بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ’’بدترین کھانا‘‘اس دعوت ولیمہ کا کھانا ہے جس میں (صرف) امیروں کو بلایا جائے اور غرباء کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جو بلانے پر نہ آیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ ہمیں سفیان نے بتایا کہ میں نے زہری سے پوچھا اے ابو بکر یہ کیا روایت ہے کہ سب سے برا کھانا دولتمندوں کا کھانا ہے۔ وہ ہنس دئیے اور کہنے لگے ایسا نہیں کہ سب سے بُرا کھانا دولتمندوں کا ہے۔ سفیان نے کہامیرے والد دولتمند تھے۔ جب میں نے یہ حدیث سنی تو اس نے مجھے ڈرا دیا تھا۔ میں نے اس کے بارہ میں زہری سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرحمان الاعرج نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: سب سے برا کھانا ولیمہ کا وہ کھانا ہے۔ پھر راوی نے سابقہ روایت کی طرح بیان کیا۔ ایک اور روایت میں (بِئْسُ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ کی بجائے) شَرُّا لطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں حضرت رفاعہؓ کی بیوی نبیﷺ کے پاس آئیں اور اس نے عرض کی میں رفاعہؓ کے نکاح میں تھی۔ اس نے مجھے طلاق دی اور بتہ طلاق دی۔ میں نے عبدالرحمانؓ بن زبیر سے شادی کی اور اس کے پاس کپڑے کی جھالر کے سوا کچھ نہیں۔ رسول اللہﷺ مسکرائے اور آپؐ نے فرمایا کیا تم رفاعہؓ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو۔ (ایسا) نہیں (ہوسکتا) یہانتک کہ تم اس کا اور وہ تمہارا مزہ چکھ لے۔ (یہانتک کہ تم عبدالرحمان بن زبیر سے ازدواجی تعلق قائم کرلو۔) وہ کہتی ہیں حضرت ابو بکرؓ آپؐ کے پاس تھے اور حضرت خالدؓ دروازے پر اجازت کے منتظر تھے۔ انہوں نے بآواز بلند کہا اے ابو بکرؓ ! کیا آپ اس عورت کو نہیں سنتے جو رسول اللہﷺ کے پاس علانیہ ایسی بات کرتی ہے۔
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بتہ طلاق دی۔ اس کے بعد انہوں نے عبدالرحمان بن زبیرؓ سے شادی کی۔ پھر وہ نبیﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسولؐ اللہ! وہ رفاعہؓ کے نکاح میں تھی تو اس نے اسے تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دے دی۔ پھر اس کے بعد میں نے عبدالرحمان بن زبیرؓ سے شادی کرلی۔ لیکن وہ تو اللہ کی قسم اس کے پاس جھالر کے سوا کچھ نہیں اور اس نے اپنی اوڑھنی کا جھالر لے کر دکھایا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ مسکرائے اور آپؐ نے فرمایا تم شایدرفاعہؓ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو(ایسا) نہیں ہوسکتا یہانتک کہ تم اس کا اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے اور حضرت ابوبکر ؓ صدیق رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اور خالد بن سعید بن العاص حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے تھے انہیں اندر آنے کی اجازت(ابھی) نہیں ملی تھی۔ خالد حضرت ابو بکرؓ کوآواز دینے لگے۔ آپؐ اس عورت کو اس بارہ میں کیوں نہیں ڈانٹتے جو وہ رسول اللہﷺ کے پاس علانیہ بات کر رہی ہے۔ ایک اور روایت حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رفاعہؓ القرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ تو اس نے عبدالرحمانؓ بن زبیر سے شادی کرلی۔ وہ نبیﷺ کے پاس آئی اور کہا یا رسولؐ اللہ! رفاعہؓ نے اسے تین طلاقوں میں سے آخری دے دی ہے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے ایسی عورت کے بارہ میں سوال کیا گیا جس سے ایک شخص شادی کرتا ہے پھر وہ اسے بتّہ طلاق دے دیتا ہے وہ دوسرے شخص سے شادی کرتی ہے وہ اس کے پاس جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے تو کیا وہ اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں یہانتک کہ وہ اس کا مزہ چکھ لے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس سے ایک دوسرے شخص نے شادی کرلی۔ پھر اس نے اس کے پاس جانے سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ تو اس کے پہلے خاوندنے اس سے شادی کرنے کا ارادہ کیا رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا نہیں یہانتک کہ دوسرا(خاوند) بھی اس کا اسی طرح مزہ چکھ لے جو پہلے نے چکھا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ کہے۔ اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ! ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور جو تو ہمیں عطا فرمائے اس کو بھی شیطان سے بچا۔ اگر ان دونوں کے لئے اس میں کوئی اولاد مقدر ہے تو شیطان اس کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ شعبہ کی روایت میں بسم اللہ کے الفاظ نہیں ہیں جبکہ عبدالرزاق کی روایت جو ثوری سے مروی ہے میں بسم اللہ کے الفاظ موجودہیں اسی طرح ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ منصور کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے بسم اللہ کہا تھا۔
ابن منکدر سے روایت ہے انہوں نے جابر کو کہتے سنا یہودی کہتے تھے جب ایک شخص اپنی بیوی سے اس کے پیچھے سے اس کے اگلے حصہ میں ازدواجی تعلقات قائم کرے توبچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ تمہاری عورتیں کھیتیاں ہیں۔ پس اپنی کھیتیوں کے پاس جیسے چاہو آؤ ۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے یہود کہتے تھے جب عورت سے اس کے پیچھے سے اس کے اگلے حصہ میں ازدواجی تعلقات قائم کیا جائے پھر وہ حاملہ ہو جائے تو اس کا بچہ بھینگا ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی ’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتیوں کے پاس جب مناسب سمجھو آؤ‘‘۔ ٭ ایک اور زہری سے مروی ہے کہ خواہ وہ منہ کے بل ہو اور اگر اللہ چاہے تو وہ منہ کے بل نہ ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کے بستر سے الگ ہو کرعلیحدہ رات گزارتی ہے تو اس پر فرشتے صبح ہونے تک لعنت کرتے ہیں۔ ایک اور روایت میں (حَتَّی تُصْبِحَ کی بجائے) حَتَّی تَرْجِعَکے الفاظ ہیں یہانتک کہ وہ (اس کے پاس)چلی آئے۔