حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا . قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا .
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ان کی ماں کے ہاں ولادت ہوئی تو وہ بچہ کو لے کر نبیﷺ کے پاس گئے تاکہ آپؐ اسے گھٹی دیں۔ وہ کہتے ہیں اس وقت نبیﷺ اونٹوں کے باڑے میں بکریوں کو داغ رہے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں زیادہ تر میرے علم میں یہی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ ان کے کانوں پر۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے۔ آپؐ اس وقت بکریوں کو داغ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا کہ ان کے کانوں پر۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں میں نے نافع سے کہا قزع سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ بچہ کے سر(کے بالوں )کو بعض جگہوں سے مونڈنا اور بعض جگہوں سے چھوڑ دیا جانا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا رستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمیں اپنی مجالس کے بغیر چارہ نہیں جن میں ہم باتیں کریں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم مجلس لگانے پر اصرار کرتے ہو تو پھر رستہ کو اس کا حق دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اس کا حق کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا نظر نیچی رکھنا، تکلیف دینے سے رُکنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور ناپسندیدہ بات سے روکنا۔
حضرت ابو بکرؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! میری بیٹی نئی نئی دُلہن بنی ہے اسے خسرہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں۔ کیا میں اس کو بال پیوند کروا دوں؟اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ اللہ نے بال پیوند کرنے والی اور بال پیوند کروا نے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ ایک اور روایت میں (تَمَرَّقَ شَعْرَھَاکی بجائے) تَمَرَّطَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت اسماءؓ بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی
ﷺ
کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اس کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں جبکہ اس کا خاوند اس کو پسند کرتا تھا یارسولؐ اللہ! کیا میں اس کے بالوں سے اور بال پیوند کروا دوں؟ حضورؐ نے اسے منع فرمادیا۔
أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ .
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ انصارؓ میں سے ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئی۔ اور اس کے بال جھڑ گئے۔ اس پر انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ بال پیوندنہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں پوچھا۔ اس پر آپؐ نے بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔
أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انصارؓ میں سے ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی اور وہ بیمار ہوگئی اور اس کے بال گرنے لگے۔ پھر وہ نبیﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اس کا خاوند اس کو چاہتا ہے۔ کیا میں اس کے بالوں کو پیوند کروادوں؟اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا بال پیوند کرنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک اور روایت میں (اَلْوَاصِلَاتِ کی بجائے) اَلْمُوْصِلَاتِ کے الفاظ ہیں۔