضرت ام سلیمؓ نے کہا پہلے سے زیادہ سکون میں ہے۔ پھر رات کا کھانا ان کو پیش کیا تو انہوں نے کھانا کھایا۔ پھر انہوں نے مقاربت کی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت ام سلیمؓ نے کہا بچہ کو دفن کردو۔ جب صبح ہوئی توحضرت ابو طلحہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو یہ بات بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا کیا تم رات آپس میں ملے ہو؟انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے دعا کی اے اللہ !ان دونوں کے لئے مبارک فرما۔ چنانچہ انہوں (حضرت ام سلیمؓ )نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ حضرت ابو طلحہؓ نے مجھ سے کہا کہ اسے اٹھا کر نبیﷺ کے پاس لے جاؤ۔ چنانچہ وہ (حضرت انسؓ ) اسے نبیﷺ کے پاس لے آئے۔ انہوں (حضرت ام سلیمؓ )نے ان کے ساتھ کچھ کھجوریں بھجوائیں۔ نبیﷺ نے بچہ کو لیا اور فرمایا اس کے ساتھ کچھ ہے؟عرض کیا گیاجی ہاں کچھ کھجوریں ہیں۔ نبیﷺ نے وہ لیں انہیں چبایا پھر اپنے منہ سے لے کراُسے بچہ کے منہ میں ڈال دیا اور اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
عروہ بن زبیرؓ اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے بتایاکہ حضرت اسماءؓ بنت ابو بکرؓ نکلیں جب انہوں نے ہجرت کی تو وہ حضرت عبداللہؓ بن زبیر کے حمل سے تھیں۔ وہ قباء کی طرف آئیں تو وہاں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی ولادت ہوئی۔ پھر ولادت کے بعد اسے رسول اللہﷺ کے پاس لے گئیں تاکہ آپؐ اسے گھٹی دیں۔ رسول اللہﷺ نے اسے ان سے لیا اور اسے اپنی گود میں رکھا۔ پھر آپؐ نے ایک کھجور منگوائی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے کہا کہ ہمیں کھجورتلاش کرنے میں کچھ وقت لگا۔ پھر حضورﷺ نے کھجور کو چبایا اور ان کے منہ میں ڈال دیاتو سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ رسول اللہﷺ کا لعاب تھا۔ حضرت اسماءؓ کہتی ہیں پھر رسول اللہﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرااور دعا کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کا تھا وہ آیا تاکہ وہ رسول اللہﷺ کی بیعت کرے اور اس کا حکم اسے حضرت زبیرؓ نے دیا تھا۔ جب رسول اللہﷺ نے اسے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا توآپؐ مسکرائے، پھرآپؐ نے اُس کی بیعت لی۔
حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ مکّہ میں انہیں عبداللہؓ بن زبیر کا حمل تھا۔ وہ بیان کرتی ہیں جب میں (وہاں )سے نکلی تو دن پورے ہوچکے تھے، چنانچہ میں مدینہ آئی اور قباء میں اُتری اور میں نے اسے قباء میں جنم دیا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپؐ نے اسے اپنی گود میں رکھا پھر ایک کھجور منگوائی اور اسے چبایا اور اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا، پس سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہﷺ کا لعابِ دہن تھا، پھر آپؐ نے اسے کھجور کی گھٹی دی، پھر آپؐ نے اس کے لئے دعا کی اور اسے برکت دی اور (مدینہ میں ہجرت کے بعد)یہ پہلا بچہ تھا جس کی اسلام میں ولادت ہوئی۔ایک اور روایت میں (أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ کی بجائے) أَنَّہَا ہَاجَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِﷺ وَہِیَ حُبْلَی بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت سہلؓ بن سعد سے روایت ہے کہ جب منذر بن ابی اسید کی ولادت ہوئی تواسے رسول اللہﷺ کے پاس لایا گیا۔ نبیﷺ نے اسے اپنی ران پر رکھا جبکہ ابو اسید بیٹھے ہوئے تھے اور نبیﷺ کسی فوری کام میں مصروف ہو گئے۔ اور ابواسیدنے اپنے بیٹے کو اٹھا لینے کا کہا اور اس کو (وہاں سے) ہٹا دیا۔ چنانچہ اسے رسول اللہﷺ کی ران سے اٹھا لیا گیا اور (وہاں سے)واپس بھیج دیا۔ پھر جب رسول اللہﷺ متوجہ ہوئے توآپؐ نے فرمایا وہ بچہ کہاں ہے؟ اس پر ابو اسیدؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!ہم نے اس کو واپس بھیج دیا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابو اسیدؓ نے کہا فلاں یا رسولؐ اللہ !آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ چنانچہ آپؐ نے اس روز اسے منذر کا نام دیا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق والے تھے۔ میرا ایک بھائی تھا جسے اُبو عُمیر کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا دودھ چھڑایا جا چکا تھا۔ راوی نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے اے ابو عمیر! مَا فَعَلَ النُّغَیْراے ابو عمیر! نُغَیرنے کیا کیا؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ (ابوعمیر)اس (چڑیا)سے کھیلا کرتا تھا۔