بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ مجھے سعید بن خالد بن عمرو بن عثمان نے بتایا۔ انہوں نے عروہ بن زبیر سے اس چیز کے بعد جسے آگ نے چھؤا ہو وضوء کے بارہ میں پوچھا توعروہ نے کہا میں نے نبیﷺ کی زوجہ مطہّرہ حضرت عائشہؓ کوکہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس چیز کو آگ نے چھؤا ہو اُس کے بعد وضوء کرو۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۵۷, حدیث نمبر ۵۲۲, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۰حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بکری کے شانہ(کا گوشت) کھایا اور پھر آپؐ نے نماز پڑھی لیکن وضوء نہ کیا۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۵۸, حدیث نمبر ۵۲۳, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۰جعفر بن عمرو بن امیہ ا لضمری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ (بکری کے) شانہ سے گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے۔ پھر آپؐ نے نماز پڑھی اور (نیا) وضوء نہ کیا۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۵۸, حدیث نمبر ۵۲۵, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۱حضرت ابو رافع ؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہﷺ کے لئے بکری کی کلیجی ٭ بھونتا تھا اس کے (کھانے کے) بعد حضورؐ نے نماز پڑھی اور (تازہ) وضوء نہ کیا۔
صحیح مسلم, كتاب الحيض, باب نمبر ۵۸, حدیث نمبر ۵۲۸, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۱۲حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ہڈی کوجس پر تھوڑا سا گوشت تھایا گوشت کھایا پھر نماز ادا کی۔ نہ وضوء کیا نہ پانی کو چھؤا۔
جعفر بن عمرو بن امیہ ا لضمری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ بکری کے شانہ سے گوشت کاٹ کر کھا رہے ہیں اتنے میں آپؐ کو نماز کے لئے بلایا گیا تو آپؐ اُٹھ کھڑے ہوئے اور چھری وہیں رکھ دی۔ آپؐ نے نماز پڑھی اور وضوء نہ کیا۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان کے ہاں (بکری کے) شانہ(کا گوشت) تناول فرمایا پھر آپؐ نے نماز ادا کی اور (تازہ) وضوء نہ کیا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے دودھ نوش فرمایا۔ پھر آپؐ نے پانی منگوایا پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے کپڑے زیبِ تن کئے پھر آپؐ نماز کے لئے نکلے کہ اسی اثناء میں آپؐ کی خدمت میں روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا۔ آپؐ نے اس میں سے تین لقمے کھائے۔ پھر آپؐ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھؤا۔ (یعنی تازہ وضوء نہیں کیا)۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے نبیﷺ کے بارہ میں یہ شہادت دی ہے۔ انہوں نے صلّٰی کہا مگر بِا لنَّاسِ نہیں کہا۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا کیا میں بکری کا گوشت(کھانے) پر وضوء کروں؟ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو وضوء کر لے اور چاہے تو وضوء نہ کر۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں اونٹ کے گوشت کے بعد وضوء کروں؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں اونٹ کے گوشت کے بعد وضوء کرو۔ اس نے پوچھا کہ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نمازپڑھ لوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