بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ نے نجد کی طرف ایک مہم بھیجی اور میںاس میں تھا۔ انہوں نے بہت سے اونٹ مالِ غنیمت کے طور پر حاصل کئے تو ہر ایک کے حصہ میں بارہ یا گیارہ اونٹ آئے اور ایک ایک اونٹ بطور عطیہ ملا ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک مہم نجد کی طرف بھیجی اور ان میں حضرت ابن عمرؓ بھی تھے اور ان کا حصہ ان میں سے بارہ بارہ اونٹ تھا اور بطور عطیہ ایک ایک اونٹ تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے تبدیل نہیں فرمایا ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہم نجد کی طرف روانہ فرمائی میں بھی ان کے ساتھ نکلا ہم نے مالِ غنیمت کے طور پر اُونٹ حاصل کئے ۔ ہمارا حصہ بارہ بارہ اونٹ تھا ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور عطیہ دیا ۔ ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کو نفل (غنیمت)کے بارہ میں پوچھنے کے لئے لکھا تو انہوں نے مجھے لکھاکہ حضرت ابن عمرؓ ایک سریہ میں تھے (جب یہ بات ہوئی تھی) ۔
سالم اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خمس میں سے ہمارے حصہ کے علاوہ عطیہ دیا ۔ تو مجھے ایک شارف ملی اور شارف بڑی عمر کی اونٹنی کو کہتے ہیں ۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک مہم کو زائد عطیہ دیا ۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن کو سریہ پر بھیجتے تھے ان میں سے بعض کو عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ زائدعطیہ عطا فرماتے تھے البتہ پانچویں حصہ کی ادائیگی اس سب میں لازمی ہوتی تھی ۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ ہم حنین کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے پس جب ہم (دشمن سے )ملے تو مسلمان چکرا گئے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے مشرکوں میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے ۔ میں اس کی طرف گھوم کر اس کے پیچھے سے آیا ۔ اور اس کو اس کے کندھے کی رگ پر میں نے مارا ۔وہ میری طرف متوجہ ہوا اور میرے ساتھ ایسا چمٹا کہ میں نے اس کے چمٹنے سے موت کی بو سونگھی ۔ پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر بن خطابؓ سے ملا ۔ انہوں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا ؟ میں نے کہا اللہ کا حکم ! پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا جس نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس کے پاس اس کی گواہی بھی ہے تو اس کا ساما ن اسی کا ہے ۔ راوی کہتے ہیں میں کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا میری گواہی کون دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا پھر آپؐ نے اسی طرح فرمایا ۔ وہ کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا میری گواہی کون دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپؐ نے تیسری بار یہی بات کہی میں کھڑا ہوا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو قتادہؓ کیا بات ہے ؟ میں نے آپؐ کے سامنے ساری بات بیان کی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول ؐاللہ! انہوں نے سچ کہا اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپؐ انہیں اپنا حق چھوڑنے پر راضی کردیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! آپؐ کبھی بھی یہ قصد نہیں کریں گے۔ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اورحضورؐ تمہیں اس کا سامان دے دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہوں نے سچ کہا پس تم وہ ان (ابو قتادہؓ)کو دے دو تو اس نے مجھے دے دیا۔وہ کہتے ہیں میں نے زرہ بیچ دی اوراس سے بنو سلمہ (کے علاقہ میں) ایک باغ خریدا ۔یہ پہلا مال ہے جو میںنے اسلام میں بنایا۔ ایک اورروایت میں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا ہرگز نہیں،آپؐ قریش کے ایک لگڑ بگڑ کو نہیں عطا کریں گے اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیرکو چھوڑ دیں گے۔اسی طرح اس روایت میں فَاِنَّہُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبد الرحمان بن عوف ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بدر کے دن جبکہ میں صف میں کھڑا تھا میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو اپنے آپ کو انصار کے دو کمسن لڑکوں کے درمیان پایا۔ میں نے تمنا کی اے کاش! میں ان دو سے زیادہ مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا۔ اسی اثناء میں ان میں سے ایک نے مجھے چھوا اور کہا چچا!کیا آپ ابو جہل کو جانتے ہیں ؟وہ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں اور اے میرے بھتیجے تجھے اس سے کیا کام ہے ؟ اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاںدیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اسے دیکھوں تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہیں ہوگا جب تک وہ مر نہ جائے جس کی موت ہم میں سے پہلے ہے ۔ ( حضرت عبد الرحمان ؓ) کہتے ہیں میں اس پر متعجب ہوا کہ دوسرے نے مجھے چھوا اور ویسی ہی بات کہی ۔وہ کہتے ہیں تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ میں نے ابو جہل کو لوگوں کے درمیان پھرتے دیکھا ۔ میں نے کہا کیا تم دیکھتے نہیں یہی وہ شخص ہے جس کے بارہ میں تم دونوں پوچھ رہے تھے۔ وہ کہتے ہیںوہ دونوں تیزی سے اس کی طرف لپکے اور ان دونوں نے اسے اپنی تلوار سے مارا یہانتک کہ اسے قتل کردیا۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ ؐ کو خبر دی ۔آپؐ نے فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اِسے قتل کیا ہے ؟ ان میں سے ہر ایک نے کہا میں نے قتل کیا ہے ۔آپؐ نے فرمایا کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں ان دونوں نے کہا نہیں تو آپؐ نے دونوں تلواروں کی طرف دیکھا اور فرمایا تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دینے کا فیصلہ کیا اور وہ دونوں آدمی معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء تھے ۔
حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حِمیَر قبیلہ کے ایک شخص نے دشمن کے ایک شخص کو(جنگ کے دوران) قتل کیا اور اس نے اس کا سامان قبضہ میں لینا چاہا تو حضرت خالدؓ بن ولید جو اُن پر نگران تھے نے انہیں منع کیا تو عوف بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو بات بتائی آپؐ نے حضرت خالدؓ سے فرمایا تجھے اس کا سامان اسے دینے سے کس چیز نے روکا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا یا رسولؐ اللہ! مَیں نے اس کو بہت زیادہ پایا۔ آپؐ نے فرمایا وہ اسے دے دو ۔حضرت خالدؓ حضرت عوف ؓ کے پا س سے گذرے تو انہوں (حضرت عوف ؓ ) نے ان کی چادر کھینچی اور کہا کیا میں نے تم سے ر سول اللہ ﷺ سے جو بات ذکر کی تھی مَیں نے ٹھیک ٹھیک نہیں بتائی تھی ۔اس کی بات رسول اللہ ﷺ نے سن لی تو ناراض ہوئے۔ اے خالدؓ اسے نہ دو اے خالد ؓ اسے نہ دو ۔کیا تم میرے لئے میرے امراء کو چھوڑو گے( نہیں)۔ تمہاری اور ان کی مثال تو اس شخص کی طرح ہے جس نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے لیں اور انہیں چرایا اورپھر انہیں پانی پلانے کا وقت آیا تو انہیں حوض پر لایا۔ انہوں نے شروع کیا اور اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف تمہارے لئے ہوااور گدلا اُن کے لئے ۔ عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ غزوئہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہؓ کے ساتھ گئے تھے میں بھی ان کے ساتھ گیا تھا اور یمن سے مدد قبیلہ کا ایک آدمی میرا رفیق تھا اور نبی ﷺسے اسی طرح روایت بیان کی سوائے اس کے کہ وہ روایت میں کہتے ہیں کہ عوف کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خالد !کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سامان کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ۔ لیکن میں نے اس مال کو بہت زیادہ سمجھا۔
