بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 60 hadith
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم واپس ہوئے تو میں فوراً اپنے سست رفتار اونٹ پر سوار ہوکر چل پڑا۔ میرے پیچھے سے ایک سوار مجھے ملے اور انہوں نے اپنی چھڑی جو اُن کے پاس تھی میرے اونٹ کو لگائی پھر میرا اونٹ اُن اونٹوں میں سے جو تم نے دیکھے ہیں بہترین کی طرح چلنے لگا میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو رسول اللہﷺ تھے۔ آپؐ نے فرمایا اے جابرتمہیں کیا جلدی ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے کسی کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا نہیں بیوہ سے۔ آپؐ نے فرمایا کسی کنواری سے کیوں نہیں؟تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ آئے اور گھروں کو جانے لگے توآپؐ نے فرمایا ٹھہرو یہانتک کہ رات ہوجائے یعنی عشاء کا وقت ہوجائے تاکہ پریشان بال کنگھی کرلے اور جس کا خاوند باہر ہے وہ استرا لے لے۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے فرمایا جب تم جاؤ تو دانائی سے کام لینا دانائی سے۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر حوا نہ ہوتی تو کبھی کوئی بیوی اپنے خاوند سے کبھی خیانت نہ کرتی۔ ٭
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلا میرے اونٹ نے مجھے تاخیر کروادی۔ میرے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور مجھے فرمایا اے جابر۔ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا میرے اونٹ نے مجھے تاخیر کروا دی ہے اور رہ گیا ہے اور میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ پس آپؐ (سواری سے) نیچے تشریف لائے اور اسے اپنی چھڑی سے ضرب لگائی اور فرمایا سوار ہوجاؤ میں سوار ہوا میں نے دیکھا کہ میں اسے رسول اللہﷺ سے آگے بڑھنے سے روک رہا ہوں آپؐ نے فرمایا کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی آپؐ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا بیوہ سے۔ آپؐ نے فرمایا کسی کنورای سے کیوں نہیں؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو انہیں اکٹھارکھے اور ان کی کنگھی چوٹی کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔ آپؐ نے فرمایا تم گھر جانے والے ہو پس جب تم گھر جاؤ تو دانائی اختیار کرنا، دانائی اختیا ر کرنا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ میں نے عرض کیا جی۔ توآپؐ نے ایک اوقیہ (چاندی) کے عوض وہ(اونٹ) مجھ سے خرید لیا۔ پھر رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے اور میں صبح پہنچا اور مسجد گیا تو آپ کو مسجد کے دروازہ پر پایا آپؐ نے فرمایا کیا تم اب آئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا اپنے اونٹ کو چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت نماز پڑھو وہ کہتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی پھر میں واپس آیا تو آپؐ نے بلالؓ سے فرمایا اسے ایک اوقیہ(چاندی) تول دو بلالؓ نے میرے لئے میزان کو جھکا کر تولا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں چلا جب میں مڑا تو آپؐ نے فرمایا جابرکو میرے پاس بلاؤ مجھے بلایا گیا میں نے سوچا کہ اب آپؐ اونٹ مجھے واپس کر دینگے اور اس سے زیادہ مجھے کوئی اور بات نا پسندنہ تھی۔ آپؐ نے فرمایا اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہوئی۔
حضرت جا بر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور میں ایک پانی لانے والے اونٹ پر سوار تھا وہ پچھلے لوگوں میں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مارا یا راوی کہتے ہیں آپؐ نے اس کو چبھویا۔ راوی کہتے ہیں نیز انہوں نے کہا کسی چیز کے ساتھ جو آپؐ کے پاس تھی۔ اس کے بعد وہ سب لوگوں سے آگے نکلنے لگا۔ وہ مجھ سے چھوٹ چھوٹ جاتا تھااور میں اس کو روکتا تھا۔ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا کیا تم اسے اتنی قیمت پرمیرے ساتھ بیچو گے؟ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے نبیؐ !یہ آپؐ کاہے۔ فرمایا کیا تم اسے اس قیمت پر میرے پاس بیچو گے؟اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے نبیؐ !یہ آپؐ کاہی ہے۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے مجھے فرمایا کیا تم نے اپنے والد کی وفات کے بعد شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے فرمایا کیا بیوہ سے یاکنواری سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے۔ آپؐ نے فرمایا تم نے کسی کنواری سے کیوں شادی نہ کی؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ وہ تم سے ہنستی اور تم اس سے ہنستے۔ ابو النضرہ کہتے ہیں کہ یہ وہ کلمہ ہے جسے مسلمان کہتے ہیں کہ تم ایسے ایسے کرو اللہ تمہیں بخشے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عورت پسلی کی مانند ہے جب تم اسے سیدھا کرنے لگوگے تو اسے توڑ دو گے اور اگر تم اسے چھوڑ دو گے اس سے فائدہ اُٹھاؤ گے جبکہ اس میں کجی ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور وہ تیرے لئے کسی ڈگرپر بھی سیدھی نہ ہو گی۔ اگر تم اس سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہوتوتم اس سے اس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہوکہ اس میں کجی ہوگی۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگوگے تو اسے توڑ دو گے اور اس کو توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبیﷺ نے فرمایاجو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ جب وہ کوئی بات دیکھے تو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے اور بیویوں کے بارہ میں نصیحت مانو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں زیادہ ٹیڑھا اس کا اوپر والا حصہ ہے اگر اسے سیدھا کرنے لگو گے تواسے توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی اور عورتوں کے بارہ میں بھلائی کی نصیحت مانو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے اگر وہ اس کے کسی خُلق کو نا پسند کرے گا تو کسی خُلق کو پسند بھی تو کریگا۔