بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں بنی زریق کے یہود میں سے ایک یہودی نے جس کا نام لبید بن اعصم تھا رسول اللہﷺ پرجادو کرنے کی کوشش کی۔ وہ فرماتی ہیں ہوا یوں کہ رسول اللہﷺ کو گمان ہوتا کہ آپؐ فلاں کام کریں گے مگر وہ نہ کرتے۔ ایک دن یا ایک رات رسول اللہﷺ نے دعا کی پھر دعا کی پھر دعا کی پھر آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ !کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے جو میں نے اس سے پوچھا۔ میرے پاس دو شخص آئے۔ ان دونوں میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ اس نے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس سے جو میرے پاؤں کے پاس بیٹھا تھا یا اس نے جو میرے پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس سے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا پوچھا ان کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا آپؐ بیمار ہیں۔ اس نے کہا کس نے یہ کاروائی کی ہے؟ اس نے کہا لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا کس چیز میں جادوکیا ہے؟اس نے کہاکنگھی اور کنگھی کرنے کی وجہ سے گرنے والے بالوں میں اور نَر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں۔ اس نے کہا وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا بنی اروان کے کنویں میں۔ وہ(حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں رسول اللہﷺ اپنے چند صحابہؓ کے ساتھ اس (کنویں )کے پاس گئے۔ پھر فرمایا اے عائشہؓ !بخدا! اس کا پانی مہندی رنگا تھا اور اس کے کھجور کے درخت ایسے تھے گویا سانپ کے سر ہوں۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں میں نے کہایا رسولؐ اللہ!ﷺ آپؐ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ مجھے تو اللہ نے شفاء دے دی اور میں نے ناپسند کیا کہ لوگوں میں شر بھڑکاؤں۔ اس لئے میں نے حکم دیا تو اسے زمین میں دبا دیا گیا۔ ایک اور روایت میں (سَحَرَ کی بجائے) سُحِرَ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں یہ بھی ہے رسول اللہﷺ اس کنویں کی طرف گئے اور اس میں دیکھا اور اس پر کھجور کا درخت تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!آپؐ اسے نکال پھینکیں مگر اس روایت میں أَفَلَا أَحْرَقْتَہُ اور فَأَمَرْتُ بِہَا فَدُفِنَتْ کے الفاظ نہیں ہیں۔
عبدالرحمان بن اسود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہیں میں نے حضرت عائشہؓ سے دم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا رسول اللہ
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے انصارؓ کے ایک گھرانے کو ڈنگ کی وجہ سے دم کرنے کی اجازت دی تھی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہﷺ کے پاس زہر ملا بکری کا گوشت لائی۔ آپؐ نے اس میں سے کچھ کھالیا۔ پھر عورت کوآپؐ کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے اس عورت سے اس کے بارہ میں پوچھا۔ اس (عورت) نے کہا میرا ارادہ آپؐ کو قتل کرنے کا تھا۔ آپؐ نے فرمایا یہ ہو نہیں سکتا تھاکہ اللہ تمہیں اس کی طاقت دے یا فرمایامجھ پر۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے کہا کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ راوی کہتے ہیں میں اس کا اثر رسول اللہﷺ کے گلے میں محسوس کرتا تھا۔ ایک اور روایت میں (أَنَّ امْرَأَۃً یَہُودِیَّۃً أَتَتْ رَسُولَ اللَّہِﷺ بِشَاۃٍ مَسْمُومَۃٍ کی بجائے) أَنَّ یَہُودِیَّۃً جَعَلَتْ سَمًّا فِی لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِہِ رَسُولَ اللَّہِﷺ کے الفاظ ہیں کہ ایک یہودیہ نے گوشت میں زہر ڈال دیا پھر رسول اللہﷺ کے پاس لائی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہو تا تو رسول اللہﷺ اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے اور دعا کرتے۔ اے لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما اور شفاء بخش کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے۔ ایسی شفا ء جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔ جب رسول اللہﷺ بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کر گئی۔ میں نے آپؐ کا ہاتھ پکڑا تاکہ میں آپؐ کو ویسے ہی دم کروں جیسے آپؐ کیا کرتے تھے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑایا اور پھر دعا کی۔ اے اللہ !مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کی مصاحبت عطا کر۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے آپؐ کو دیکھنے لگی تودیکھاکہ آپؐ وفات پا چکے تھے۔ایک اور روایت میں (مَسَحَہُ بِیَمِینِہِ کی بجائے) مَسَحَہُ بِیَدِہِ کے الفاظ ہیں کہ آپؐ اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے تھے۔)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو دعاکرتے اے لوگوں کے رب !تو بیماری کو دور کردے۔ تو اسے شفاء دے کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے۔ ایسی شفاء دے جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تو اس کے لئے دعا کرتے ہوئے کہتے اے لوگوں کے رب!تو اس بیماری کو دور کردے اور تو شفاء دے کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے۔ ایسی شفاء عطا فرما جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ یہ دم کیا کرتے تھے اے لوگوں کے رب!تو بیماری کو دور کر دے کہ تیرے ہاتھ میں شفاء ہے تیرے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں جب رسول اللہﷺ کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپؐ اس پر مُعَوِّذات پڑھ کر پھونک مارتے۔ جب آپؐ بیمار ہوئے اس بیماری سے جس میں آپؐ کی وفات ہوئی۔ میں آپؐ پر پھونکتی تھی اور آپؐ پر آپؐ کا ہی ہاتھ پھیرتی تھی کیونکہ وہ میرے ہاتھ کی نسبت زیادہ برکت والا تھا۔ایک اور روایت میں (بِالْمُعَوِّذَاتِ کی بجائے) بِمُعَوِّذَاتٍ کے الفاظ ہیں ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب بیمار ہوئے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔ جب آپؐ کیبیماری زیادہ ہوئی تو میں آپؐ پر پڑھتی تھی اور آپؐ پرآپؐ کا ہی ہاتھ برکت کی امید سے پھیرتی تھی۔ ایک اور روایت میں (یَقْرَأُ عَلَی نَفْسِہِکی بجائے) نَفَثَ عَلَی نَفْسِہِ کے الفاظ ہیں اور (أَمْسَحُ عَنْہُ بِیَدِہِکی بجائے) مَسَحَ عَنْہُ بِیَدِہِ کے الفاظ ہیں۔