بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 74 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں، مَیں اور وہ ان دو (انگلیوں ) کی طرح ہوں گے اور (راوی) مالک نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے میں سب شریک ٹھہرائے جانے والوں سے زیادہ شرک سے مستغنی ہوں جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کیا تو میں اس کو اور اس کے شرک کو(اس کے حال پر) چھوڑ دیتا ہوں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شہرت کے لئے کچھ کرتا ہے اللہ اس کو اس کی سزا دیتا ہے اور جو دکھاوے کے لئے کرتا ہے اللہ اس کی سزا دیتا ہے۔
عبیداللہ خولانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے رسول اللہﷺ کی مسجد کی تعمیر(کی توسیع) کی تو عبیداللہ نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو لوگوں کی باتیں کرنے پریہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم بہت باتیں کہہ چکے ہو میں نے تو رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جس نے مسجد بنائی _ بکیر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعہ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے _ تو اللہ اس کے لئے اس جیسا (گھر) جنت میں بنائے گا۔ ایک روایت میں (مِثْلَہُ کی بجائے) بَیْتًا فِی الْجَنَّۃَ کے الفاظ ہیں۔
محمود بن لبید سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے مسجد(نبویﷺ ) کی توسیع کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے برا سمجھا اور پسند کیا کہ اسے اس کی اصل شکل پر رہنے دیں انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ کی خاطر مسجد بنائی اس کے لئے اللہ اس جیسا گھرجنت میں بنائے گا۔ ایک روایت میں (بَنَی اللّٰہُ لَہُ فِی الْجَنَّۃَ کی بجائے) بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ایک بار ایک شخص ایک ویرانہ میں تھا۔ اس نے ایک بدلی میں سے آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر۔ وہ بادل ایک طرف ہوگیا اور اپنا پانی ایک پتھریلی زمین پر برسایا ان نالیوں میں سے ایک نالی نے سارا پانی سمیٹ لیا وہ پانی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا اپنی کسّی سے پانی کا رخ بدل رہا ہے۔ اس نے اسے کہا اے اللہ کے بندے ! تیرا کیا نام ہے؟ اس نے بتا یا فلاں، تو وہ وہی نام تھا جو اس نے بدلی میں سنا تھا پھر اس نے کہا اے اللہ کے بندے! تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا میں نے اس بادل سے جس کا یہ پانی ہے ایک آواز سنی تھی جو تیرا نام لے کر کہہ رہی تھی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر۔ تو اس میں کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کیونکہ تم نے پوچھا ہے تو بات یوں ہے کہ جو اس میں سے پیدا وارہوتی ہے۔ میں اس کا جائزہ لیتا ہوں اور ایک تہائی صدقہ کردیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی اس(باغ) میں لوٹا دیتا ہوں۔ ایک روایت میں (فَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہِ وَآکُلُ اَنَا وَ عِیَالیِ ثُلُثًا وَاَرُدُّ فِیْھَا ثُلُثَہُکی بجائے) وَاَجْعَلُ ثُلُثَہُ فِی الْمَسَاکِیْنِ وَالسَّائِلِیْنَ وَاْبنَ السَّبِیْلِکے الفاظ ہیں یعنی میں اس کا تیسرا حصہ مسکینوں، سائلوں اور مسافروں کے لئے رکھتا ہوں۔
حضرت جندب علقیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شہرت کے لئے کچھ کرتا ہے اللہ اس کواس کی سزا دے گا اور جو دکھاوے کے لئے کرتا ہے اللہ اس کی سزا دے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یقینا بندہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کی وجہ سے وہ آگ میں اتنی گہرائی میں گر جاتا ہے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایایقینا بندہ کوئی ایسی بات کہتا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اتنی گہرائی میں گر جاتا ہے جتنا مشرق و مغرب میں فاصلہ ہے۔
شقیق حضرت اسامہ بن زیدؓ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ آپ حضرت عثمانؓ کے پاس جاکر ان سے بات نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے بات نہیں کرتا میں تمہیں بتاتا ہوں اللہ کی قسم میں ان سے گفتگو کر چکا ہوں جو میرے اور ان کے درمیان (راز) ہے۔ ہاں مگر میں کوئی معاملہ علی الاعلان نہیں بیان کرنا چاہتاجس کے متعلق میں نہیں پسند کرتا کہ پہلا شخص ہوں جو اس کو کھولوں اور میں کسی کو جو مجھ پر امیر ہو نہیں کہتا کہ وہ سب لوگوں سے بہتر ہے بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناکہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا اس کی آنتیں لٹکتی ہوں گی وہ اسے لے کر چکر لگائے گا جیسے گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے۔ پھر آگ والے اس کے گرد جمع ہوجائیں گے وہ کہیں گے اے فلاں !تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تو نیکی کا حکم نہیں دیتاتھا اور بدی سے روکا نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں میں نیکی کا حکم دیا کرتا تھا لیکن میں خود اسے نہیں کرتا تھا اور بدی سے روکتا تھا اور خود اسے کیاکرتا تھا۔ ایک روایت میں (عَنْ شَقیقٍ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیدٍقَالَ کی بجائے) عَنْ اَبی وَائِلٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ اُسَامَۃَبْنِ زَیدفَقَالَ کے الفاظ ہیں۔