بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ خبردار! اپنی عورتوں کو ریشم مت پہناؤ۔ مَیں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ ریشم مت پہنو کیونکہ جس نے اسے دنیا میں پہن لیا اس نے اسے آخرت میں نہ پہنے گا ۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
ابو عثمان سے روایت ہے کہ جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمرؓ نے ہمیں لکھا کہ اے عتبہ بن فرقدؓ (تمہارے پاس جو مال ہے)اس میں نہ تمہاری محنت کا دخل ہے نہ تمہارے باپ کی محنت کی کمائی ہے اور نہ ہی تمہاری ماں کی محنت کا دخل ہے۔ پس مسلمانوں کو ان کے گھروں میں پیٹ بھر کر کھلاؤ جس میں سے تم اپنے گھر میں پیٹ بھر کر کھاتے ہو لیکن نازونعم سے مشرکوں کی ہیئت اور زینت سے اور ریشم پہننے سے بچو کیونکہ رسول اللہﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔ سوائے اس قدر۔ رسول اللہﷺ نے ہمارے لئے اپنی دو انگلیاں (یعنی) درمیانی اور شہادت کی انگلی بلند کیں اور انہیں ملایا۔
ابو عثمان سے روایت ہے کہ ہم حضرت عتبہؓ بن فرقد کے پاس تھے کہ ہمارے پاس حضرت عمرؓ کا خط آیاکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو ریشم پہنتا ہے اس کا آخرت میں کچھ حِصّہ نہیں مگر(جو) اس قدر(پہنتا ہے)۔ ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ والی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ پھر جب مَیں نے طیالسہ دیکھا تو ان انگلیوں (کے برابر) مجھے اس طیالسہ کے بٹنوں میں دکھایا گیا۔
قتادہ سے روایت ہے کہ مَیں نے ابو عثمان نہدی کو کہتے ہوئے سنا کہ جب ہم آذر بائیجان یا شام میں حضرت عتبہؓ بن فرقد کے ساتھ تھے تو ہمارے پاس حضرت عمرؓ کا خط آیا(جس میں لکھا تھا) امَّا بعد رسول اللہﷺ نے سوائے اتنا(یعنی) دو انگلیوں کے (برابر) ریشم (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعثمان کہتے ہیں ہم سمجھ گئے کہ ان کی مرادنقش و نگار ہیں۔
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے جابیہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نبیﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے مگر دو، تین یا چار انگلیوں کے برابر۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ایک روز نبیﷺ نے ایک ریشمی قباء جو آپؐ کو تحفہ دی گئی تھی پہنی۔ پھر جلدی سے اسے اتار دیا۔ پھر آپؐ نے اسے حضرت عمر بن خطابؓ کو بھیج دیا۔ تب آپؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا: یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے اسے بہت جلدی اُتار دیا؟اس پر آپؐ نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے اس سے روک دیا ہے۔ تب حضرت عمرؓ آپؐ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!آپؐ نے ایک چیز کوناپسند فرمایا، پھر وہ مجھے عطا فرمادی۔ میری کیا خطاء ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں نے وہ(قباء)تمہیں اس لئے نہیں دی کہ تم اسے پہن لو بلکہ مَیں نے وہ(قباء) تمہیں اس لئے دی تھی تاکہ تم اسے بیچ دو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے وہ(قباء)دو ہزار درہموں میں فروخت کی۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا تحفۃً پیش کیا گیا۔ آپؐ نے وہ مجھے بھیج دیا۔ میں نے اسے پہنا تو میں نے آپؐ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے۔ اس پر آپؐ نے فرمایاکہ مَیں نے یہ (جوڑا)تمہیں اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہنو، مَیں نے تویہ تمہیں اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے عورتوں میں (تقسیم کر نے کے لئے) پھاڑ کر اوڑھنیاں بنالو۔بعض روایات میں ہے کہ میں نے اس کو اپنی خواتین میں تقسیم کر دیا اور اس میں (آپؐ کے) مجھے حکم دینے کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اکیدر دومۃ نے نبیﷺ کی خدمت میں ایک ریشم کا کپڑا تحفہ بھیجا۔ آپؐ نے وہ حضرت علیؓ کو دے دیااور فرمایا کہ اسے پھاڑ کر فواطم کے درمیان تقسیم کردو ۔ایک اور روایت میں (بَیْنَ الْفَوَاطِمِ کی بجائے) بَیْنَ النِّسْوَۃِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عمرؓ کو ایک باریک ریشم کا جُبّہ بھیجا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیاکہ آپؐ نے مجھے یہ بھجوادیا ہے جبکہ آپؐ اس کے بارہ میں فرما چکے ہیں جو آپؐ نے فرمایا تھا۔ حضورؐ نے فرمایاکہ میں نے وہ تمہیں اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہنو۔ مَیں نے تو وہ تمہیں اس لئے بھیجا تھا تاکہ اس کی قیمت سے فائدہ اُٹھاؤ۔