بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ کو سلام کیا اور کہا اے ابو القاسم !السَّامُ عَلَیْکَ(تجھ پر ہلاکت ہو)آپؐ نے فرمایا وَعَلَیْکُمْ اور تم پر بھی۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا _انہیں غصہ آگیا تھا_ کیا آپؐ نے ان کی بات نہیں سنی؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں، سنی ہے اور انہیں جواب دے دیا ہے۔ ہماری دعا ان کے خلاف سنی جاتی ہے اور ان کی ہمارے خلاف نہیں سنی جاتی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
لیث بن سعد کہتے ہیں اَلْحَمْوُ (سے مراد) خاوند کا بھائی اور اس جیسے قریبی رشتہ دار ہیں جیسے چچا زاد بھائی اور اس قسم کے دوسرے رشتہ دار۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم یہود اور عیسائیوں کو سلام میں ابتداء نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستہ میں ملو تو اسے راستہ کے ایک طرف ہونے پر مجبور کردو۔ ایک اور روایت میں (فَإِذَا لَقِیتُمْ أَحَدَہُمْ فِی طَرِیقٍ کی بجائے) إِذَا لَقِیتُمْ الْیَہُودَ کے الفاظ ہیں اور ایک اور روایت میں إِذَا لَقِیتُمُوہُمْ کے الفاظ ہیں مگر کسی روایت میں بھی مِنَ الْمُشْرِکِینَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیّار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ثابت بُنانی کے ساتھ جا رہا تھا۔ وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں سلام کہا اور ثابت نے بتایا کہ وہ حضرت انسؓ کے ساتھ جا رہے تھے۔ وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں سلام کہا اور حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ جا رہے تھے۔ آپؐ بچوں کے پاس سے گزرے توآپؐ نے انہیں سلام کہا۔
حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارے میرے پاس آنے کی اجازت کی یہ علامت ہے کہ پردہ اٹھایا جاوے اور تم میری آہستہ آواز سن لو سوائے اس کے کہ میں تمہیں منع کردوں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہؓ پردہ کا حکم ہونے کے بعد حاجتِ ضروریہ کے لئے باہر نکلیں۔ وہ جسیم خاتون تھیں جو دوسری عورتوں سے قامت کی وجہ سے نمایاں تھیں۔ جو انہیں جانتا تھا وہ اس سے مخفی نہ رہ سکتی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے انہیں دیکھا اور کہا اللہ کی قسم اے سودہؓ !آپؓ ہم سے چھپ نہیں سکتیں۔ دیکھیں آپؓ کیسے باہر جاتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں وہ واپس لوٹ گئیں اور رسول اللہﷺ میرے گھر میں تھے اور آپؐ رات کا کھانا تناول فرمارہے تھے اور آپؐ کے دست مبارک میں گوشت والی ہڈی تھی۔ وہ اندر داخل ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسولؐ اللہ!میں گھر سے نکلی تو عمرؓ نے مجھے یہ یہ کہا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں آپؐ پر وحی نازل ہوئی پھر آپؐ سے وہ حالت جاتی رہی اور ہڈی آپؐ کے ہاتھ میں تھی آپؐ نے اُسے رکھا نہیں تھا۔ آپؐ نے فرمایا تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضرورت کے لئے گھر سے باہر نکل سکتی ہو۔ایک اور روایت میں (تَفْرَعُ النِّسَاء َ کی بجائے) یَفْرَعُ النِّسَاء َکے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں کَانَتِ امْرَأَۃً یَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُہَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات رات کے وقت مدینہ کی مناصع کی طرف قضائے حاجت کے لئے نکلتی تھیں اور حضرت عمرؓ بن خطاب رسول اللہﷺ سے کہا کرتے کہ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں۔ رسول اللہﷺ ایسا نہ کرتے۔ ایک رات نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت سودہؓ بنت زمعہ عشاء کے وقت باہر نکلیں۔ وہ لمبے قد کی خاتون تھیں۔ انہیں حضرت عمرؓ نے آواز دی اور کہا اے سودہؓ !ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ یہ امید کرتے ہوئے کہ شاید پردے کا حکم نازل ہوجائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں تو اللہ عزوجل نے پردے کا حکم نازل فرمایا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا خبردار!کوئی شخص کسی بیوہ کے پاس (اکیلے)رات نہ گزارے سوائے اس کے کہ اس نے اس سے نکاح کیا ہوا ہو یاوہ محرم ہو۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عورتوں کے ہاں جانے سے بچو۔ انصارؓ میں سے ایک شخص نے کہایا رسولؐ اللہ! دیور کے بارہ میں کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا دیور تو موت ہے۔