بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کوجنت میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ محل کی ایک جانب ایک عورت وضوء کر رہی ہیں میں نے پوچھا کہ یہ کس کا(محل)ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرؓ بن خطاب کا۔ پھر مجھے عمرؓ کی غیرت کا خیال آیا تو میں واپس آگیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عمرؓ رو پڑے اور ہم سب اس مجلس میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !میرا باپ آپؐ پر قربان ہو، کیا میں آپؐ پر (بھی)غیرت کروں گا؟
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تین مواقع پر میں نے اپنے رب سے موافقت کی۔ مقامِ ابراہیمؑ کے بارہ میں اور پردہ کے بارہ میں اور بدر کے قیدیوں کے بارہ میں۔
حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ اس وقت آپؐ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں جو آپؐ سے باتیں کر رہی تھیں اور آپؐ سے اور مانگ رہی تھیں اور ان کی آوازیں بلند تھیں۔ جب حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردہ میں چلی گئیں۔ رسول اللہﷺ نے ان کو اجازت دی اور رسول اللہﷺ ہنس رہے تھے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اللہ آپؐ کوخوش رکھے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا جو میرے پاس تھیں جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً پردہ میں چلی گئیں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ(آپؐ سے) ڈریں۔ پھر حضرت عمرؓ نے کہا اے اپنے نفس کی دشمنو!کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہﷺ سے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا ہاں کیونکہ آپؓ رسول اللہﷺ کے مقابلہ میں سخت اور غصہ والے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ شیطان کبھی تجھے کسی رستہ میں چلتے ہوئے نہیں ملا مگر اس نے تیرے رستہ کے علاوہ کوئی دوسرا رستہ اختیار کرلیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپؐ کے پاس کچھ عورتیں تھیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے سامنے اپنی آوازیں بلند کی ہوئی تھیں۔ جب حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردہ میں چلی گئیں۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم سے پہلی امتوں میں مُحَدَّث ہوا کرتے تھے پس اگر میری امت میں سے ان میں سے کوئی ہے تو یقینا عمرؓ بن خطاب ان میں ہے۔ ابن وہب کہتے ہیں کہ مُحَدَّثُوْن کی تفسیر مُلْہَمُوْن ہے یعنی وہ جن کو الہام ہوتا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن اُبیَ بن سلول مرا تو اس کا بیٹا عبد اللہؓ بن عبداللہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضورؐ سے درخواست کی کہ آپؐ اس کو اپنی قمیص عطا فرمائیں تاکہ وہ اس میں اپنے باپ کو کفنائے۔ چنانچہ آپؐ نے اسے (قمیص)عطا فرمائی پھر اس نے آپؐ سے درخواست کی آپؐ اس کی نمازِجنازہ پڑھائیں تو رسول اللہﷺ گئے تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ اس پر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور رسول اللہﷺ کے کپڑے کو پکