بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 45 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا اے میرے پیارے بیٹے!
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نبیﷺ
حضرت مُغیرہؓ بن شعبہ کہتے ہیں کہ کسی نے رسول اللہﷺ سے دجّال کے بارہ میں اتنا زیادہ نہیں پوچھا جتنامیں نے اس بارہ میں آپؐ سے پوچھا۔ پھرآپؐ نے مجھ سے فرمایا اے میرے پیارے بیٹے! تمہیں اس کی کیا پریشانی ہے؟ وہ ہر گز تمہیں کوئی تکلیف نہ دے گا۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں ہوں گی اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا ان سب کے باوجود وہ اللہ کے نزدیک بالکل بے حیثیت ہے۔ أَیْ بُنَیَّ کے الفاظ صرف یزید کی روایت میں ہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں انصارؓ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو موسٰیؓ گھبرائے ہوئے یا کہا ڈرے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ ہم نے کہا کہ آپؓ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ نے مجھے پیغام بھیجا تھا کہ میں ان کے پاس آؤں۔ چنانچہ میں ان کے دروازہ پر گیا اور تین مرتبہ سلام عرض کیا لیکن انہوں نے مجھے اس کا جواب نہ دیا۔ چنانچہ میں واپس لوٹ آیا، اس پر انہوں نے کہا کہ تمہیں کس چیز نے ہمارے پاس آنے سے روکا۔ میں نے کہا کہ میں آپؓ کے پاس آیا تھا اور آپؓ کے دروازہ پر تین مرتبہ سلام کہا تھا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اس لئے میں واپس آگیا کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ لوٹ جائے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اس کاثبوت لاؤ ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ اس پر حضرت اُ بیَّ بن کعبؓ نے کہا کہ ان کے ساتھ وہ جائے جو لوگوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا میں لوگوں میں سے سب سے چھوٹا ہوں۔ اس پر حضرت اُبیَّ بن کعبؓ نے کہا اس کو ساتھ لے جاؤ۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو سعیدؓ نے کہا میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا اور حضرت عمرؓ کے پاس گیا اور میں نے گواہی دی۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابیَؓ بن کعب کے پاس ایک مجلس میں تھے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ناراضگی کی حالت میں آئے اور آکر کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجازت تین دفعہ طلب کرنی چاہئے۔ پس اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو ٹھیک ورنہ تم لوٹ جاؤ۔ حضرت اُبیَّؓ نے کہا کیابات ہے؟ انہو ں نے کہا کہ میں نے کل حضرت عمر بن خطابؓ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہ دی گئی۔ میں واپس لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس گیا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ میں کل آیا تھا اور تین دفعہ سلام کہا تھا، پھر میں واپس چلا گیا تھا۔ انہوں (حضرت عمرؓ )نے فرمایا کہ ہم نے تمہاری آوازسنی تھی لیکن ہم اس وقت کسی کام میں مشغول تھے لیکن آپؓ اس وقت تک اجازت کیوں نہ مانگتے رہے جب تک کہ آپؓ کو اجازت نہ دی جاتی؟انہوں نے عرض کیا کہ میں نے تو اس طرح اجازت مانگی تھی جیسے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں ضرور تیری پشت اور تیرے پیٹ پر ماروں گا یا تم ضرور اس شخص کو لاؤ گے جوتمہارے لئے اس بات پر گواہی دے گا۔ اس پر حضرت اُبیّ بن کعبؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم !تمہارے ساتھ وہی شخص کھڑا ہوگا جو ہم میں سے سب سے چھوٹی عمر کا ہے۔ اے ابوسعیدؓ ! کھڑے ہو جاؤ۔ (حضرت ابوسعیدؓ کہتے ہیں )پس میں کھڑا ہو گیا یہانتک کہ میں (حضرت)عمرؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسٰیؓ، حضرت عمرؓ کے دروازہ پر آئے اور اجازت چاہی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا ایک مرتبہ۔ پھر انہوں نے دوسری دفعہ اجازت مانگی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا دو مرتبہ، پھر انہوں نے تیسری مرتبہ اجازت مانگی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا تین مرتبہ۔ پھروہ (حضرت ابوموسٰیؓ ) لوٹ گئے تو حضرت عمرؓ نے ان کے پیچھے (کسی کو)بھیجا وہ انہیں واپس لایا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر تو تم نے یہ بات رسول اللہﷺ سے یاد کی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں تمہیں نصیحت کا ذریعہ بناؤں گا۔ حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسٰیؓ ہمارے پاس آئے اور کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ اجازت طلب کرنا تین بار ہے؟وہ کہتے ہیں کہ اس پرلوگ ہنسنے لگے۔ وہ (ابو سعیدؓ ) کہتے ہیں اس پر میں نے کہا کہ تمہارا مسلمان بھائی گھبرایا ہوا تمہارے پاس آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو۔ چلو اس سزا میں میں تمہارا شریک ہوں۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا یہ ابوسعیدؓ ہے۔
