بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کے سا تھ سولہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی یہانتک کہ سورۃ البقرۃ کی اس آیت کا نزول ہوا وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ (البقرۃ: 145)اورجہاں کہیں بھی تم ہو اسی کی طرف اپنے منہ پھیر لو۔ پھر نبیﷺ کے نماز پڑھنے کے بعد اس کا نزول ہوا۔ چنانچہ ان لوگوں میں سے ایک آدمی گیا اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گذرا جو (بیت المقدس کی طرف) نماز پڑھ رہے تھے اس نے انہیں (تحویل قبلہ کے بارہ میں ) بتایا چنانچہ انہوں نے اپنے رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اُن یہود و نصاری پراللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔
حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے سا تھ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی پھر ہمیں کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ قباء کے مقام پر لوگ صبح کی نماز میں تھے اس اثناء میں ان کے پاس کوئی آیا اور کہاکہ رات رسول اللہﷺ پر (قرآن) نازل کیا گیا اور آپؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رُخ کریں۔ پس تم بھی اس کی طرف رُخ کرلو۔ ان کے چہرے شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ سوید بن سعید کی روایت میں ہے جو حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ لوگ صبح کی نماز میں تھے کہ ان کے پاس کوئی شخص آیا۔ آگے انہوں نے مالک جیسی روایت بیان کی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ (البقرۃ: 145) یعنی ’’یقینا ہم دیکھ چکے تھے تیرے چہرے کا آسمان کی طرف متوجہ ہونا پس ضرور تھا کہ ہم تجھے اس قبلہ کی طرف پھیر دیں جس پر تو راضی تھا۔ پس اپنا منہ مسجدحرام کی طرف پھیر لے‘‘۔ تو بنی سلمہ کے ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا جب کہ لوگ فجر کی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے اور ایک رکعت ادا کر چکے تھے اس پر اس نے آواز دی سنو قبلہ تبدیل کر دیا گیا ہے چنانچہ جس طرح تھے اسی طرح قبلہ رخ ہوگئے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ اور حضرت ام سلمہؓ نے رسول اللہﷺ سے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔ اس میں تصاویر تھیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا ان لوگوں میں اگر کوئی نیک بندہ مر جاتا تو یہ اس کی قبر کو مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصاویر بھی بنادیتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بد ترین مخلوق ہوں گے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آپؐ کی بیماری میں باہم گفتگو کر رہے تھے توحضرت ام سلمہؓ اور حضرت ام حبیبہؓ نے ایک گرجا کا ذکر کیا۔ ابو کریب نے بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ نبیﷺ کی ازواج مطہرات نے ایک گرجا کاذکر کیاجو انہوں نے حبشہ کے ملک میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا۔ پھر راوی نے ان جیسی روایت بیان کی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپؐ اٹھ نہیں سکے فرمایا اللہ کی لعنت ہواُن یہود اور نصارٰی پرجنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ وہ فرماتی تھیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپؐ کی قبر کو باہرکھلی جگہ بنا دیا جاتا مگر اس بات کا خدشہ ہوا کہ اسے مسجدنہ بنا لیا جائے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں لَوْلَا ذَاکَکے الفاظ ہیں لیکن انہوں نے قَالَت نہیں کہا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ اُن یہود کو ہلاک کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔
حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپؐ اپنے چہرہ پر اپناکپڑا رکھنے لگے اور جب آپؐ تکلیف محسوس کرتے تو اپنے چہرہ سے اُسے ہٹا دیتے۔ اسی حال میں آپؐ نے فرمایا اُن یہود و نصاری پراللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ آپؐ اس سے ڈرا رہے تھے جیسا انہوں نے کیا۔
حضرت جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے آپؐ کی وفات سے پانچ روز پہلے آپؐ کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کے حضور اس بات سے بَری ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل٭ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھے خلیل بنا چکا ہے جس طرح اس نے ابراہیمؑ کو خلیل بنا یا تھا۔ پس اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو یقینا ابو بکرؓ کو ہی خلیل بناتا اور سنو جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور نیک لو گوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے۔ خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ مت بنانا، میں تمہیں اس سے تاکیداً منع کرتا ہوں۔