بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 74 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ رسول اللہﷺ کے اہل تین دن لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہانتک کہ آپؐ رحلت فرما گئے۔ ایک روایت میں (وَالَّذی نَفْسی بِیَدِہِ کی بجائے) وَالَّذی نَفْسُ اَبی ھُریرَۃَ بِیَدِہِکے الفاظ ہیں۔
ابو حازم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو کئی بار اپنی انگلی سے اشارہ کرتے دیکھا۔ وہ کہتے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہؓ کی جان ہے کہ اللہ کے نبی
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ
سماک بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمانؓ بن بشیر کو کہتے ہوئے سنا کیا تمہارے لئے کھانے اور پینے میں وہ کچھ نہیں جو تم چاہتے ہو؟ میں نے تمہارے نبیﷺ کو دیکھا ہے آپؐ اتنی بھی ردّی کھجور نہیں پاتے تھے جو آپؐ کو سیر کردے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے وَمَا تَرْضَوْنَ دُوْنَ اَلْوَانِ التَّمْرِوَالزُّبْدِ اور جو تم کھجور اور مکھن کی طرح طرح کی اقسام کے علاوہ پسند کرتے ہو۔
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمانؓ کو خطاب کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا حضرت عمرؓ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے جو کچھ لوگوں نے دنیا سے پایا ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ سارا دن بھوک کی شدت محسوس کرتے اور خشک کھجور بھی نہ پاتے جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔
ابو عبد الرحمان حُبُلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العاص ؓ کو کہتے ہوئے سنا جب ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا ہم درویش مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبد اللہؓ نے اس سے کہا کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں انہوں نے کہا کیا تمہارا گھر ہے جس میں تم رہ سکو؟ اس نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا پھر توتم اغنیاء میں سے ہو۔ اس نے کہا میر اتو خادم بھی ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔
ابو عبد الرحمان کہتے ہیں کہ تین شخص حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العاصؓ کے پاس آئے اور میں ان کے پاس تھا۔ انہوں نے کہا اے ابو محمد! اللہ کی قسم! ہم کچھ استطاعت نہیں رکھتے نہ نفقہ کی نہ جانور کی نہ سامان کی انہوں نے ان سے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہوتو ہماری طرف واپس آجاؤ تو ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ نے تمہارے لئے میسر کیا اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ حاکم کے سامنے پیش کر دیں گے اور اگر تم چاہو تو صبر کرو۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غریب مہاجرین دولتمندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم صبر کرتے ہیں کچھ نہیں مانگتے۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اصحاب حجر کے بارہ میں فرمایا یہ جن کو عذاب دیا گیا تھا ان کے گھروں میں نہ جاؤ سوائے اس کے کہ تم رو رہے ہو اور اگر تم رو نہیں رہے تو ان میں داخل نہ ہو ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آجائے جو اُن پر آیا تھا۔
ابن شہاب سے روایت ہے وہ حجر (یعنی)ثمود کے مساکن کا ذکر کررہے تھے سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حجر کے پاس سے گذرے تو رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا ان لوگوں کے مساکن میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا سوائے اس کے کہ تم رو رہے ہو اس خوف سے کہ کہیں تم پر بھی وہی مصیبت نہ آجائے جو اُن پر آئی تھی۔ پھر آپؐ نے (سواری کو)چلنے پراُکسایااور وہ تیز ہو گئی اور ان(مساکن) کو پیچھے چھوڑ دیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ ثمود کے علاقہ حجر میں پڑاؤ کیا۔ انہوں نے اس کے کنوؤں سے پانی لیا اور اس سے آٹا گوندھا۔ رسول اللہﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ اس پانی کو جو انہوں نے لیا ہے انڈیل دیں اور آٹے کے بارہ میں فرمایا کہ اونٹوں کو کھلادیں اور انہیں حکم فرمایا کہ اس کنویں سے پانی لیں جس پر (حضرت صالح ؑ کی) اونٹنی آتی تھی۔ایک روایت میں (فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِھَا وَعَجَنُوْا بِہِ الْعَجینَ کی بجائے) فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئَارِھَا وَاعْتَجَنُوْا بِہ کے الفاظ ہیں۔