بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
نضر بن انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ فتویٰ دینے لگے لیکن وہ یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ یہانتک کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا میں ایسا آدمی ہوں کہ یہ تصاویر بناتا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس سے کہا کہ قریب ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ شخص قریب ہو گیا۔ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جس نے دنیا میں کوئی صورت بنائی تو قیامت کے روز وہ اس میں روح پھونکنے کا ذمہ وار ٹھہرایا جائے گا لیکن وہ اسے پھونک نہیں سکے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں مورتیاں یا تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ پر داغا گیا تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا جس نے اسے داغا اللہ نے اس پر لعنت کی۔
ابو زرعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ مروان کے گھر میں گیا اور انہوں نے وہاں تصاویر دیکھیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزّوجل نے فرمایا ہے کہ اس سے زیادہ کون ظالم ہو سکتا ہے کہ جو میرے تخلیق کرنے کی طرح تخلیق کرنے لگے! پس چاہیے کہ اب وہ کوئی ذرہ پیدا کریں کوئی دانہ پیدا کریں یا کوئی جو(کا دانہ) پیدا کریں۔ ایک اور روایت ابو زرعہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابو ہریرہؓ ایک ایسے گھر میں گئے جو مدینہ میں سعید یا مروان کے لئے بنایا جا رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس گھر میں ایک مصور کو تصویر بناتے دیکھا تو کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے پھر اسی طرح کی (روایت) بیان کی۔ لیکن اس روایت میں أَوْ لِیَخْلُقُوْا شَعِیْرَۃً کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ فرشتے ان (سفر کے) رفیقوں کی مصاحبت اختیار نہیں کرتے جن میں کتا یا گھنٹی ہو۔
عبّاد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابو بشر انصاری نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ آپؐ کے کسی سفر میں تھے۔ رسول اللہﷺ نے ایک قاصد بھیجا۔ عبداللہ بن ابو بکر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ اس وقت جب لوگ اپنی آرامگاہوں میں تھے آپؐ نے فرمایا کہ کسی اونٹ کی گردن میں کسی تندی کی گانی یا کوئی گانی باقی نہ رہے مگر وہ کاٹ دی جائے۔ مالک کہتے ہیں میں اسے نظرکی وجہ سے سمجھتا ہوں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے چہرہ پر مارنے اور چہرہ پر داغنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک گدھے کو دیکھا جس کا چہرہ داغا گیا تھا۔ حضورؐ نے اسے ناپسند فرمایا۔ پھر فرمایااللہ کی قسم ! میں صرف اس حصہ کو داغوں گا جو چہرہ سے سب سے زیادہ دور ہو پھر آپؐ نے اپنے ایک گدھے کی پشت داغنے کا حکم فرمایااور آپؐ سب سے پہلے ہیں جنہوں نے پشت پر داغا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب ام سلیمؓ کے ہاں ولادت ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا اے انسؓ ! اس بچے کو دیکھو۔ یہ کچھ نہ کھائے پئے جب تک کہ تم صبح اسے نبیﷺ کے پاس نہ لے جاؤ تاکہ آپؐ اسے گھُٹی دیں۔ وہ (حضرت انسؓ ) کہتے ہیں میں صبح گیا تو آپؐ ایک باغ میں تھے۔ اور آپؐ پر حویتی چادر تھی۔ آپؐ ان سواری کے جانوروں کو داغ رہے تھے جو فتح میں آپؐ کے پاس آئے تھے۔