بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی بیماری ہوتی یااس کو پھوڑا یا زخم ہوتا تو نبیﷺ اپنی انگلی سے اس طرح اشارہ فرماتے_ اور سفیان نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اُسے اٹھایا _اور فرماتے اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے لعاب کے ساتھ اور اس کے ذریعہ۔ ہمارے رب کے اذن سے ہمارا بیمار شفاء پائے۔ایک روایت میں یُشْفٰی اور ایک وایت میں لِیُشْفَی سَقِیْمُنَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ مجھے نظر کی وجہ سے دَم کروانے کا ارشاد فرماتے۔
حضرت انس بن مالکؓ دم کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ ڈنگ، پھنسی پھوڑا اور نظرکی وجہ سے دَم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ انہیں ارشاد فرماتے کہ نظر کی وجہ سے دَم کروا لیا کرو۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نظر اور ڈنگ اور پھنسی پھوڑے سے دم کرنے کی اجازت دی ہے۔
حضرت زینب بنتِ ام سلمہؓ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کے گھر ایک لڑکی کے چہرہ کا رنگ بدلا ہوا دیکھا تو آپؐ نے فرمایا اس پرنظرکا اثر ہے۔ اسے دَم کرو۔ راوی کہتے ہیں اس سے مراد اس کے چہرے کی زردی تھی۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے آلِ حزم کو سانپ کے کاٹنے پر دَم کی اجازت دی تھی اور اسماء بنت عمیس سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں اپنے بھائی کے بچوں کے جسموں کو کمزور دیکھتا ہوں۔ کیا وہ تنگدست ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن انہیں نظر بہت جلد لگ جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا انہیں دم کرو۔ وہ کہتی ہیں میں نے آپؐ کے سامنے (دَم کے کلمات)پیش کئے تو آپؐ نے فرمایا (ان کے ساتھ) انہیں دم کرو۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے بنو عمرو کو سانپ (کے کاٹے) کا دم کرنے کی اجازت دی۔ ابو زبیر کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ کو کہتے ہوئے سنا ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا اور ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!میں دَم کردوں؟ آپﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے۔ ایک اور روایت میں مِنَ الْقَوْمِ کے الفاظ زائد ہیں اور (أَرْقِی کی بجائے) أَرْقِیہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میرے ایک ماموں بچھو (کے کاٹے) کا دَم کرتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے دم سے منع فرما دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ (ان کے ماموں )آپؐ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!آپؐ نے دم سے منع فرمادیا ہے اور میں بچھو (کے کاٹے)کا دم کرتا ہوں۔ اس پرآپؐ نے فرمایا جو تم میں سے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو اُسے ایسا کرنا چاہیے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے دم سے منع فرمایا تو آل عمرو بن حزم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!ہمارے پاس ایک دم ہے اور ہم بچھو(کے کاٹے) پراس سے دَم کرتے ہیں اور آپؐ نے دم سے منع فرمادیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے وہ (دَم)آپؐ کے سامنے پیش کیا۔ تو آپؐ نے فرمایا میں (اس میں )کوئی حرج نہیں دیکھتا تم میں سے جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تووہ اُسے فائدہ پہنچائے۔