وائل بن حجرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا کہ آپؐ نے نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے۔ ہمام نے بیان کیا کہ اپنے کانوں تک۔ پھر آپؐ نے اپنی چادر اوڑھی۔ پھر آپؐ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا۔ پھر جب آپؐ نے رکوع کا ارادہ فرمایا تو چادر سے اپنے دونوں ہاتھ باہر نکال لئے پھر اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے، پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر جب آپؐ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تب اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے۔ جب آپؐ نے سجدہ کیا تو دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز میں کہا کرتے کہ اللہ پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو۔ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا کہ اللہ تو خود سلام ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو چاہیے کہ وہ کہے اَلتَّحِیَاتُ لِلّٰہِ۔ الخ تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اے نبیؐ ! آپؐ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ جب وہ یہ کہے گاتوزمین و آسمان میں اللہ کے ہر نیک بندہ کو پہنچ جائے گا۔ (پھر یہ کہے) اَشْہَدَ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہِ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندہؐ اور رسولؐ ہیں۔ پھر دعامیں سے جو پسندکرے چُن لے۔ شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ ایسی ہی روایت کی ہے لیکن یہ ذکر نہیں کیا ثُمَّ یَتَخَیَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ مَا شَائَ۔ زائدہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ثُمَّ یَتَخَیَّرُبَعْدُ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ مَا شَائَ اَوْمَا اَحَبَّ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبیﷺ کے ساتھ نماز میں قعدہ میں بیٹھتے۔ پھر منصور جیسی حدیث بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس کے بعد پھر دعامیں سے جو چاہے چن لے۔ حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے تشہد کا طریق سکھایاجس طرح آپؐ مجھے قرآن کی کوئی سورۃ سکھاتے تھے۔ اس وقت میرا ہاتھ آپؐ کے دونوں ہاتھوں میں تھا۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں اسی طرح تشہد سکھاتے جس طرح آپؐ ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے۔ آپؐ فرماتے تمام بابرکت زبانی عبادات، تمام پاکیزہ دعائیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبیؐ ! آپؐ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات۔ ہم پر سلام ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ ابن رُمح کی روایت میں ہے کہ جیسے آپؐ ہمیں قرآن سکھاتے۔
حِطّان بن عبداللہ رَقاشی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپؓ قعدہ میں تھے تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ نمازکو نیکی اور زکوٰۃ کے ساتھ رکھا گیاہے۔ جب حضرت ابو موسیٰ ؓ نے نماز مکمل کی اور سلام کیا تو رُخ پھیرا اور پوچھا کہ تم میں سے یہ یہ بات کس نے کہی؟ راوی کہتے ہیں اس پر لوگ خاموش رہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ لوگ پھر خاموش رہے۔ پھر(حضرت ابو موسٰیؓ ) نے کہاکہ اے حِطّان! شاید تو نے یہ کلمات کہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے تو نہیں کہے لیکن مجھے خوف تھا کہ ان(کلمات) کے باعث آپؐ مجھ سے خفا ہوں گے۔ پھر قوم میں سے ایک آدمی بولا کہ یہ (کلمات) میں نے کہے ہیں لیکن میرا ارادہ سوائے خیرکے کچھ نہ تھا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ تم نے اپنی نماز میں کیا کہنا ہے۔ رسول اللہﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا اور آپؐ نے ہمارے طریقِ (عبادت) کو خوب کھول کر بیان فرمادیا اور ہمیں ہماری نماز سکھا ئی اور آپؐ نے فرمایا کہ جب تم نماز ادا کرو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک تمہاری امامت کرائے۔ پھر جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہواورجب وہ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ۔ کہے تو تم سب آمین کہو۔ اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔ یقینا امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے ہی اٹھے گا اور رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ اس کا بدل ہو جائے گا۔ پھر جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے تو کہو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَاَلَکَ الْحَمْدُ یعنی اے اللہ جو ہمارا رب ہے تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے۔ اللہ تمہاری دعا سنے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ کی زبان کے ذریعہ فرما چکا ہے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہ سن لی اللہ نے اس کی جس نے اس کی حمد کی۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور سجدہ میں جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ میں جاؤکیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے ہی (سجدہ سے) اٹھے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ اس کا بدل ہو جائے گا۔ پھر جب وہ (امام) قعدہ میں ہو تو تمہیں پہلے یہ کہنا چاہیے کہ اَلتَحِیَّاتُ۔ ۔ ۔ تمام زبانی مالی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اے نبیؐ ! آپؐ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات۔ ہم پربھی سلام ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندہؐ اور اس کا رسولؐ ہے۔ قتادہ کی روایت میں مزید یہ ہے کہ جب وہ(امام) قراءت کرے تو تم خاموش رہو اور راویوں میں سے کسی کی روایت میں نہیں کہ اپنے نبیﷺ کی زبان پر اللہ نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗکے الفاظ کہے سوائے ابو کامل کی روایت کے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس روایت کے بارہ میں کلام کیا تو(امام) مسلم نے کہا تمہیں سلیمان راوی سے بھی زیادہ اچھے حافظہ والے کسی راوی کی تلاش ہے! اس پر ابو بکر نے انہیں کہا تو پھر حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے بارہ میں کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو صحیح ہے یعنی (اس کے یہ الفاظ) فَاِذَا قَرَ ئَ فَاَنْصِتُوْا اس پر انہوں (یعنی امام مسلم) نے کہا وہ میرے نزدیک صحیح ہے۔ اس پر (ابو بکر) نے کہا پھر آپ وہ روایت یہاں (اپنی صحیح میں ) کیوں نہیں لائے؟ اس پر (امام) مسلم نے کہامیں اس جگہ سب وہ باتیں تو نہیں لایا جو میرے نزدیک صحیح ہیں۔ میں تو یہاں صرف وہ لایا ہوں جس پر سب نے اتفاق کیا ہے۔ اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمرکی قتادہ سے اسی سند سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان ِ مبارک پر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کے الفاظ جاری کئے۔
أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُولُوا
محمد بن عبداللہ جو عبداللہ بن زیدؓ کے بیٹے ہیں جن کو خواب میں نماز کی اذان دکھائی گئی تھی نے بتایا کہ ابو مسعودؓ انصاری نے کہاکہ ایک مرتبہ ہم سعد بن عبادۃ ؓ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو حضرت بشیرؓ بن سعدنے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپؐ پر درود بھیجیں توہم کس طرح آپؐ پر درود بھیجیں؟راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہﷺ خاموش رہے یہانتک کہ ہم نے خواہش کی کاش وہ آپؐ سے سوال نہ کرتا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہا کرو اللّٰھُمَّ صَلِّ علیٰ مُحَمَّدٍ اے اللہ محمدؐ پر اور آلِ محمدؐ پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے آلِ ابراہیمؑ پر رحمت نازل فرمائی اور محمدؐ پر برکت نازل فرما اور آپؐ کی آل پر جس طرح تو نے آلِ ابراہیم ؑ کو سب جہانوں میں برکت دی۔ یقینا تو بہت قابلِ تعریف اور بہت بلند شان والا ہے اور سلام اس طرح جیسا کہ جانتے ہو۔
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت کعبؓ بن عجرہ ملے اور کہا کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ہم آپؐ پر کس طرح سلام بھیجیں لیکن ہم آپؐ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہا کرو کہ اے اللہ! محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیمؑ پر رحمت نازل فرمائی۔ یقینا تو بہت قابلِ تعریف اور بہت شان والا ہے۔ اے اللہ محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیمؑ پر برکت نازل فرمائی یقینا تو بہت قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔ مسعر کی روایت میں اَلََا اُھْدِیَ لَکَ ھَدِیَّۃً کے الفاظ نہیں ہیں۔ حکم کی روایت میں بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کے الفاظ ہیں اَللّٰھُمَّ نہیں کہا۔
عمرو بن سُلیم سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعیدؓ ساعدی نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم آپؐ پر کس طرح درود بھیجیں؟ آپؐ نے فرمایا کہا کرواے اللہ! تو محمدؐ پر اور آپؐ کی ازواج پر اور آپؐ کی اولاد پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح تو نے آلِ ابراہیمؑ پر رحمت نازل فرمائی اور محمدؐ پر اور آپؐ کی ازواج پر اور آپؐ کی اولاد پر اسی طرح برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیمؑ کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ یقینا تو بہت قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ
سُمَىٍّ
.
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے تو تم کہو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا َلَکَ الْحَمْدُ یعنی’’اے اللہ ہمارے رب تمام تعریف تیرے لئے ہے‘‘ کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے سے موافقت کر گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے گئے۔