بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں بات کر لیا کرتے تھے۔ آدمی اپنے پہلو میں ساتھی سے نمازمیں بات کرلیتا تھا یہانتک کہ یہ آیت نازل ہوئی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ (البقرۃ: 239)کہ اللہ کے لئے خاموشی سے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیااور بات کرنے سے روک دیا گیا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ پھر میں آپؐ کو ملااور آپؐ (سواری پر)سفر کر رہے تھے۔ قتیبہ(راوی) نے کہا کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپؐ کو سلام کہا۔ آپؐ نے مجھے اشارہ فرمایا جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو آپؐ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھاجبکہ میں نمازپڑھ رہا تھا اس وقت آپؐ مشرق٭ کی طرف رخ کئے ہوئے تھے۔
زہیر بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابو الزبیر نے حضرت جابرؓ سے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے مجھے (کسی کام کے لئے) بھیجااورآپؐ بنی مصطلق کی طرف جارہے تھے۔ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپؐ سے بات کی تو آپؐ نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر میں نے آپؐ سے بات کی پھر آپؐ نے مجھے اس طرح اشارہ کیا۔ پس زُہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کرکے بتایا (جابرؓ کہتے ہیں ) میں آپؐ کو قراءت کرتے ہوئے سن رہاتھا۔ آپؐ اپنے سر سے اشارہ کررہے تھے۔ جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اس کام کا کیا بنا جس کے لئے میں نے تمہیں بھیجا تھا؟ میں صرف اس لئے تم سے بات نہیں کرسکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ زہیر کہتے ہیں کہ ابوالزبیر قبلہ رخ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوالزبیرنے اپنے ہاتھ سے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کعبہ کے علاوہ دوسرے رُخ کیا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ تھے آپؐ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ میں واپس آیا تو آپؐ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپؐ کا چہرہ قبلہ رخ نہیں تھا۔ میں نے آپؐ کو سلام عرض کیا تو آپؐ نے مجھے جواب نہ دیا۔ جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا کہ مجھے جواب دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: گزشتہ رات ایک سرکش جنّ میری نماز توڑنے کے لئے چپکے سے مجھ پر حملہ کرنے لگالیکن اللہ نے اسے میرے قابو میں کردیا اور میں نے اسے زور سے پیچھے ہٹادیا۔ میں نے ارادہ کیاتھا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں یہانتک کہ صبح ہو تو تم سب اسے دیکھ لو لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کا قول یاد آگیارَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لََا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ (ص: 36) اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطاء کر جو میرے بعد کسی کو نہ ملے٭ تو اللہ نے اس کو ذلیل و رُسوا کرتے ہوئے لوٹا دیا۔ ابن جعفر کی روایت میں فَذَعَتُّہُ کے الفاظ ہیں اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں فَدَعَتُّہُ کہا ہے۔
حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ (نماز میں )کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپؐ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں پھرتین دفعہ فرمایا میں تجھ پہ اللہ کی لعنت ڈالتا ہوں۔ پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا جیسے آپؐ کوئی چیز پکڑ رہے ہوں۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم نے آپؐ کو نماز میں وہ کہتے ہوئے سنا جو اس سے پہلے ہم نے آپؐ کو کہتے ہوئے نہیں سنا اور ہم نے دیکھا کہ آپؐ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرہ پر ڈال دے تب میں نے تین مرتبہ کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ میں تجھ پہ اللہ کی پوری لعنت ڈالتا ہوں، لیکن وہ تینوں مرتبہ پیچھے نہ ہٹا پھر میں نے اسے پکڑنا چاہا۔ خدا کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ ضرور بندھا ہوتا اور مدینہ والوں کے بچے اس سے کھیل رہے ہوتے۔
حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور امامہؓ کو جورسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ اور حضرت ابوالعاصؓ بن ربیع کی بیٹی تھیں اُٹھائے ہوئے تھے۔ پس جب آپؐ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو اسے بٹھا دیتے۔
حضرت ابو قتادہؓ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو دیکھا کہ آپؐ لوگوں کی امامت کررہے ہیں اور حضرت امامہؓ بنت ابوالعاصؓ جو نبیﷺ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کی بیٹی تھی آپؐ کے کندھوں پر تھی۔ جب آپؐ رکوع کرتے تو اسے بٹھا دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے دوبارہ اسے اٹھا لیتے۔
حضرت ابو قتادہؓ انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپؐ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور اُمامہ بنت ابو العاص آپؐ کی گردن پر تھی جب آپؐ سجدہ کرتے تو اسے بٹھا دیتے۔ دوسری روایت میں حضرت ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ }باقی روایت پہلی روایت کے مطابق ہے{ مگر اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ آپؐ اس نماز میں لوگو ں کی امامت فرمارہے تھے۔
عبد العزیز بن ابو حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کچھ لو گ حضرت سہلؓ بن سعد کے پاس آئے۔ انہوں نے منبر کے بارہ میں آپس میں گفتگو کی کہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے۔ انہوں (سہلؓ بن سعدؓ ) نے کہا خدا کی قسم مجھے علم ہے کہ وہ کس لکڑی کا بناہوا ہے اور کس نے اسے بنایا ہے اور میں نے تو رسول اللہﷺ کودیکھا ہے جب پہلے دن آپؐ اس پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ ابوحازم کہتے ہیں میں نے ان سے کہا اے ابو عباس! پھر ہمیں اس بارہ میں بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ایک عورت کو کہلا بھیجا۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ اس روز انہوں نے اس عورت کا نام لیا تھاکہ تم اپنے غلام بڑھئی کو دیکھوکہ وہ میرے لئے لکڑیوں سے منبر بنا دے جس پر سے میں لوگوں سے کلام کروں۔ چنانچہ اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر بنادیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایاتو اسے اِس جگہ پر رکھا گیا اور یہ(مدینہ کے) جنگل کے جھاؤ سے بنا ہے اور میں نے رسول اللہﷺ کودیکھا۔ آپؐ اس پر کھڑے ہوئے۔ چنانچہ آپؐ نے منبر پر تکبیر کہی اور لوگوں نے آپؐ کی اقتداء میں تکبیر کہی۔ پھر آپؐ نے (رکوع سے) سر اٹھایا اور آپؐ الٹے پاؤں نیچے اترے اور منبر کے رکھنے کی جگہ کے قریب سجدہ کیا۔ پھرآپؐ واپس اپنی جگہ پر گئے یہانتک کہ آپؐ اپنی نمازسے فارغ ہوئے پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگو! میں نے یہ اس لئے کیا تاکہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھ لو۔