حضرت سلمہ ؓ بن اکوع نے بیان کیا ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میںہوازن کے مقابلہ میں جہاد کیا تو جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کا کھاناکھا رہے تھے کہ ایک شخص سرخ اونٹ پر آیا اوراس نے اسے بٹھا یا۔ پھر اپنی گٹھڑی سے ایک رسی نکالی اور اس کے ساتھ اونٹ کو باندھا پھر آکر لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا اور وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا اور ہم میں کمزوری تھی ۔سواریوں کی کمی تھی اور بعض ہم میں سے پیدل تھے وہ تیزی سے نکلا اور اپنے اونٹ کے پاس آیا اس کی رسی کھولی پھر اُسے بٹھا یا اور اس پر بیٹھا اُسے اُٹھایا اور اُونٹ کو تیزی سے لے بھاگا۔ ایک شخص نے خاکستری رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا حضرت سلمہ ؓ کہتے ہیں میں بھی تیزی سے بھاگا میں اونٹنی کی پشت کے قریب پہنچ گیاپھر میں اور آگے بڑھا یہانتک کہ میں نے اُونٹ کی نکیل پکڑ لی اور میں نے اسے بٹھادیا۔ جب اس نے اپنا گھٹنا زمین کے ساتھ لگایا تو میں نے اپنی تلوار سونتی اور اس شخص کے سر پر دے ماری ۔وہ گر پڑا۔ پھر میں اونٹ کو کھینچتے ہوئے لایا اور اس کا کجاوہ اور اس کے ہتھیار اس کے اوپر تھے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے ساتھ دوسرے لوگ مجھے سامنے سے ملے اور آپؐ نے فرمایا اس شخص کو کس نے مارا؟ انہوں نے کہا ابن اکوع ؓنے۔ آپؐ نے فرمایا اس کا سب سامان ابن اکوع ؓ کے لئے ہے۔
ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس میرے والدؓ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں ہم نے فزارہ قبیلہ سے جنگ کی اور ہمارے امیرحضرت ابو بکرؓ تھے آپؓ کو رسول اللہ ﷺ نے ہم پر امیر بنایا تھا ۔ جب ہمارے اور پانی کے درمیان ایک گھنٹہ کا فاصلہ رہ گیا تو حضرت ابو بکرؓ نے حکم دیا تو ہم نے رات کے پچھلے پہر پڑاؤ کیا۔پھر ہم اور وہ پانی پر پہنچے۔ انہوں (حضرت ابو بکرؓ)نے ہر طرف سے حملہ کیا اور اس پر جن کو قتل کیا ان کو قتل کیا اور قیدی بنائے ۔ اور میں لوگوں کی جماعت کو جس میں بچے اور عورتیں تھیں دیکھتا تھا ۔ میں ڈرا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ چڑھ جائیں تو میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر چلایا ۔ جب انہوں نے تیر دیکھا تو ٹھہر گئے، میں انہیں ہانکتے ہوئے لایا۔ ان میں بنی فزارہ کی ایک عورت تھی جس پر پرانی پوستین تھی _قشع نطع یعنی چمڑے کو کہتے ہیں_ اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی خوب صورت ترین لڑکیوں میں سے تھی ۔ میں انہیں گھیر کر لایا یہانتک کہ حضرت ابو بکرؓ کے پاس لے آیا ۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس کی بیٹی مجھے عطیہ کے طور پر دے دی ۔ ہم مدینہ آئے۔ میں نے اس کا کپڑا نہیں کھولا ۔ مجھے رسول اللہ ﷺ بازار میں ملے اور فرمایا اے سلمہ! وہ عورت مجھے دے دو۔ میں نے کہا اللہ کی قسم یا رسولؐ اللہ! وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے اور میں نے اس کا کپڑا نہیں کھولا۔ اگلے دن مجھے پھر رسول اللہ ﷺ بازار میں ملے اور مجھ سے فرمایا اے سلمہ! وہ عورت مجھے دے دو۔ تمہارا باپ اچھا تھا۔میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! وہ آپؐ کی ہوئی۔ اللہ کی قسم میں نے اس کا کپڑا نہیں کھولا۔ رسول اللہ ﷺ نے اُسے مکہ والوں کی طرف بھجوایا اور اس کے بدلہ مسلمانوں کے بہت سے لوگ آزاد کروائے جو مکہ میں قید ہوگئے تھے۔