بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں مجھ سے فرمایا کہ ابو بکرؓ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریرلکھ دوں۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی خواہش کرنے والا خواہش کرے یا کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں لیکن اللہ اور مومن توسوائے ابو بکرؓ کے (کسی اور کا) انکار کریں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے آج کون روزہ دار ہے؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا میں۔ آپؐ (ﷺ ) نے فرمایا کون تم میں سے آج جنازہ کے ساتھ گیا؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیامیں۔ حضورؐ نے فرمایا تم میں سے کس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا میں نے۔ حضورؐ نے فرمایا تم میں سے کس نے آج کسی مریض کی عیادت کی؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا میں نے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا جس آ دمی میں یہ سب باتیں جمع ہوگئیں وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فر مایا کہ ایک آدمی اپنی ایک گائے ہانک رہا تھا۔ جس پر اس نے سامان لادا ہوا تھا۔ گائے اس کی طرف مڑی اور کہا کہ مجھے اس لئے پیدا نہیں کیا گیا مجھے تو صرف کھیتی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس پر لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا سبحان اللہ کیا گائے بھی بولتی ہے؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تو اس پر ایمان لاتا ہوں اور ابو بکرؓ اور عمرؓ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور اس میں سے ایک بکری لے گیا۔ چرواہے نے اس (بھیڑئیے) کا پیچھا کیا یہانتک کہ اسے اس سے چھڑوا لیا، اس پر بھیڑیااس (چرواہے) کی طرف مڑا اور کہا کے درندوں والے دن اس کا محافظ کون ہوگا؟ جس دن میرے سوا کوئی چرواہانہ ہوگا۔ اس پر لوگوں نے کہا سبحان اللہ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تو اس پر ایمان لاتا ہوں اور ابو بکر اور عمرؓ بھی۔ایک روایت میں بکری اور بھیڑئیے کاذکر ہے مگر گائے کا ذکر نہیں اور ایک روایت میں گائے اور بکری دونوں کا ذکر ہے اور اس روایت میں یہ بھی مزید ہے کہ وہ دونوں (یعنی حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ) اس وقت وہاں موجودنہیں تھے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ بن خطاب کو (وفات کے بعد) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو قبل اس کے انہیں اٹھایا جاتا لوگ دعا دیتے ہوئے ان کی تعریف کرتے ہوئے اور ان پر رحمت کی دعائیں بھیجتے ہوئے ان کے گرد اکٹھے ہوگئے اور میں بھی ان میں تھا۔ (ابن عباسؓ ) کہتے ہیں کسی شخص نے مجھے چونکا دیا کہ اس نے میرے پیچھے سے میرا کندھا پکڑا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ حضرت علیؓ تھے۔ انہوں نے بھی حضرت عمرؓ پر رحمت کی دعا کی اور کہا کہ اے عمرؓ ! آپؓ نے اپنے پیچھے کوئی آدمی نہ چھوڑا جس کے اعمال ایسے ہوں کہ ویسے اعمال پر مجھے اللہ سے ملناپسند ہواور اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ اللہ ضرور آپؓ کو آپؓ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا کیونکہ میں کثرت سے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا میں، ابوبکرؓ اور عمرؓ آئے، میں ابو بکرؓ اور عمرؓ داخل ہوئے، میں ابوبکرؓ اور عمرؓ باہر گئے۔ پس میں امیدکرتا تھا یا (کہا) میں خیال کرتا تھا کہ اللہ آپؓ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ[ میرے سامنے] وہ پیش کئے جا رہے ہیں اور ان پر قمیصیں ہیں۔ ان میں سے بعض سینہ تک پہنچتی ہیں اور ان میں سے بعض اس سے (بھی) چھوٹی ہیں۔ عمرؓ بن خطاب گذرے تو وہ ایسی قمیص پہنے ہوئے تھے جسے وہ گھسیٹتے جارہے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے اس کی کیا تعبیرفرمائی؟ آپؐ نے فرمایا دین۔
حمزہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا ایک پیالہ مجھے پیش کیا گیا ہے جس میں دودھ تھا میں نے اس میں سے پیایہانتک کہ میں نے محسوس کیا کہ سیرابی میرے ناخنوں تک آگئی۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمرؓ بن خطاب کو دے دیا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !آپؐ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ حضورؐ نے فرمایا علم۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں کے پاس دیکھا جس پر ایک ڈول تھا تو جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی نکالا۔ پھر ابو قحافہ کے بیٹے نے اسے لے لیا اور اس میں سے ایک یا دو ڈول پانی کے نکالے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا، ان کے نکالنے میں کچھ کمزوری تھی پھر وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیااور اسے ابن الخطابؓ نے لے لیا اور میں نے لو گوں میں سے عمرؓ بن الخطاب کی طرح پانی نکالنے والا کو ئی قوی انسان نہیں دیکھا یہانتک کہ لوگ اونٹوں کو(پانی پلا کر)باڑوں میں لے گئے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے ابوقحافہ کے بیٹے کو پانی نکالتے دیکھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا کہ مجھے دکھایا گیاکہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کرلوگوں کو پلا رہا ہوں کہ ابو بکرؓ میرے پاس آئے۔ انہوں نے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا تاکہ مجھے آرام دیں۔ پھر انہوں نے دو ڈول نکالے۔ ان کے نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا۔ پھر ابن الخطابؓ آئے اور ان سے (ڈول) لے لیا اور میں نے ان سے زیادہ مضبوطی سے کبھی کسی آدمی کو (ڈول) نکالتے ہوئے نہیں دیکھا یہانتک کہ لوگ چلے گئے اور حوض بھرا ہوا بہہ رہا تھا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے دکھایا گیا کہ گویا میں ایک چرخی والے کنویں میں ایک ڈول سے پانی نکال رہا ہوں۔ پھرابو بکرؓ آئے اور ایک یا دو ڈول نکالے اور قدرے کمزوری سے نکالے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے گا، پھر عمرؓ آئے اور پانی نکالنے لگے تو وہ (ڈول) بڑے ڈول میں تبدیل ہوگیا۔ میں نے کسی زبردست پہلوان کو اس عمدگی سے کام کرتے نہیں دیکھا یہانتک کہ لوگ سیر ہو گئے اور وہ آرام کی جگہوں کو چلے گئے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک گھر یافرمایا ایک محل دیکھا میں نے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطابؓ کا ہے۔ پھر میں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو مجھے تمہاری غیرت کا خیال آیا۔ اس پر حضرت عمرؓ رو پڑے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا آپؐ پر بھی غیرت کی جاسکتی ہے؟