بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 74 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھ سے مت لکھو اور جو مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے مجھ سے بیان کرو اس میں حرج نہیں ہے اور جس نے مجھ پر جھوٹ بولا ہمام کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا مُتَعَمِّدًا جانتے بوجھتے ہوئے تو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنائے۔
حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا جب وہ بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں اس لئے تم میرے پاس ایک لڑکا بھیجو جسے میں جادو سکھا سکوں۔ چنانچہ اس نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا تاکہ وہ اسے سکھادے اس لڑکے کے رستہ میں جب وہ جاتا تھا ایک راہب تھا وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کاکلام سنا تو اسے بہت پسند آیا۔ پھر جب بھی وہ جادو گر کے پاس آتا تو راہب کے پاس سے گزرتا اور اس کے پاس بیٹھ جاتا۔ جب وہ جادوگر کے پاس آتا تو وہ اسے مارتا تو وہ اس کی شکایت راہب کے پاس کرتا راہب نے کہا کہ جب تمہیں جادوگر کا ڈرہو تو کہو کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب اپنے گھر والوں کا ڈر ہو تو کہو کہ مجھے جادو گر نے روک لیا تھا۔ وہ اسی حالت میں تھا کہ وہ ایک بہت بڑے جانورکے پاس آیا جس نے لوگوں کو روک رکھا تھا۔ اس نے کہا کہ آج مجھے پتہ لگ جائے گا کہ جادوگر زیادہ فضیلت والا ہے یا راہب اس نے ایک پتھر لیا اور کہا اے اللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا معاملہ جادو گر کے معاملہ سے زیادہ محبوب ہے تو اس جانورکو مار دے۔ تاکہ لوگ گزر سکیں۔ پھر اس نے وہ پتھر پھینکا اور اسے قتل کردیا، اور لوگ گزر گئے۔ پھر وہ راہب کے پاس آیا اور اسے بتایا تو راہب نے اسے کہا اے میرے پیارے بیٹے آج سے تو مجھ سے افضل ہے۔ تیرا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ عنقریب تیری آزمائش کی جائے گی۔ پس جب تجھے آزمایا جائے تو میرا پتہ نہ دینا اور وہ لڑکا اندھوں اور مبروصوں کو ٹھیک کرتا تھا اور لوگوں کی تمام بیماریوں کا علاج کرتا تھا۔ بادشاہ کے ایک مصاحب نے جو اندھا ہوگیا تھا سنا تو وہ اس کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیا اور کہا کہ اگر تو مجھے شفا دے دے تو جو کچھ یہاں ہے سب تیرا ہوگا۔ اس نے کہا میں کسی کو شفاء نہیں دیتا شفاء تو صرف اللہ دیتا ہے۔ پس اگر تو اللہ پر ایمان لاتا ہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں اور وہ تجھے شفا دے گا۔ وہ اللہ پر ایمان لایااور اللہ نے اسے شفا دے دی۔ پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور جیسے بیٹھا کرتا تھا اس کے پاس بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے اسے کہا کہ تمہاری نظر تمہیں کس نے لوٹائی ہے؟ اس نے کہا میرے رب نے اس نے کہا کیا میرے علاوہ بھی تمہارا رب ہے؟ اس نے کہا میرا اور تیرا رب اللہ ہے پس اس نے اسے پکڑا اور عذاب دینے لگا یہانتک کہ اس نے اس لڑکے کا بتادیا۔ لڑکے کو لایا گیا بادشاہ نے اسے کہا اے میرے بیٹے تیرا تو جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اندھوں اور مبروصوں کو اچھا کردیتا ہے تو یہ کرتا ہے یہ کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا شفا تو اللہ دیتا ہے۔ اس نے اسے پکڑا اور عذاب دینے لگا یہانتک کہ اس نے راہب کا پتہ بتادیا۔ راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤمگر اس نے انکار کیا۔ اس نے آرہ منگوایا اور اس کے سر کی مانگ پر رکھا اور اسے چیر دیا اور اس (راہب) کے دونوں ٹکڑے گر گئے پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا اور اسے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤمگر اس نے انکار کیا اور آرہ اس کے سر کی مانگ پر رکھ دیا اور اسے اس کے ساتھ چیر دیا یہاں تک کہ اس کے دونوں ٹکڑے گرگئے۔ پھر لڑکے کو لایا گیااور اسے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ لیکن اس نے انکار کردیا۔ اس نے اسے اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے سپرد کردیا اور کہا کہ اسے فلاں فلاں پہاڑ کی طرف لے جاؤ اور پہاڑ پر چڑھاؤجب تم اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاؤ پھر اگر یہ اپنے دین سے لوٹ آئے (تو ٹھیک) ورنہ اسے نیچے پھینک دو۔ پس وہ اسے لے گئے اور اسے لے کر پہاڑ پر چڑھے اس پر اس (لڑکے) نے کہا کہ اے اللہ تو جس طرح چاہے ان کے مقابل میں میرے لئے کافی ہوجا۔ پہاڑہلنے لگا اور وہ گر گئے۔ وہ (لڑکا) بادشاہ کے پاس چل کر آیا تو بادشاہ نے اسے کہا کہ تمہارے ساتھیوں کا ساتھ کیا ہوا اس نے کہا کہ اللہ ان کے مقابل پر میرے لئے کافی ہوگیاپھراس نے اسے اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے سپرد کیا اور کہا کہ اسے لے جاؤ اور ایک کشتی میں سوار کرو اور سمندر کے درمیان میں لے جاؤ اگر تو یہ اپنے دین سے پھر جائے (تو ٹھیک) ورنہ اس میں پھینک دو۔ جب وہ اسے لے گئے تو اس نے کہا کہ اے اللہ! توجس طرح چاہے ان کے مقابل میں میرے لئے کافی ہوجا۔ کشتی الٹ گئی اور وہ غرق ہوگئے۔ وہ(لڑکا) بادشاہ کے پاس چل کر آیا تو بادشاہ نے اسے کہا تمہارے ساتھیوں کے ساتھ کیا ہوا اس نے کہا کہ اللہ میرے لئے ان کے مقابل پرکافی ہوگیا اور اس نے کہا کہ تم مجھے نہیں مار سکتے یہانتک کہ تم وہ کرو جو میں تمہیں کہتاہوں اس نے کہا وہ کیا؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو اور ایک تنے پر مجھے لٹکاؤ۔ پھر میرے ترکش سے تیر لو اور اس تیر کو کمان کے اندر رکھو اور کہو اللہ کے نام کے ساتھ جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم ایسا کرو گے تو مجھے مارسکو گے۔ چنانچہ اس نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور ایک تنے پر اسے لٹکایاپھر اس کے ترکش سے ایک تیر لیا اور تیر کو کمان میں رکھا اور کہا اللہ کے نام کے ساتھ جو اس لڑکے کا رب ہے پھر اسے تیر مارا تو تیر اس کی کن پٹی پر لگا اس نے اپنے ہاتھ کو اپنی کن پٹی پر تیر کی جگہ پر رکھا اور مر گیا لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور اسے کہادیکھو اللہ کی قسم! جو تمہارا ڈر تھا وہی تم پر نازل ہوگیا۔ لوگ ایمان لے آئے ہیں۔ اس (بادشاہ) نے راستوں کے سِروں پَر کھائی کھودنے کا حکم دیا چنانچہ کھائیاں کھودی گئیں اور اس نے آگیں بھڑکائیں اور اس نے کہا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے، اسے اس میں جلا دو یا یہ کہا گیا کہ اسے کہو کہ آگ میں داخل ہوجائے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا یہانتک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا وہ پیچھے ہٹی مبادا اس میں گر جائے۔ بچے نے اسے کہا کہ اے میری ماں صبر کر یقینا تو حق پر ہے۔
