بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 60 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ سنت یہ ہے کہ کنواری کے پاس سات دن ٹھہرا جائے۔ راوی خالد کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ یہ حدیث نبیﷺ سے انہوں (حضرت انسؓ )نے مرفوعًابیان کی ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کی نو ازواج ؓ مطہرات تھیں۔ جب آپؐ ان کے درمیان دنوں کی تقسیم فرماتے تو پہلی بیوی کے پاس نویں (دن) تشریف لاتے اور جس کے گھر میں آپؐ کی باری ہوتی اس میں آپؐ کی تمام ازواج اکٹھی ہوجاتیں۔ ایک دن جبکہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے گھر میں تھے توحضرت زینب ؓ آئیں۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ حضرت عائشہؓ نے کہایہ زینب ہے۔ اس پر نبیﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ وہ دونوں بحث کرنے لگیں یہانتک کہ اُن کا غصہ جاتا رہا اور نماز کھڑی ہونے لگی تو حضرت ابو بکرؓ ادھر سے گذرے انہوں نے ان دونوں کی آواز یں سنی تو انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! نماز کے لئے تشریف لائیے اور ان سے اعراض کریں ٭۔ نبیﷺ باہر تشریف لائے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا اب نبیﷺ نما زادا فرمائیں گے تو حضرت ابو بکرؓ آئیں گے اور مجھے ناراض ہوں گے۔ جب نبیﷺ نے اپنی نماز مکمل فرمالی تو حضرت ابوبکرحضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور انہیں سخت سست کہا اور کہا کہ کیا تم ایسا کرتی ہو؟
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں مجھے سودہؓ بنت زمعہ سے بڑھ کرکوئی عورت محبوب نہیں اور میں اس کے قالب میں ہوں۔ ان میں تیزی تھی۔ وہ کہتی ہیں جب وہ بڑی عمر کی ہوگئیں تو انہوں نے رسول اللہﷺ کے دن کی اپنی باری حضرت عائشہؓ کودے دی۔ انہوں نے عرض کیایا رسولؐ اللہ! میں اپنے دن کی باری عائشہؓ کو دیتی ہوں۔ تو رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کو دو دن دیتے تھے۔ ایک ان کا اپنا دن اور ایک حضرت سودہؓ کا۔ ایک اور روایت میں (فَلَمَّا کَبِرَتْ کی بجائے) أَنَّ سَوْدَۃَ لَمَّا کَبِرَتْ کے الفاظ ہیں اور شریک کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (حضرت عائشہؓ نے) فرمایا کہ وہ پہلی خاتون تھیں جن سے آپؐ نے میرے بعد شادی کا فیصلہ فرمایا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ مجھے ان عورتوں پرغیرت آتی ہے جو اپنے آپ کورسول اللہﷺ کے لئے ہبہ کرتی ہیں اور میں سوچتی تھی کہ کیا کوئی عورت بھی اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ جب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمادی تُرْجِیْ مَنْ تَشَائُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ ترجمہ: تواُن میں سے جنہیں چاہے چھوڑ دے اور جنہیں چاہے اپنے پاس رکھ اور جنہیں تو چھوڑ چکا ہے ان میں سے کسی کو اگر پھر لینا چاہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ٭۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم میرے خیال میں آپؐ کا رب آپؐ کی مرضی کو بہت جلد پورا کر دیتا ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی تھیں کیا عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے آپ کو کسی مرد کیلئے ہبہ کرے یہانتک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت اتار دی۔ تُرْجِیْ مَنْ تَشَائُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ ترجمہ: تو اُن میں سے جنہیں چاہے چھوڑ دے اور جنہیں چاہے اپنے پاس رکھ اور جنہیں تو چھوڑ چکا ہے ان میں سے کسی کو اگر پھر لینا چاہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ٭ تو میں نے کہا کہ آپؐ کا رب آپؐ کی مرضی بہت جلد پورا کر دیتا ہے۔
عطا کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباسؓ کے ساتھ سرف مقام میں نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ کے جنازہ کے لئے حاضر ہوئے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ یہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں اس لئے جب تم ان کی نعش اُٹھاؤ زیاد ہ ہلاؤ جلاؤ نہیں اور آہستگی اختیار کرو۔ رسول اللہﷺ کی نو بیویاں تھیں ان میں سے آٹھ کو باری دیتے تھے اور ایک کے لئے باری نہیں تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ وہ بیوی جس کے لئے باری مقرر نہیں تھی وہ حضرت صفیہؓ بنت حیی بن اخطب تھیں ٭۔ عطاء کہتے ہیں کہ ان میں سے سب سے آخری فوت ہونے والی مدینہ میں فوت ہوئیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایاکہ عورت سے چار وجوہات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے اس کے خاندان کی وجہ سے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے تمہارا بھلاہو، تم دین والی سے (شادی کرکے) کامیابی حاصل کرو۔
عطاء سے روایت ہے کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہؓ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی جب میری نبیﷺ سے ملاقات ہوئی آپؐ نے فرمایا اے جابر تم نے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا بیوہ سے۔ آپؐ نے فرمایا کنواری سے کیوں نہیں؟ تم اس سے کھیلتے۔ میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! میری کئی بہنیں ہیں میں ڈرا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوجائے۔ آپؐ نے فرمایا اچھا تو یہ بات ہے۔ عورت سے اس کے دین اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے۔ تمہارا بھلا ہو، تم دین والی کو ترجیح دو۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا اے جابر تم نے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا بیوہ سے؟ آپؐ نے فرمایا تم نے کنواریوں اور ان کی کھیلوں کو کیوں نظر انداز کردیا؟ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا(تم نے)کنواری سے کیوں (شادی) نہ کی؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہؓ فوت ہوگئے اور انہوں نے نو یا کہا کہ سات بیٹیاں چھوڑیں تومیں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کرلی مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا اے جابر تم نے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! بیوہ سے۔ آپؐ نے فرمایا(تم نے) کنواری سے کیوں (شادی) نہ (کی)؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی یا آپؐ نے فرمایاتم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ وہ کہتے ہیں میں نے آپؐ سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہؓ فوت ہوگئے اور انہوں نے نو یا کہا سات بیٹیاں چھوڑی ہیں اس لئے میں نے پسندنہ کیا کہ ان کے پاس ان کی ہم عمر لڑکی لے آؤں اور میں نے پسند کیا کہ ایک ایسی عورت لاؤں جو اُن کی نگرانی کرے اور ان کی اصلاح کرے۔ آپؐ نے فرمایااللہ تمہارے لئے مبارک کرے یا آپؐ نے کوئی اور اچھی سی بات کہی۔ ابو ربیع کی روایت میں ہے تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی تم اسے ہنستاتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا اے جابر کیا تم نے نکاح کیا ہے؟ باقی روایت ان کے اس قول تک ہے کہ ایسی عورت جو اُن کی کنگھی چوٹی کرے۔ آپؐ نے فرمایاتم نے ٹھیک کیااور اس کے بعدکاذکر اس روایت میں نہیں ہے۔