بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ کے کسی رستہ پررسول اللہﷺ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کی اس(ابن صیاد) سے ملاقات ہوئی رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا کیا آپؐ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر ایمان لا تا ہوں _ تمہیں کیا نظر آرہا ہے؟ اس نے کہا میں پانی پر ایک عرش دیکھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ابلیس کاعرش پانی پر دیکھ رہا ہے_ تو اور کیا دیکھ رہا ہے؟ اس نے کہا میں دوسچوں اور ایک جھوٹے کویا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھ رہا ہوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اس پر(معاملہ) مشتبہ ہو گیا ہے اسے چھوڑ دو۔ ایک روایت حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ ابن صائد سے ملے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی تھے اور ابن صائد کچھ بچوں کے ساتھ تھا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ ابن صیادنے رسول اللہﷺ سے جنت کی مٹی کے بارہ میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا باریک سفید اور خالص مشک ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن صائدکے ساتھ مکہ کی طرف چلا تو اس نے مجھے کہا سنو! میں لوگوں سے ملا ہوں تو وہ سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں۔ کیا تم نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ اس کی اولادنہیں ہوگی؟وہ کہتے ہیں میں نے کہاہاں اس نے کہا میری تو اولاد ہے کیا تم نے رسول اللہﷺ کو فرماتے نہیں سنا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہوگا؟ میں نے کہا ہاں اس نے کہا میں تو مدینہ میں پیدا ہوا ہوں اور یہ میں مکہ جارہاہوں۔ وہ کہتے ہیں پھر اپنی گفتگو کے آخر میں اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اسکی جائے پیدائش اس کے مکان کا علم ہے اور یہ کہ وہ کہاں ہے۔ وہ (راوی) کہتے ہیں اس نے(معاملہ) مجھ پر مشتبہ کر دیا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ابن صائدنے مجھے کہا _ اور مجھے اس سے شرم محسوس ہوئی اور میں دوسرے لوگوں کو تومعذور سمجھتا ہوں _کہ اے محمدﷺ کے اصحاب ! میرے اور تمہارے درمیان کیا (جھگڑا) ہے؟ کیا اللہ کے نبیؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ (دجال) یہودی ہے؟اور میں تو مسلمان ہو چکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ اس کی تو اولادنہ ہوگی اور میری اولاد ہے اور آپؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ نے اس پر مکہ(میں داخلہ) حرام کیاہے اور میں نے تو حج کیا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ باتیں کرتا رہا حتی کہ قریب تھا کہ اس کی بات مجھ میں اثر کر جائے۔ وہ کہتے ہیں پھر اس نے انہیں کہا سنو !اللہ کی قسم مجھے علم ہے کہ اب وہ (دجال) کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور اس کی ماں کو جانتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں اس سے کہا گیا کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم ہی وہ شخص ہو؟ وہ کہتے ہیں اس پر اس نے کہا اگر میرے سامنے پیش کیا جائے تو میں ناپسندنہ کروں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حج یا کہا عمرہ کے لئے نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا۔ وہ کہتے ہیں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیاتو لوگ ادھر ادھر بکھر گئے صرف میں اور وہ باقی رہ گئے اور میں اس سے بہت زیادہ ڈرا اس وجہ سے جو اس کے بارہ میں کہا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں وہ اپنا سامان لایا اور میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔ میں نے کہا گرمی بہت ہے۔ کیوں نہ تم اسے اس درخت کے نیچے رکھ دو۔ وہ کہتے ہیں اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہمیں کچھ بکریاں دکھائی دیں۔ وہ گیا اور وہ (دودھ کا) بڑا پیالہ لایا اور کہا اے ابو سعید !پیو تو میں نے کہا گرمی بہت زیادہ ہے اور دودھ بہت گرم ہے _ وجہ صرف یہ تھی کہ میں اس کے ہاتھ سے پینے یا کہا اس کے ہاتھ سے لینے کو ناپسند کرتا تھا_اس پر اس نے کہا ابو سعید میں چاہتا ہوں کہ ایک رسی لوں اسے ایک درخت سے لٹکا دوں پھر ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے بارہ میں کرتے ہیں اپنے آپ کو پھانسی دے دوں۔ اے ابو سعید ! رسول اللہﷺ کی حدیث کسی سے مخفی ہو توتم سے اے انصار کے گروہ! مخفی نہیں ہے۔ کیا آپ سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہﷺ کی حدیث نہیں جانتے؟کیاایسا نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا وہ (دجال)کافر ہوگا اور میں تو مسلمان ہوں؟ کیا ایسا نہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا وہ بانجھ ہوگا اس کی اولادنہیں ہوگی اور میں مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑ کر آیا ہوں۔ کیا رسول اللہﷺ نے نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو گا اور میں مدینہ سے آیا ہوں اور مکہ جارہاہوں۔ حضرت ابو سعیدخدریؓ کہتے ہیں قریب تھا کہ میں اس کا عذر قبول کرلوں پھر اس نے کہا اللہ کی قسم یقینا میں اسے (دجال کو)جانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش کو بھی جانتا ہوں اور یہ بھی کہ اب وہ کہاں ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے اسے کہا باقی سارا دن تیرے لئے خرابی ہو۔
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت جابر بن عبداللہؓ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صائد ہی دجال ہے۔ میں نے کہا کیا آپؓ اللہ کی قسم کھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمرؓ کو اس بارہ میں نبیﷺ کے سامنے قسم کھاتے ہوئے سنا۔ نبیﷺ نے اس کا انکار نہیں فرمایا۔
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت عمرؓ بن خطاب رسول اللہﷺ کے ہمراہ کچھ آدمیوں کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے یہاں تک کہ آپؐ نے اسے بنی مغالہ کے ایک قلعہ کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔ ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھااس وقت اسے پتہ نہ چلا یہانتک کہ رسول اللہﷺ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا پھر رسول اللہﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ابن صیادنے آپؐ کی طرف دیکھا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ امیوں کے رسول ہیں۔ اس پر ابن صیادنے رسول اللہﷺ سے کہا کیا آپؐ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو رسول اللہﷺ نے اسے نظر انداز فرمایا۔ اور فرمایا میں اللہ اور اس کے (سب)رسولوں پر ایمان لاتا ہوں۔ پھر رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا تم کیا دیکھتے ہو؟ تو ابن صیادنے کہا کہ میرے پاس سچی اور جھوٹی (دونوں طرح کی) خبریں آتی ہیں تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا معاملہ تجھ پر مشتبہ ہو گیا ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا میں نے تجھ سے کچھ چھپایا ہے تو ابنِ صیادنے کہا وہ دُخ ہے تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا دُور ہو، تیری قدر نہیں بڑھے گی۔ اس پر حضرت عمرؓ بن خطاب نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑادوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تو یہ وہی ہے تو تمہیں اس پر غلبہ نہ دیا جائے گااور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل میں تمہارے لئے کوئی خیر نہیں۔ سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا اس کے (کچھ عرصہ) کے بعد رسول اللہﷺ اور حضرت ابی بن کعبؓ انصاری کھجوروں کے باغ کی طرف گئے جس میں ابن صیاد تھایہانتک کہ جب رسول اللہﷺ کھجوروں کے اس باغ میں داخل ہوئے توآپؐ کھجوروں کے تنوں کی اوٹ میں ہونے لگے اور دبے پاؤں گئے تا کہ ابن صیاد کی کوئی باتیں سنیں قبل اس کے کہ ابن صیاد آپؐ کو دیکھ پائے تو رسول اللہﷺ نے اسے دیکھ لیا اور وہ کمبل لئے لیٹا ہوا تھا جس کے اندر سے کچھ مبہم سی آواز آرہی تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہﷺ کو دیکھ لیا جبکہ آپؐ کھجور کے درختوں کی اوٹ میں تھے۔ اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف! _ یہ ابن صیاد کا نام تھا _ یہ محمد (ﷺ ) ہیں۔ یہ سنتے ہی ابن صیاد اچھل پڑا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر یہ اسے چھوڑ دیتی توحقیقت حال واضح ہو جاتی۔ سالم کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا ہے، نوحؑ نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا، لیکن میں تمہیں اس بارہ میں ایک بات بتائے دیتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی یہ جان لو کہ وہ یک چشم ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ یک چشم نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے ابن شہاب کہتے ہیں عمر بن ثابت انصاری نے مجھے بتایا کہ ان کو رسول اللہﷺ کے ایک صحابیؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن لوگوں کو دجال سے ہوشیار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔ جسے ہروہ شخص جسے اس کا عمل ناپسند ہے پڑھ لے گا یا (فرمایا) اسے ہر مومن پڑھ لے گا اور فرمایا جان لو کہ تم میں سے کوئی اپنے رب عزّوجل کو نہیں دیکھے گا یہانتک کہ وہ مر جائے۔ ایک اور روایت میں ابن شہاب سے مروی ہے کہ سالم بن عبد اللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا رسول اللہﷺ باہر تشریف لے گئے آپؐ کے ساتھ کچھ صحابہؓ تھے جن میں حضرت عمر بن خطابؓ بھی تھے یہانتک کہ انہوں نے ابن صیاد کو پایا جو ایسا نوجوان تھا جو بلوغت کی عمر کے قریب تھا اور وہ بنی معاویہ کے قلعہ کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ اور ’’لَوْ تَرَکَتْہُ بَیَّنَ‘‘کے بارہ میں (راوی) کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ اگر اس کی ماں اس کو چھوڑ دیتی (یعنی رسول کریمﷺ کی تشریف آوری سے آگاہ نہ کرتی) تو اس (ابن صیاد)کا معاملہ واضح ہوجاتا۔ ایک اور روایت حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ جن میں عمر بن خطابؓ بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گذرے اور وہ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا وہ لڑکا ہی تھا۔ ۔ ۔ مگر اس روایت میں حضرت ابی بن کعبؓ کا رسول اللہﷺ کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں جانے کا ذکر نہیں۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ مدینہ کے ایک رستہ میں ابن صائد سے ملے اور اسے کوئی ایسی بات کہہ دی جس نے اسے ناراض کردیا اور وہ اتناغصہ میں آیا کہ اس نے رستہ بند کر دیا۔ پھر حضرت ابن عمرؓ حضرت حفصہؓ کے پاس آئے اور انہیں یہ بات پہنچ چکی تھی تو انہوں نے ان (حضرت ابن عمرؓ ) سے کہا اللہ تم پر رحم کرے تم ابن صائد سے کیا چاہتے تھے؟ کیاتمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ اس غصہ کی وجہ سے جو اسے مشتعل کرے باہر نکلے گا۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ_ ابن صیاد_ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ میں اسے دو مرتبہ ملا ہوں۔ وہ کہتے ہیں ایک بار ملا تو میں نے لوگوں میں سے ایک سے کہا تم لوگ یہ کیا باتیں کرتے ہوکہ وہ وہی(دجال) ہے۔ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم !تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے۔ اللہ کی قسم !تم میں سے بعض نے مجھے بتایا تھا کہ وہ نہیں مرے گا یہانتک کہ وہ مال اور اولاد میں تم سے بڑھ جائے اور وہ ویسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے گمان کیا۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم آپس میں باتیں کرنے لگے۔ پھر میں نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ کہتے ہیں پھرمیں دوسری دفعہ اس (ابن صیاد) سے ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی۔ وہ کہتے ہیں میں نے اس سے کہا تمہاری آنکھ کو یہ کب ہواہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ تمہیں نہیں پتہ حالانکہ وہ تمہارے سر میں ہے۔ اس نے کہا اگر اللہ چاہے تو تیرے اس سونٹے میں (آنکھ)پیدا کردے۔ وہ کہتے ہیں پھر اس نے گدھے کی طرح کی اونچی آواز نکالی جو میں نے سنی۔ وہ کہتے ہیں میرے بعض ساتھی سمجھے کہ میں نے اسے اس سونٹے سے مارا ہے جو میرے پاس تھا یہانتک کہ وہ ٹوٹ گیا اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو اللہ کی قسم ! مجھے پتہ نہ چلا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین (حضرت حفصہؓ ) کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایاتم اس سے کیا چاہتے ہو؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آپؐ نے فرمایاتھا کہ وہ اُس غصہ کی وجہ سے باہر نکلے گاجو اسے مشتعل کرے گا۔