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد انصار کے ایک قبیلہ میں قبل اس کے کہ وہ فوت ہوجائیں (ان سے)تحصیل علم کے لئے نکلے۔ اور سب سے پہلے ہم رسول اللہﷺ کے ایک صحابی ابوالیسرؓ سے ملے۔ ان کے ساتھ ان کا ایک غلام تھا جس کے پاس کتابوں کا ایک بستہ تھااور ابولیسرؓ پر ایک چادر اور ایک معافری ٭کپڑا تھا اور ان کے غلام پر بھی ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا۔ میرے باپ نے ان سے کہا اے چچا میں آپ کے چہرے پر رنج کے آثار دیکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا ہاں بنو حرام کے فلاں بن فلاں کے ذمہ میرا مال تھا میں اس کے ہاں گیا میں نے سلام کیا اور پوچھا کہ وہ یہاں ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر اس کا بیٹا جو بلوغت کے قریب تھا میرے پاس آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا اس نے آپ کی آواز سنی اور میری ماں کے چھپر کھٹ میں گھس گیا۔ میں نے کہا میرے پاس باہر آ!کیونکہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تو کہاں ہے۔ چنانچہ وہ باہر آیاتو میں نے کہا تم کیوں مجھ سے چھپے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اللہ کی قسم میں ڈرا کہ تمہیں بتاؤں اور تم سے جھوٹ بولوں اور تم سے وعدہ کروں اور پھر وعدہ خلافی کروں اور آپ تو رسول اللہﷺ کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں محتاج ہوں۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔ میں نے کہا اللہ کی قسم؟اس نے کہا اللہ کی قسم۔ میں نے کہا اللہ کی قسم؟ اس نے کہا اللہ کی قسم۔ (راوی) کہتے ہیں پھر وہ (ابوالیسرؓ )اپنی تحریر لے کرآئے اور اپنے ہاتھ سے اسے مٹادیا اور کہا اگر تمہیں ادا ئیگی کی توفیق ملے تو مجھے ادا کردینا ورنہ تم آزاد ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں - میراان دو آنکھوں کی بصارت- انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں - اور میری ان دو کانوں کی شنوائی - اور میرے دل نے اسے یاد رکھا اور انہوں نے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا- (میں گواہی دیتا ہوں ) میں رسول اللہﷺ کو دیکھ رہا ہوں آپؐ فرمارہے تھے جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا تمام (مالی)بوجھ اتاردیا اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا اے چچا ! اگر تم اپنے غلا م کی چادر لے لیتے اور اپنا کپڑا معافری اسے دے دیتے یا اس کا کپڑا معافری لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے تو آپؐ پر بھی پورا جوڑا ہو جاتا اور اس پر بھی پورا جوڑاہوجاتا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا اے اللہ!اس کوبرکت دے۔ اے میرے بھتیجے! میری ان دو آنکھوں نے دیکھا اور ان دو کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اور انہوں نے اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا- رسول اللہﷺ نے فرمایا انہیں کھلاؤ جس میں سے تم کھاتے ہو اور انہیں وہ پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور یہ بات مجھ پر زیادہ آسان ہے کہ میں اسے (اس) دنیا کے مال ومتاع میں سے دوں بہ نسبت اس بات کے کہ قیامت کے روز وہ میری نیکیوں میں سے لے لے۔ پھر ہم چلے یہانتک کہ حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی مسجد میں ان کے پاس پہنچے وہ ایک چادرلپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کے اوپر سے گزرتا ہوا ان کے اور قبلہ کے درمیان جا بیٹھا۔ میں نے کہا اللہ آپ پر رحم کرے کیا آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کی چادر آپ کے پہلو میں ہے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے میرے سینہ پر اس طرح اشارہ کیا کہ انگلیوں میں فاصلہ دیااور ان کو خم دیا(اور کہا)میں چاہتا تھا کہ تم جیسا بے وقوف میرے پاس آئے اور دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور وہ بھی ایسا ہی کرے۔ رسول اللہﷺ ہمارے پاس ہماری اس مسجد میں تشریف لائے تھے اور آپؐ کے ہاتھ میں ابن طاب (کھجور) کی ایک ٹہنی تھی۔ آپؐ نے مسجد کے قبلہ میں رینٹھ دیکھی تو اسے کھجور کی ٹہنی سے کھرچ دیا پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میں سے کون چاہتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ڈرگئے پھر آپؐ نے فرمایا تم میں سے کون چاہتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے؟ہم ڈرگئے آپؐ نے پھر فرمایا تم میں سے کون چاہتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے۔ ہم نے کہا ہم میں سے کوئی نہیں (چاہتا) یا رسولؐ اللہ !آپؐ نے فرمایاتم میں جب کوئی کھڑا نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے۔ پس وہ اپنے چہرہ کے سامنے نہ تھوکے اور نہ اپنے دائیں اور اسے چاہئے کہ وہ اپنے بائیں طرف تھوکے اپنے بائیں پاؤں کے نیچے۔ اگراس کو جلدی ہو تو وہ اسے اپنے کپڑے میں اس طرح لے_آپؐ نے اپنے کپڑے کے ایک حصہ کو دوسرے پر تہہ کیا_ اور آپؐ نے فرمایا مجھے خوشبو دوتو قبیلہ کا ایک شخص اپنے گھر والوں کی طرف اٹھ کرتیزی سے گیااور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا رسول اللہﷺ نے اسے لیا اور اس ٹہنی کے سرے پر اسے لگایا۔ پھر اسے رینٹھ کے نشان پر لگادیا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں پس اسی وجہ سے تم اپنی مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ بطن بواط کی لڑائی میں چلے اور آپؐ مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے۔ ایک ایک اونٹ پر ہم میں سے پانچ، چھ، یاسات افرادباری باری سوار ہوتے تھے۔ اونٹ پر بیٹھنے کی انصار میں سے ایک شخص کی باری آئی۔ اس نے اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا۔ پھر اسے اٹھایا لیکن اس نے اڑی کی۔ اس نے اسے ڈانٹ کر کہا تجھ پہ اللہ کی لعنت ہو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ اپنے اونٹ پرلعنت کرنے والا کون ہے؟ اس نے کہا میں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا اس سے اتر آؤ، ملعون لے کر ہمارے ساتھ نہ رہو، تم میں سے کوئی اپنے لئے بد دعا نہ کرے اپنی اولاد کے لئے بد دعا نہ کرے اور اپنے اموال کے لئے بددعا نہ کرے مباداتم اللہ سے اس گھڑی میں موافقت کر بیٹھو جس میں اللہ سے عطا مانگی جاتی ہے اور وہ تمہاری دعا قبول کرے۔ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ چلے یہانتک کہ جب کچھ شام ہوگئی ہم عرب کے پانیوں میں سے ایک پانی کے پاس پہنچے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کون شخص ہم سے آگے جاکر حوض کو ٹھیک کرے اور خود بھی پئے اور ہمیں بھی پلائے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور عرض کیا یہ شخص یا رسولؐ اللہ! تو رسول اللہﷺ نے فرمایا جابر کے ساتھ کون شخص؟ جبار بن صخرؓ کھڑے ہوئے پھر ہم کنویں کی طرف گئے اور (کنویں ) سے ایک یا دو ڈول نکال کر حوض میں ڈالے پھر ہم نے اسے ٹھیک کیا پھر ہم نے پانی نکال کراس میں ڈالایہانتک کہ اسے منہ تک بھر دیا۔ سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لانے والے رسول اللہﷺ تھے اور فرمایا کیا تم دونوں اجازت دیتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسولؐ اللہ! پھر آپؐ اپنی اونٹنی کو پانی تک لے گئے تو اس نے پانی پیا۔ آپؐ نے اس کی لگام کھینچی اور اس نے ٹانگیں کھولیں اور پیشاب کیا۔ پھر رسول اللہﷺ اسے علیحدہ لے گئے اور اس کو بٹھا دیا پھر رسول اللہﷺ حوض کی طرف تشریف لائے اور اس سے وضوء کیا پھر میں کھڑا ہوا اور رسول اللہﷺ کے وضوء کی جگہ پر وضوء کیا۔ حضرت جبارؓ بن صخر قضاء حاجت کے لئے چلے گئے۔ رسول اللہﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے مجھ پر ایک چادر تھی میں اس کے کناروں کو الٹنے لگا۔ وہ مجھ پر پوری نہ آتی تھی اس پر پھندنے لگے ہوئے تھے میں نے اسے الٹایا پھر اس کے دونوں کنارے الٹے اپنی گردن کے ساتھ باندھا پھر میں آیا اور رسول اللہﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر اپنے دائیں طرف کھڑا کر دیا۔ پھر حضرت جبارؓ بن صخر آئے اور انہوں نے وضوء کیا اور آکر رسول اللہﷺ کے بائیں طرف کھڑے ہوگئے۔ حضورؐ نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ہمیں ہٹایا یہانتک کہ آپؐ نے ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کردیا پھر رسول اللہﷺ مجھے غور سے دیکھنے لگے اور مجھے پتہ نہیں چلا۔ پھر مجھے اس کے بارہ میں پتہ چلا تو آپؐ نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر کے فرمایا اس طرح اپنی کمر کو باندھ لو۔ جب رسول اللہﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا اے جابر! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا جب (چادر) بڑی ہو تو اس کے کنارے الٹ لو اور اگر چادر چھوٹی ہو تو اسے اپنی کمر پرباندھ لو۔ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ چلے اور ہم میں سے ہر شخص کے لئے روزانہ ایک کھجور غذا تھی وہ اسے چوستا تھا پھر وہ اسے چوس کر اپنے کپڑے میں باندھ لیتا تھا۔ پھر ہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور ہم کھاتے یہانتک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ ہم میں سے ایک آدمی اس(کھجور) سے رہ گیا ہم اس کو اٹھا کر لے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اس کو یہ (کھجور) نہیں دی گئی پھراس کو کھجور دی گئی اور اس نے لے لی۔ پھر ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ چلے یہانتک کہ ہم نے ایک وسیع وادی میں پڑاؤ کیا۔ رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں پانی کا چھاگل لے کر آپؐ کے پیچھے چلا۔ رسول اللہﷺ نے اوٹ کے لئے کوئی چیز نہ پائی۔ وادی کے کنارے پر دو درخت تھے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے ایک درخت کے پاس گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑی اور کہا اللہ کے حکم سے میری پیروی کرو۔ وہ(درخت) آپؐ کے ساتھ چلا جیسے نکیل والا اونٹ اپنے مالک کا تابع فرمان ہوجاتا ہے پھر آپؐ دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ٹہنی پکڑی اور اسے کہا اللہ کے حکم سے میری پیروی کرو۔ اس نے بھی اس طرح کیایہانتک کہ جب آپؐ دونوں درختوں کے درمیان پہنچے تو ان دونوں کو ایک جگہ لے آئے اور فرمایا اللہ کے حکم سے میرے سامنے ایک دوسرے سے پیوست ہوجاؤ۔ پس وہ دونوں اکٹھے ہوگئے حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں وہاں سے اس خوف سے نکلا کہ کہیں رسول اللہﷺ میری قربت کو محسوس کرتے ہوئے دور نہ نکل جائیں۔ محمد بن عبادکی روایت میں فَیَبْتَعِدَ کی بجائے فَیَتَبَعَّدَ کا لفظ ہے۔ میں بیٹھ کر خود کلامی کرنے لگا۔ ایک دَم جو میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ سامنے سے آرہے ہیں اور دونوں درخت علیحدہ ہوکر اپنی جگہ پر تھے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ کچھ دیر ٹھہرے۔ آپؐ نے اپنے سر سے اشارہ کیا -اور ابو اسماعیل نے اپنے سر سے دائیں اور بائیں اشارہ کر کے بتایا - پھرآپؐ تشریف لائے۔ جب میرے پاس پہنچے تو فرمایا اے جابر! کیا تونے میری جگہ دیکھی ہے جہاں میں کھڑاتھا؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی کاٹو اور لے آؤ یہانتک کہ تم میرے کھڑے ہونے کی جگہ کھڑے ہو تو ایک ٹہنی اپنے دائیں ہاتھ رکھواور ایک اپنے بائیں۔ جابرؓ کہتے ہیں میں اٹھا ایک پتھر لیا اسے توڑا اور تیز کیا جب وہ میرے کام کے لئے تیز ہو گیا۔ ان درختوں کے پاس آیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک ٹہنی کاٹی پھر ان کو گھسیٹتے ہوئے آیا یہانتک کہ میں رسول اللہﷺ جہاں کھڑے ہوئے تھے وہاں کھڑا ہوا اور میں نے ایک ٹہنی اپنے دائیں اور ایک ٹہنی اپنے بائیں رکھ دی پھر میں آپؐ سے جا ملا اور عرض کیا میں نے تعمیل کر دی ہے یا رسولؐ اللہ ! لیکن اس کی وجہ کیاہے؟آپؐ نے فرمایا میں دو قبروں کے پاس سے گذرا جنہیں عذاب دیا جارہا تھا۔ میں نے چا ہا کہ میں اپنی شفاعت کے ذریعہ جب تک یہ شاخیں ہری رہیں ان کے عذاب کو دورکردوں۔ وہ کہتے ہیں پھرہم لشکر میں آئے رسول اللہﷺ نے فرمایا اے جابر ! وضوء کے لئے اعلان کردو، میں نے کہا سنو ! وضوء کرو ! وضوء ! وضوء ! وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے قافلہ میں پانی کا قطرہ بھی نہیں پایا اور انصار میں سے ایک شخص رسول اللہﷺ کے لئے اپنے مشکیزوں میں ٹہنیوں کے ایک سٹینڈ پر ٹھنڈا کیا کرتا تھا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ فلاں بن فلاں انصاری کی طرف جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کی مشک میں کچھ ہے؟ وہ کہتے ہیں میں اس کی طرف گیا اور اس میں دیکھا تو اس کے مشکیزوں میں سے ایک کے منہ میں ایک قطرہ تھا۔ اگر میں اُسے انڈیلتاتو اس کی خشک جگہ اسے پی جاتی۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! اس مشک کے منہ میں مَیں نے صرف ایک قطرہ پانی پایا ہے۔ اگر میں اسے انڈیلوں تو اس کا خشک حصہ اسے پی جائے گا آپؐ نے فرمایا جاؤ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپؐ کے پاس لایا۔ آپؐ نے اسے ہا تھ میں پکڑا اور کچھ کہنے لگے۔ مجھے نہیں پتہ کیا فرمایا۔ آپؐ اسے اپنے ہاتھوں سے دباتے جاتے تھے پھر آپؐ نے مجھے وہ دیا اور فرمایا اے جابر! ایک بڑے ٹب کے لئے آواز دو۔ میں نے کہاقافلہ کا ٹب! وہ میرے پا س اٹھا کر لایا گیا تو میں نے اسے آپؐ کے سامنے رکھ دیا۔ رسول اللہﷺ نے ٹب میں اس طرح ہاتھ اٹھایا اور اسے پھیلایا اور اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا پھر اسے ٹب کی تہہ میں رکھ دیا اور فرمایا اے جابر ! لو اور میرے (ہاتھ پر) انڈیلو اور بسم اللہ پڑھو۔ میں نے اسے آپؐ (کے ہاتھ)پر انڈیلا اور بسم اللہ پڑھی کر میں نے پانی کو دیکھا کہ آپؐ کی انگلیوں کے درمیان پانی (چشمہ کی طرح) جوش مارنے لگاپھر ٹب گھومنے لگا اور (پانی) گھومنے لگایہانتک کہ وہ بھر گیا۔ آپؐ نے فرمایا اے جابر!ہراس شخص کو پکارو جسے پانی کی ضرورت ہے وہ کہتے ہیں لوگ آئے انہوں نے پانی پیا یہانتک کہ وہ سیر ہوگئے وہ کہتے ہیں میں نے کہا کیا کوئی اور ضرورت مند باقی ہے؟ پھر رسول اللہﷺ نے لگن سے اپنا ہاتھ نکالا اور وہ بھرا ہو اتھا پھر لوگوں نے رسول اللہﷺ سے بھوک کی شکایت کی آپؐ نے فرمایا قریب ہے کہ اللہ تمہیں کھانا کھلائے ہم سمندر کے کنارے آئے تو سمندر کی لہر بلند ہوئی اور ایک جانور باہر پھینکا ہم نے اس کے ایک حصہ پر آگ جلائی اور پکایا اور بھونا اور ہم نے کھایا یہانتک کہ ہم سیر ہوگئے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں میں اور فلاں اور فلاں یہانتک کہ انہوں نے پانچ افراد کاشمار کیا اس کی آنکھ کے گڑھے میں داخل ہوئے اور ہمیں کوئی نہیں دیکھتا تھا یہانتک کہ ہم نکلے اور ہم نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی پھر ہم نے اس کی قوس بنائی اور قافلہ کے سب سے بڑے آدمی اور سب سے بڑے اونٹ اور زین منگوائی وہ اس کے نیچے گیا اور اس نے اپنا سر نہیں جھکایا
حضرت براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ میرے والد کے پاس ان کے گھر میں آئے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا اور عازبؓ سے کہا کہ میرے ساتھ اپنے بیٹے کو بھیجو کہ میرے ساتھ اسے میرے گھر تک اٹھا کر لے جائے میرے والدنے مجھے کہا کہ اسے اٹھا ؤ میں نے اسے اٹھا لیا اور میرے والد بھی ان کے ساتھ اس کی قیمت لینے کے لئے چل پڑے میرے والدنے ان سے کہا اے ابو بکرؓ مجھے یہ بتائیں کہ آپ جب رسول اللہﷺ کے ساتھ رات کو سفر پر نکلے توآپ دونوں نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہم ساری رات چلتے رہے یہانتک کہ دوپہر ہوگئی اور راستہ خالی ہوگیا اور اس راستہ میں کوئی چلنے والا نہ رہا یہانتک کہ ایک بلند چٹان ہمارے سامنے آئی اس کا سایہ تھا ابھی اس پر دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم اس کے قریب اُترے۔ میں اس پتھر کے پاس آیا اور اپنے ہاتھ سے ایک جگہ کو برابر کیا جہاں نبیﷺ اس کے سائے میں سو جائیں اور میں نے اپنی فر(fur) کی چادر بچھادی اور عرض کی یا رسولؐ اللہ! آپؐ سوجائیں، میں آپؐ کا پہرہ دیتا ہوں چنانچہ آپؐ سوگئے۔ میں آپؐ کے پہرہ کے لئے نکلا تو میں نے سامنے سے ایک چرواہے کو اپنی بکریوں کے ساتھ اس چٹان کی طرف آتے دیکھا اس کا بھی وہی مقصد تھا جو ہمارا تھا۔ میں اسے ملا اور کہا کہ اے لڑکے تم کس کے (ملازم) ہو؟ اس نے کہا کہ اہلِ (مدینہ) میں سے ایک شخص کا۔ میں نے کہا کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تم میرے لئے دودھ دوہو گے؟ اس نے کہا ہاں اس نے بکری لی میں نے کہا کہ اس کے تھن سے بال، مٹی اور گندگی جھاڑ دو- راوی کہتے ہیں کہ میں نے براء کو دیکھا کہ وہ اپنا ہاتھ دوسرے پر ماررہے تھے-اس نے ایک برتن میں کچھ دودھ دوہا۔ وہ کہتے ہیں میرے پاس ایک چھاگل تھی جس میں میں نبیﷺ کے لئے پانی رکھتا تھا تاکہ آپؐ اسے پیئیں اور وضوء کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس آیا لیکن میں آپؐ کو نیند سے جگا نا پسندنہ کرتا تھا مگر جب میں آپؐ کے پاس گیا تو آپؐ جاگ گئے تھے۔ میں نے دودھ پر کچھ پانی ڈالا یہانتک کہ اس کا نچلا حصہ(بھی) ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس دودھ سے پی لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپؐ نے پیا یہانتک کہ میں خوش ہوگیا پھر آپؐ نے فرمایا کیا چلنے کا وقت نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا جی حضور۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سورج کے زوال کے بعد چلے اور سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا ہم سخت زمین پر تھے میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم تک پہنچ گئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک دھنس گیا۔ اس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں نے مجھے بد دعا دی ہے اس لئے میرے لئے دعا کریں اللہ کے نام کا یہ وعدہ ہے کہ میں تعاقب کرنے والوں کو آپ دونوں سے واپس کردوں گا کیونکہ اللہ تم دونوں کے ساتھ ہے۔ پھر آپؐ نے دعاکی تواسے نجات ملی۔ وہ واپس لوٹ گیا اور جس سے بھی وہ ملتا تو وہ کہتا کہ میں تمہارے لئے کافی ہوں یہاں نہیں ہیں اس طرح جس سے بھی وہ ملتا اسے لوٹادیتا۔ وہ (حضرت ابو بکرؓ ) کہتے ہیں اس نے ہم سے وفا کی۔ ایک روایت میں (جَائَ اَبُوْ بَکْرِالصِّدِّیْقِ اِلیَ فِی مَنْزِلِہِکی بجائے) اِشْتَرَی اَبُوْ بَکْرٍ مِنْ اَبِیْ رَحْلًا بِثَلَاثَۃَ عَشَرَدِرْھَمًاکے الفاظ ہیں مگر اس میں یہ بھی ہے کہ جب وہ قریب ہوا تو رسول اللہﷺ نے اسے بد دعا دی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک دھنس گیا اور وہ اس سے کود گیا اور کہا کہ اے محمدؐ ! مجھے پتہ چل گیا ہے کہ یہ آپؐ کا کام ہے، آپؐ میرے لئے اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس حالت سے جس میں میں ہوں نجات دے اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے پچھلوں پر اس بات کو اندھیرے میں رکھوں گا یہ میرا ترکش ہے اس میں سے ایک تیر لیں آپؐ فلاں فلاں جگہ سے میرے اونٹوں اور غلاموں کے پاس سے گزریں گے جو آپ کی ضرورت ہو وہ لے لینا۔ آپؐ نے فرمایا مجھے تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہم رات کو مدینہ آئے تو لوگ آپس میں بحث کرنے لگے کہ ان میں سے کون ہے جس کے ہاں رسول اللہﷺ قیام فرمائیں گے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ میں عبد المطلب کے ننہال بنی نجار کے ہاں قیام کروں گا۔ اسی طرح میں ان کا احترام کروں گا۔ مرد اور عورتیں گھروں کے اوپر چڑھ گئے اور بچے اور خادم راستوں میں پھیل گئے وہ یا محمدؐ یا رسولؐ اللہ !یا محمدؐ یا رسولؐ اللہ! پکارتے تھے۔