بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 60 hadith
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت امّ سلمہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یارسولؐ اللہ! حضرت حمزہؓ کی بیٹی کے بارہ میں آپؐ کا کیا خیال ہے؟ یا عرض کیا گیا کہ آپؐ حمزہ بن عبدالمطلب کی بیٹی کے لئے شادی کاپیغام نہیں بھیجیں گے!آپؐ نے فرمایا حمزہؓ تو میرے رضاعی بھائی ہیں۔
حضرت ام فضلؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی
حضرت ام فضلؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی
یحیٰ ابن یحیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک کے سامنے عبداللہ بن ابی بکر کی عمرہ سے یہ روایت پڑھ کر سنائی جو حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب کی گئی تھی۔ آپ فرماتی ہیں کہ جوقرآن میں نازل ہو ادس بار باقاعدہ (دودھ) پینا تھا جو حرمت قائم کرتا تھا پھر یہ پانچ دفعہ باقاعدہ (دودھ)پینے (کے حکم)سے منسوخ ہوگیا۔ پھر رسول اللہ
حضرت ام حبیبہؓ بنت ابو سفیان سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا کہ آپؐ کا میری بہن ابو سفیان کی بیٹی کے بارہ میں کیا خیال ہے؟ آپؐ نے فرمایا میں کیا کروں؟ میں نے عرض کیا آپؐ اس سے شادی کرلیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا میں اکیلی تو آپؐ کے پاس نہیں ہوں اور مجھے زیادہ پسند ہے کہ جو میرے ساتھ خیر میں شریک ہو میری بہن ہو۔ آپؐ نے فرمایا وہ میرے لئے جائز نہیں ہے۔ (وہ کہتی ہیں ) میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ دُرّہ بنت ابو سلمہ کو شادی کا پیغام بھجوا رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ام سلمہ کی بیٹی سے؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا اگر وہ میرے گھر میں میری ربیبہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لئے جائز نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضائی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے باپ کو ثُوَیبہ نے دودھ پلایا ہے۔ اس لئے تم میرے سامنے اپنی بیٹیوں اور اپنی بہنوں کے رشتے پیش نہ کرو۔
زینب بنت ابو سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ! میری بہن عزّہ سے شادی کر لیں اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے؟ انہوں نے کہاجی ہاں یارسولؐ اللہ!میں اکیلی توآپؐ کے پاس نہیں ہوں۔ لیکن مجھے زیادہ پسندہے کہ جو میرے ساتھ خیر میں شریک ہو وہ میری بہن ہو۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وہ میرے لئے جائز نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! ہمارے درمیان باتیں ہورہی ہیں کہ آپ دُرّہ بنت ابو سلمہ سے شادی کرناچاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ابو سلمہ کی بیٹی سے؟ میں نے عرض کیا جی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر وہ میرے گھر میں میری ربیبہ نہ بھی ہوتی تب بھی وہ میرے لئے جائز نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضائی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابو سلمہ کو ثُوَیبہؓ نے دودھ پلایا تھا۔ اس لئے تم میرے سامنے اپنی بیٹیوں اور اپنی بہنوں کے رشتے پیش نہ کرو۔ سوائے یزیدبن ابی حبیب کے باقی راویوں نے ’’عزّہ‘‘ نام کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجبکہ سوید اور زہیر کی روایت میں (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ۔ ۔ ۔ کی بجائے اِنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَکے الفاظ ہیں )ایک یا دو مرتبہ (دودھ)چوسنا حرمت قائم نہیں کرتا۔
حضرت ام فضلؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک بدوی نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جبکہ آپؐ میرے گھر میں تھے اس نے کہا اے اللہ کے نبیﷺ !میری ایک بیوی تھی اور میں نے اس پر دوسری عورت سے شادی کی ہے اور میری پہلی بیوی کا خیال ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک یا دو دفعہ دودھ پلایا ہے۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا ایک یا دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت قائم نہیں ہوتی۔
حضرت ام فضلؓ سے روایت ہے کہ بنی عامر بن صعصہ (قبیلہ)کے ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے نبیﷺ ! کیا ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت ہوجاتی ہے؟آپؐ نے فرمایا نہیں۔
حضرت ام فضلؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک یادو دفعہ دودھ پینے سے حرمت قائم نہیں ہوتی۔ (الرَّضْعَۃُ اَوِالرَّضْعَتَانِ_ یا فرمایا اَلْمَصَّۃُ اَوِالْمَصَّتَانِ)۔ ایک اور روایت میں اَوِالرَّضْعَتَانِ اَوِالْمَصَّتَانِ۔ اور ایک اور روایت میں ’’وَالرَّضْعَتَانِ وَالْمَصَّتَانِ‘‘ کے الفاظ ہیں۔