بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 130 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بھی شخص نہیں ہے جو اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلاتا ہواور وہ انکار کرے مگر وہ ہستی ہے جو آسمان میں ہے اس پر اس وقت تک ناراض رہتی ہے یہانتک کہ وہ(شوہر) اس سے راضی ہو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ اس کے پاس نہ آئے اور وہ(خاوند) اس پر ناراضگی کی حالت میں رات گزارے تو فرشتے صبح ہونے تک اس پر لعنت کرتے ہیں۔
عبدالرحمان بن سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدریؓ کو کہتے سناکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے تعلق قائم کرتا ہے اور وہ اس سے تعلق قائم کرتی ہے لیکن وہ اس کا راز افشاء کرتا ہے۔\ ابن نمیر نے (اِنَّ مِنْ اَعْظَمِ کی بجائے) اِنَّ أَعْظَمَ کے الفاظ کہے ہیں۔
ابن محیریز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اور ابو صرمہ حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس آئے۔ ابو صرمہ نے ان سے سوال کرتے ہوئے کہا اے ابو سعیدؓ ! کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو عزل کا ذکر کرتے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں۔ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوئہ بنی مصطلق میں عرب کی معزز عورتوں کو قیدی بنایا۔ ہماری گھروں سے جدائی لمبی ہو گئی تھی اور ہم ان قیدیوں کے عوض فدیہ لینے کے خواہش مند تھے۔ ہم نے ارادہ کیا کہ ہم (ان عورتوں سے) فائدہ اٹھائیں اور عزل کرلیں۔ تو ہم نے کہا ہم ایسا کریں جبکہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں اور آپؐ سے اس بارہ میں نہ پوچھیں۔ پھر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا تم پر حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہونے والی جس روح کی پیدائش لکھی ہے وہ ضرو ر ہو کر رہے گی۔ ایک اور روایت میں (مَا کَتَبَ اللّٰہُ خَلْقَ نَسَمَۃٍ ھِیَ کَائِنَۃٌ کی بجائے) فَاِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ مَنْ ھُوَ خَالِقٌ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں پھر ہم نے اس کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا اور تم ایسا کرتے ہو اور تم ایسا کرتے ہو اور تم ایسا کرتے ہو۔ کوئی بھی روح قیامت تک ہونے والی نہیں مگر وہ ہوکررہے گی۔
معبد بن سیرین حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کیا آپنے اسے ابو سعیدؓ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ نبیﷺ نے فرمایا تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم (ایسا) نہ کرو، یہ توتقدیر کا معاملہ ہے۔ انس بن سیرین سے اسی سند سے روایت ہے سوائے اس کے کہ ان کی روایت میں ہے نبیﷺ نے فرمایا عزل کرنے میں تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ تم ایسا نہ کرو۔ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔ اور بہز کی روایت میں ہے شعبہ نے کہا میں نے اس سے کہا تم نے ابو سعیدؓ سے سنا؟ انہوں نے کہا ہاں۔
عبدالرحمان بن بشر بن مسعود سے روایت ہے وہ اسے حضرت ابو سعیدؓ خدری کی طرف پہنچاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نبیﷺ سے عزل کے بارہ میں سوال کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم ایسا کرو تو تم پر کوئی ہرج نہیں۔ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔ (راوی) محمد کہتے ہیں آپؐ کا یہ ارشاد لَاعَلَیْکُم (تم پرکوئی ہرج نہیں ) ممانعت کے قریب ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں نبیﷺ کے پاس عزل کا ذکر ہوا۔ آپؐ نے فرمایا اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا ایک شخص کی بیوی دودھ پلا رہی ہوتی ہے اور وہ اس سے تعلق قائم کرتا ہے اور وہ ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ اور دوسرا شخص ہے جس کے پاس لونڈی ہوتی ہے۔ وہ اس سے تعلق قائم کرتا ہے اور وہ ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو۔ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔ ابن عون کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حسن کو سنائی تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم یہ سخت ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ معبد بن سیرین کہتے ہیں ہم نے ابو سعیدؓ سے کہا کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو عزل کا ذکرکرتے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں۔ اور پھر عون کی روایت تقدیر تک بیان کی۔
حضرت ابو سعیدخدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ اور آپؐ نے یہ نہیں فرمایاکہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ کیونکہ ہر پیدا ہونے والی جان کااللہ ہی خالق ہے۔