بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ جب سے نبیﷺ پر اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کا نزول ہوا میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے نماز میں یہ دعا نہ کی ہو یا یہ نہ کہا ہو پاک ہے تو اے میرے رب اور اپنی حمد کے ساتھ اے اللہ مجھے بخش دے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ آپؐ سات (اعضاء) پر سجدہ کریں اور منع کیا گیا کہ آپؐ بالوں اور کپڑوں کو سنبھالتے رہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتی ہیں رسول اللہﷺ بکثرت یہ دعا کیا کرتے تھے پاک ہے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ میں بخشش طلب کرتا ہوں اللہ سے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپؐ کو بکثرت یہ دعا کرتے دیکھتی ہوں کہ ’’پاک ہے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے رب نے اطلاع دی تھی کہ میں اپنی امت میں ضرور ایک علامت دیکھوں گا پس جب میں وہ دیکھ لوں تو بکثرت کہوں پاک ہے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ میں بخشش طلب کرتا ہوں اللہ سے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ سو میں نے وہ (علامت)دیکھ لی ہے۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہُ کَانَ تَوَّابًااور تو لوگوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں پس اپنے رب کی تسبیح بیان کر اس کی حمد کے ساتھ اور اس (اللہ) سے بخشش طلب کر یقینًا وہ بہت توبہ قبول کرنے والاہے۔
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا آپ رکوع میں یہ کیا کہتے ہیں !انہوں نے کہا جہاں تک سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لََا اِلٰہَ اِلََّا اَنْتَ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ابی ملیکہ نے بتایا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ایک رات میں نے نبیﷺ کو موجودنہ پایاتو میں نے گمان کیا کہ شاید آپؐ اپنی کسی بیوی کے پاس گئے ہوں۔ چنانچہ میں نے بہت تلاش کیا جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپؐ رکوع یا سجدہ کررہے ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں پاک ہے تو اپنی حمد کے ساتھ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تومیں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان میں کس خیال میں تھی آپؐ کسی اور حال میں ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہﷺ کو بستر میں موجودنہ پایا۔ چنانچہ میں آپؐ کو تلاش کرنے لگی کہ اچانک میرا ہاتھ آپؐ کے دونوں پیروں کے تلووں پر پڑا جوایستادہ تھے اور آپؐ مسجد میں تھے۔ آپؐ یہ دعا کر رہے تھے اے اللہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریفوں کا شمار نہیں کر سکتا تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی۔
مطرف بن عبداللہ بن شِخِّیرسے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہﷺ اپنے رکوع و سجدہ میں یہ کہا کرتے تھے۔ بہت تسبیح کے لائق، بہت ہی پاکیزگی والا، فرشتوں اور روح کا ربّ۔
مَعدان بن ابو طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثَوبانؓ سے ملا تو میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جِسے میں بجا لاؤں تو اللہ مجھے اس کے ذریعہ جنت میں داخل کردے۔ وہ کہتے ہیں یا میں نے کہا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے بارہ میں بتائیے۔ اس پر وہ خاموش رہے پھر میں نے ان سے پوچھا پھر وہ خاموش رہے پھر میں نے ان سے تیسری بار پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے سوال کیا تھا تو آپؐ نے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ اللہ کے حضور بکثرت سجدہ بجا لاؤ۔ تم اللہ کے حضور ایک سجدہ بھی بجا لاتے ہو تو اللہ اس کے ذریعہ تمہارا ایک درجہ بڑھاتا ہے اور ایک برائی تم سے دور کر دیتا ہے۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابودرداءؓ سے ملا اور پھر ان سے(اس بارہ میں ) پوچھا تو انہوں نے مجھے وہی جواب دیا جو حضرت ثَوبانؓ نے مجھے دیا تھا۔
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیعہ بنؓ کعب اسلمی نے مجھے بتایا کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں رات بسر کرتا تھاتومیں آپؐ کے پاس (ایک رات) آپؐ کے وضو کا پانی اور آپؐ کی ضرورت کی چیز لے کر آیا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا ’’مانگ لو‘‘ تومیں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں جنت میں آپؐ کی رفاقت مانگتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یاکچھ اور ؟ میں نے کہا کہ بس یہی۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر اپنے لئے کثرتِ سجود سے میری مدد کرو۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپؐ سات (اعضاء) پر سجدہ کریں اور آپؐ کو منع کیا گیا کہ آپؐ اپنے بال اور کپڑے سنبھالتے رہیں۔ ابو ربیع کہتے ہیں کہ سات ہڈیوں پر (سجدہ کا حکم دیا گیا) وہ یہ ہیں دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں اور پیشانی، نیز اس سے منع کیا گیا کہ اپنے بالوں اور کپڑوں کو سنبھالتے رہیں۔