بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
ہم سے ابو العلاء بن شِخِّیْر نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کی بعض حدیث بعض کو منسوخ کرتی ہے جس طرح قرآن کا بعض حصہ بعض حصہ کو منسوخ کرتا ہے٭۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۵۵, حدیث نمبر ۵۱۲, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۰۵عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو مسجد میں وضوء کرتے پایا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا میں وضوء کر رہا ہوں کہ میں نے کچھ پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس چیز کو آگ نے چھؤا ہو۔ اس کی وجہ سے وضوء کرو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ انصار میں سے ایک شخص کے(گھر کے) پاس سے گزرے۔ آپؐ نے اس کو بُلا بھیجا۔ وہ باہر آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔ اس نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا کہ جب تو عجلت میں پڑجائے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر غسل نہیں ہے اور تم پر وضوء ہے۔ ابن بشار نے اِذَا اُعْجِلْتَ یا اُقْحِطْتَ کہا ہے۔
حضرت اُبیّ ؓ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے اس آدمی کے بارہ میں پوچھا جو بیوی سے تعلق قائم کرے پھر کمزور پڑ جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ اسے دھو ڈالے جو اسے بیوی سے لگا پھر وضوء کرے اور نماز ادا کرے۔
حضرت ابیّ بن کعبؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے اس آدمی کے بارہ میں جو اپنی بیوی کے پاس جائے لیکن اسے انزال نہ ہو، فرمایا کہ وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور پھر وضوء کرلے۔
حضرت زیدؓ بن خالد جُہنی نے حضرت عثمان بن عفانؓ سے پوچھا کہ آپؓ کی اس کے بارہ میں کیا رائے ہے کہ جب ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے لیکن منی نہ نکلے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کہ وہ وضوء کرے جس طرح نماز کے لئے وضوء کرتا ہے اور اپنی شرمگاہ کو دھوئے۔ حضرت عثمانؓ کہتے ہیں کہ میں نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ جب عورت سے ازدواجی تعلقات قائم کرے تو اس پر غُسل واجب ہو گیا۔ مطر کی حدیث میں ’’وَاِنْ لَمْ یُنْزِلْ‘‘ یعنی اگر اس کا انزال نہ ہو کے الفاظ ہیں۔ قتادہ سے یہی روایت اسی سند سے مروی ہے اس میں ثُمَّ اجْتَھَدَ کے الفاظ ہیں سوائے اس کے کہ اس میں اِن لَم یُنْزِلْ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ اس بارہ میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں اختلاف ہے۔ انصارکہتے کہ غسل واجب نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ منی اچھل کر نکلے یا انزال ہو۔ مہاجرین کہتے کہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ نے کہا کہ میں تمہیں الجھن سے نکالتا ہوں۔ پس میں اٹھا اور حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ مجھے اجازت دی گئی۔ میں نے آپؓ سے عرض کیا اے اُمی یا اے امّ المؤمنین! میں چاہتاہوں کہ ایک چیز کے بارہ میں آپ سے پوچھوں لیکن میں آپ سے شرم محسوس کرتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا کہ تم اس بات کے پوچھنے سے مجھ سے مت شرماؤ جس کے بارہ میں تم اپنی اس ماں سے پوچھ سکتے ہو جس نے تمہیں جنا ہے اور میں تمہاری ماں ہوں۔ میں نے عرض کیا کیا چیزغسل واجب کرتی ہے؟آپؓ نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر سے سوال پوچھا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب آدمی عورت سے ازدواجی تعلقات قائم کرے تو غُسل واجب ہوگیا۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہّرہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا کہ ایک آدمی جو اپنی بیوی سے مجامعت کرے پھر رہ جائے تو کیا ان دونوں پر غُسل واجب ہے؟ حضرت عائشہؓ بھی تشریف فرما تھیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اور یہ ایسا کرتے ہیں پھر ہم غُسل کر لیتے ہیں
حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس چیز کو آگ نے چھؤا ہو اس کے (کھانے کے) بعد وضوء ہے٭۔