بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ان غزوات میں سے ایک میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔
حضرت عبد اللہ ؓ بن عمرسے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درخت جلائے۔
مصعب بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے خمس میں سے ایک تلوار لی پھر وہ اسے لے کر نبی
حضرت ابن عباسؓ حضرت صعب ؓ بن جثامہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نبی ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارہ میں پوچھا گیا جن پر رات کو حملہ کیا گیا ہو اور( حملہ آورنادانستہ)ان کی عورتوں اور بچوں کوضررپہنچائیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ انہی میں سے ہیں ۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت صعب ؓ بن جثّامہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ؐ ! ہم رات کے حملہ میں مشرکوں کے بچوں کو نقصان پہنچابیٹھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ انہی میں سے ہیں ۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت صعب ؓ بن جثامہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اگر گھڑ سوار رات کو حملہ کریں اور مشرکوں کے بچوں کونقصان پہنچادیں۔آپؐ نے فرمایا وہ بھی اپنے آباء سے ہی ہیں ۔
حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلائے اور کاٹے اور وہ جگہ بُویرہ ہے ۔ راوی قُتیبہ اور ابن رُمح نے اپنی روایت میں یہ بات زائد بیان کی ہے کہ اللہ عزّوجل نے نازل فرمایا ’’جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا یا اسے اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو اللہ کے حکم کے ساتھ ایسا کیا اور یہ اس غرض سے تھا کہ وہ فاسقوں کو رُسواکردے ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجور کے درخت کاٹے ا ور جلائے اور ان کے بارہ میں حضرت حسانؓ نے کہا ’’بنو لؤیّ کے سرداروں پر بویرہ میں بھڑکنے والی آگ آسان ہوگئی‘‘ اسی بارہ میں (یہ آیت) اتری جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا یا اسے اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بتائیں اور انہوںنے کئی احادیث ذکر کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبیوںمیں سے ایک نبی جہاد کے لئے نکلے انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا میرے ساتھ وہ آدمی نہ چلے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور ابھی تک اس نے شادی نہیں کی اور نہ وہ شخص جس نے کوئی مکان بنایا ہے اور ابھی اس کی چھتیں نہیںڈالیںاور نہ وہ جس نے بکریاں یا اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہے ۔آپؐ نے فرمایا پھر وہ(نبی) جہاد کیلئے چل پڑے اور نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب اس بستی کے پاس جا پہنچے اور سورج سے کہا تو بھی مامور ہے میں بھی مامور ہوں اے اللہ ! تو میرے لئے اسے کچھ دیر روک دے۔ وہ ان کے لئے روک دیا گیا یہانتک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا پھر انہوںنے مالِ غنیمت جمع کیا۔آگ اسے کھانے آئی مگر کھانے سے رُک گئی ۔اُ س (نبی) نے کہا تم میں بددیانتی ہے۔ تم میں سے ہر قبیلہ کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے ۔ تو انہوں نے بیعت کی ۔ ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا انہوں نے فرمایا تم میں بددیانتی ہے۔ پس تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے پس اس (قبیلہ)نے بیعت کی ۔آپؐ نے فرمایا تو دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ سے ان کا ہاتھ چمٹ گیا۔انہوں نے فرمایا تم میں بد دیانتی ہے تم نے بد دیانتی کی ہے ۔آپؐ نے فرمایا پھر انہوں نے اس (نبی) کو بیل کے سر کے برابر سونا نکال کر دیا۔ آپؐ نے فرمایاپھر انہوں نے اسے مال (غنیمت)میں رکھا اور وہ ایک کھلے میدان میں تھا۔ پس آگ آئی اور اسے کھا گئی ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمتیں جائز نہیں تھیں۔ (ہمارے لئے ) یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہماری کمزوری اور ہمارا عجز دیکھا۔ اسے ہمارے لئے طیّب بنادیا ۔
مصعب بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا میرے بارہ میں چار آیات نازل ہوئیں میں نے ایک تلوار لی تھی( راوی کہتے ہیں) وہ ( حضرت سعدؓ) اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ مجھے عنایت فرمادیجئے۔ آپؐ نے فرمایا اسے رکھ دو، پھر وہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجھے عطا فرمادیجئے ،کیا میں اس شخص کی طرح کر دیا جاؤں گاجس کے پاس کوئی مال نہیں ؟ پھر نبی ﷺ نے انہیں فرمایا اسے وہیں رکھو جہاں سے تم نے اسے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی :وہ تجھ سے اموالِ غنیمت سے متعلق سوال کر تے ہیں تو کہہ دے اموالِ غنیمت اللہ اور رسول کے ہیں۔