بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھا کرتا تھا۔ آپؐ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ خطبہ دیتے توآپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آپ کی آواز بلند ہوجاتی تھی اور آپ کاجلال زیادہ ہو جاتا تھا گویا آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ وہ صبح یا شام تم پر حملہ آور ہونے والا ہے اور فرماتے کہ میں اور قیامت ان دو کی طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور آپؐ شہادت اور درمیانی انگلی کو ملاتے اما بعد بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد (رسول اللہﷺ )کی ہدایت ہے اور سب سے بری چیز بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے میرا ہر مؤمن سے اس کی جان سے زیادہ قریبی تعلق ہے جوکوئی بھی مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کے لئے ہے اور جو کوئی قرض چھوڑے یا کمزور اولاد چھوڑے تو وہ میرے ذمہ ہے۔ جعفربن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ کوکہتے ہوئے سنا کہ جمعہ کے دن رسول اللہﷺ کاخطبہ یہ ہوتا آپؐ اللہ کی حمد کرتے اور اس کی ثناء کرتے۔ اس کے بعد کچھ ارشاد فرماتے اور آپؐ کی آوا زبلند ہو جاتی۔ حضرت جابرؓ سے ایک اور روایت مروی ہے کہ رسول اللہﷺ لوگوں سے خطاب فرماتے تو اللہ کی حمدو ثنا کرتے جس کاوہ مستحق ہے پھر فرماتے جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ قرار دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آیا وہ شنوء ہ (قبیلہ کی شاخ) ازد سے تھا وہ اس ریح(وغیرہ) کا دم کیا کرتا تھا اس نے مکہ کے بے وقوفوں کو یہ کہتے سن لیا تھا کہ محمدؐ مجنون ہے۔ اس نے کہااگر میں اس شخص کو دیکھوں توشاید اللہ اسے میرے ہاتھ پر شفاء دے دے۔ راوی کہتے ہیں وہ آپؐ سے ملا اور کہا اے محمدؐ ! میں اس قسم کی بیماری کا علاج کرتا ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ پر شفاء دیتا ہے۔ کیا میں آپ کا علاج کروں؟ اس پہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ قراردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں محمدؐ اسکے بندہ اور رسول ہیں بات یہ ہے کہ راوی کہتے ہیں اس نے کہا کہ آپ اپنے یہ کلمات میرے لئے دوبارہ پڑھیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اس کے سامنے تین دفعہ یہ کلمات دہرائے۔ راوی کہتے ہیں اس نے کہا کہ میں نے کاہنو ں کی باتیں، جادوگروں کاکلام اور شعراء کاکلام بھی سناہے لیکن میں نے آپؐ کے ان کلمات جیسے کبھی نہیں سنے۔ یہ(کلمات)سمندر کی گہرائی تک پہنچتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے کہا آپؐ اپنا ہاتھ لائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے آپ کی بیعت کی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اور اپنی قوم پر بھی(اسلام کو مقدم کرو گے؟) اُس نے کہا اپنی قوم پر بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک مہم بھیجی۔ وہ اس کی قوم کے پاس سے گذرے۔ مہم کے نگران نے اپنے لشکر سے کہا کیا تم نے ان سے کوئی چیز لی ہے؟ لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ میں نے ان سے ایک وضو کرنے کا برتن لیا ہے انہوں نے کہا اسے واپس کر دو کیونکہ یہ لوگ ضماد کی قوم ہیں۔
ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عمارؓ نے ہمیں خطبہ دیا اور مختصر دیا اور بلیغ کلام کیا جب وہ (منبر سے) سے نیچے اترے تو ہم نے کہا اے ابو یقظان! آپؐ نے بہت بلیغ کلام کیا ہے مگر مختصر کیا ہے کیوں نہ آپ نے لمبا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ اس کی عقلمندی کی نشانی ہے پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر کرو اور یقینا بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں خطاب کیا اور کہا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پاگیا اور جو اُن دونو ں کی نافرمانی کرے گا وہ یقینا بھٹک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم کتنے برے مقرر ہو کہو کہ جو اللہ کی اور رسول کی نافرمانی کرے گا۔ (راوی) ابن نمیر نے (غَوَیکی بجائے) غَوِ ی َ کا لفظ استعمال کیا ہے٭۔
صفوان بن یعلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا وَنَادَوْایَامَالِکُ(الزخرف: 78) اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک۔
عمرہ بنت عبدالرحمان اپنی بہن سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْد (سورۃ ق) جمعہ کے دن رسول اللہﷺ کی زبانِ مبارک سے سن کر سیکھی تھی اور آپؐ ہر جمعہ اسے منبر پر پڑھتے تھے۔
حارثہ بن نعمان کی ایک بیٹی سے روایت ہے کہ میں نے (سورۃ) قٓ رسول اللہﷺ کی زبانِ مبارک سے سن کر یاد کی تھی اور آپؐ ہر جمعہ اس پر خطبہ دیتے ٭وہ کہتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہﷺ کا تنور ایک ہی تھا۔
حضرت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمانؓ سے روایت ہے کہ دو سال یا ایک سال یا سال کے کچھ حصہ تک ہمارا اور رسول اللہﷺ کا تنور ایک ہی تھا اور میں نے قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْد (سورۃ ق) رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے سیکھی تھی۔ آپؐ اسے ہر جمعہ منبر پر پڑھتے تھے جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے۔
حضرت عمارۃؓ بن رُوئَ یبۃ سے روایت ہے کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر ہاتھ اُٹھائے دیکھا تو کہا کہ اللہ ان دونوں ہاتھوں کو رسوا کرے میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے آپؐ اپنے ہاتھ سے اس سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ حصین بن عبد الرحمان کہتے ہیں میں نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن اپنے دونو ں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا۔