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسٰیؓ نے حضرت عمرؓ سے تین مرتبہ اجازت مانگی توگویا انہوں نے آپ ؓ کومشغول پایا تو واپس لوٹ آئے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کیا تم نے عبداللہؓ بن قیس کی آواز نہیں سنی۔ اسے (اندر آنے کی) اجازت دو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا تمہیں ایسا کرنے پر کس بات نے آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا ہمیں اسی بات کا حکم دیا جاتا تھا۔ (حضرت عمرؓ )نے فرمایا کہ تمہیں لازما اس کاثبوت دینا ہوگا ورنہ میں سزا دوں گا۔ چنانچہ وہ باہر نکلے اور انصار ؓ کی ایک مجلس میں گئے تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے سب سے چھوٹا اس بات پر گواہی دے گا۔ اس پر حضرت ابو سعید ؓ کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ہمیں اسی بات کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایاکہ رسول اللہﷺ کا یہ حکم مجھ سے مخفی رہ گیا اور بازاروں میں خریدوفروخت نے مجھے اس سے غافل کر دیا۔ایک اور روایت میں أَلْہَانِیْ عَنْہُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس گئے اور کہا السّلام علیکم یہ عبداللہؓ بن قیس ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں اجازت نہ دی تو انہوں نے (پھر) کہا السلام علیکم یہ ابو موسٰی ہے، السلام علیکم یہ اشعری ہے۔ پھرجب وہ (حضرت ابو موسٰیؓ )چلے گئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایامیرے پاس واپس لاؤ۔ میرے پاس واپس لاؤ پھر جب وہ (ابو موسٰیؓ ) آئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اے ابو موسٰیؓ !تم واپس کیوں چلے گئے؟ہم ایک کام میں مشغول تھے۔ مشغول تھے۔ حضرت ابوموسٰیؓ نے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجازت طلب کرنا تین دفعہ ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم اس بات پر ضرور کوئی ثبوت لاؤ گے ورنہ میں سزادوں گا۔ چنانچہ حضرت ابو موسٰیؓ چلے گئے۔ (حضرت) عمرؓ نے فرمایا اگر اس نے کوئی ثبوت پایا تو تم آج رات اسے منبر پر پاؤ گے لیکن اگر اس نے کوئی ثبوت نہ پایا تو تم اسے موجودنہ پاؤ گے۔ جب وہ شام کو آئے تو لوگوں نے انہیں (حضرت ابو موسٰیؓ کو) موجود پایا، حضرت عمرؓ نے فرمایا اے ابو موسٰیؓ !آپ کیا کہتے ہیں کیا آپؓ کو (ثبوت)مل گیا؟ انہوں نے کہا ہاں، حضرت اُبیَّ بن کعبؓ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا وہ توسراپا عدل ہے۔ پھرکہا اے ابوطفیلؓ !یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا اے ابن خطابؓ !میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ پس آپؓ رسول اللہﷺ کے اصحاب کے لئے موجب تکلیف نہ بنیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا سبحان اللہ میں نے ایک بات سنی تو میں نے پسند کیا کہ میں اس کی تحقیق کروں۔ ایک اور روایت میں (قَالَ یَا أَبَا الطُّفَیْلِ مَا یَقُولُ ہَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِﷺ کی بجائے) فَقَالَ یَا أَبَا الْمُنْذِرِ آنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِﷺ فَقَالَ نَعَمْ فَلَا تَکُنْ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِﷺ کے الفاظ ہیں مگر اس روایت میں حضرت عمرؓ کا قول سُبْحَانَ اللَّہِ اور اس کے بعد کے الفاظ کا ذکر نہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے میں کہ میں نے نبیﷺ سے اجازت طلب کی۔ آپؐ نے فرمایا کون ہے؟ تو میں نے کہا میں اس پر نبیﷺ نے فرمایا میں تو میں بھی ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے گویا کہ آپؐ نے اس کو پسندنہیں فرمایا۔
حضرت سہل بن سعدؓ ساعدی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کے (گھر کے) دروازے کے سوراخ سے جھانکاجبکہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک سرخارہ تھا جس کو آپؐ اپنے سر میں پھیر رہے تھے۔ جب رسول اللہﷺ نے اسے دیکھاتو فرمایا اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تُو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ میں یہ چبھو دیتا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اجازت نظر ہی کی وجہ سے تو رکھی گئی ہے۔