بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
عبید اللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمانؓ نے رسول اللہﷺ کی مسجد کی تعمیر(ِنو) کروائی تو انہوں نے لوگوں کی باتوں پر حضرت عثمانؓ بن عفان سے سنایقینا تم بہت باتیں بنا چکے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مسجد بنائی۔ بکیر کہتے ہیں کہ میرا خیا ل ہے کہ آپؐ نے فرمایا یَبْتَغِی بِہِ وَجْہَ اللّٰہِ اس کے ذریعہ اللہ کی رضاچاہتے ہوئے (ایسا کیا) تو اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں مِثْلَہُ فِی الْجَنَّۃِ کے الفاظ ہیں۔
مصعب بن سعد سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھوں کو ایسے کیا یعنی دونوں کوملایا اور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا تو میرے والدنے کہا کہ ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے پھر ہمیں گھٹنوں پر(ہاتھ رکھنے) کا حکم دے دیا گیا۔
حضرتمحمودؓ بن لبید سے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ بن عفان نے مسجد کی تعمیرِ (نو)کا ارادہ کیا تولوگوں نے اس بات کو پسندنہ کیا اور اسے پسند کیا کہ آپؓ اسے اسی طرح رہنے دیں۔ اس پر آپؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ کے لئے کوئی مسجد تعمیر کی تو اللہ اس کے لئے جنت میں اس جیسا(گھر) بنا دے گا۔
اسود اور علقمہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس ان کے گھر گئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ لوگ جوتمہارے پیچھے ہیں نمازپڑھ چکے ہیں؟ ہم نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔ نہ تو انہوں نے ہمیں اذان کاحکم دیا اور نہ ہی اقامت کا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تھے کہ انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑے اور ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں کرلیا۔ وہ کہتے ہیں جب انہوں نے رکوع کیاتو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پررکھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملایاپھران کو اپنی رانوں کے درمیان کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو کہا کہ یقینا تم پر ایسے امراء ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر سے اداکریں گے اور اتنی تاخیر کر یں گے کہ اس کاآخری وقت آجائے گا۔ پس جب تم انہیں ایسا کرتے دیکھو توتم نماز اپنے وقت پر پڑھ لو اور ان کے اکٹھے نماز پڑھو، اوراگرتم اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر پھیلا کررکھے اور جھکے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک جیسا رکھے، انگلیوں میں فاصلہ ہو۔ وہ کہتے ہیں گویا میں رسول اللہﷺ کی انگلیوں کو کھلا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ پھر انہوں نے ان کو ویسا کر کے دکھایا۔ ابن مسہر اور جریر کی روایت میں ہے کہ گویا میں رکوع کی حالت میں رسول اللہﷺ کی انگلیوں کو کھلا ہوا دیکھ رہا ہوں ٭۔
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں حضرت عبد اللہؓ کے پاس گئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا جوتمہارے پیچھے ہیں نماز پڑھ چکے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں چنانچہ وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور ان میں سے ایک کو اپنے دائیں اور ایک کو اپنے بائیں کردیا پھر ہم نے رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کواپنے گھٹنوں پہ رکھا۔ انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور دونوں ہاتھوں کوایک دوسرے پر رکھااور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو کہا کہ رسول اللہﷺ نے اس طرح کیا تھا۔
مصعب بن سعد سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نما ز پڑھی۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والدنے مجھ سے کہاکہ اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو۔ وہ کہتے ہیں میں نے دوبارہ ایسا کیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا ہے اور اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔ خلف بن ہشام اور ابن ابی عمر کی ابو یعفور سے فَنُھِیْنَا عَنْہُ تک کی روایت ہے اور اس کے بعد کا ان دونوں نے ذکر نہیں کیا۔
مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز ادا کی اور جب رکوع کیا تو اپنی انگلیوں کو آپس میں ملادیا۔ پھرانہیں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھاتو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو کہا کہ ہم اس طرح کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ (ہاتھوں کو) گھٹنوں تک اُٹھائیں۔
ابو الزبیرنے طاؤ س کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے حضرت ابن عباسؓ سے قدموں پر پیٹھ رکھ کر بیٹھنے کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سنت ہے پھر ہم نے ان سے کہا یقینا ہم تو اسے آدمی کو تکلیف دینے والی بات سمجھتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا نہیں بلکہ یہ تو تمہارے نبیﷺ کی سنت ہے۔
حضرت معاویہ بن حکم اَلسُّلَمِیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اس اثناء میں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لو گوں میں سے کسی شخص نے چھینک ماری۔ اس پر میں نے یرحمک اللہ کہا کہ اللہ تجھ پر رحم کرے۔ تو لوگ مجھے گھورنے لگے۔ میں نے کہامیری ماں مجھے کھوئے تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ مجھے دیکھنے لگے ہو؟ اس پر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ مجھے خاموش کرارہے ہیں تومیں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہﷺ نے نماز پڑھ لی۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں میں نے آپؐ سے بہتر معلم نہ تو آپؐ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپؐ کے بعد۔ خدا کی قسم!نہ تو آپؐ نے مجھے ڈانٹا اور نہ مجھے مارا نہ مجھے بُرا بھلا کہا(صرف یہ) فرمایا یہ نماز ہے اس میں کوئی انسانی کلام مناسب نہیں یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے یا جیسے رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! میں جاہلیت کے زمانہ سے نیا نیا آیا ہوں اور یقینا اب اللہ(دین) اسلام کو لایا ہے اور ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں آپؐ نے فرمایاکہ ان کے پاس مت جاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جوشگون لیتے ہیں آپؐ نے فرمایا یہ ایک ایسی بات ہے جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں پس یہ ان کے لئے (کوئی) روک نہ بنے۔ ابن صباح نے (فَلَا یَصُدَّنَّھُمْ کی بجائے) فَلَا یَصُدَّنَّکُمْ کہا ہے وہ تمہیں ہرگز نہ روکے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جو’’لکھتے‘‘ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکھا کرتے تھے پس جس نے اس کی تحریرسے موافقت کی وہ تو ہوا۔ وہ کہتے ہیں پھر انہوں نے کہاکہ میری ایک باندی تھی جو اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا ہے۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں اور مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے چنانچہ میں اسے ایک تھپڑ ماربیٹھا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے میرے اس فعل کو بہت سنگین قرار دیا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں اسے آزادنہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ میں اسے آپؐ کے پاس لے آیا تو آپؐ نے اس سے فرمایا اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ آسمان میں۔ آپؐ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا کہ آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو، یہ مؤمنہ ہے۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کو سلام کہتے جبکہ آپؐ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ آپؐ ہمیں (سلام کا)جواب دیتے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور ہم نے آ پؐ کو سلام کہا آپؐ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! پہلے ہم آپؐ کو نماز میں سلام کہا کرتے تھے آپؐ ہمیں جواب دیاکرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا نماز میں (انسان) مشغول ہوتا ہے۔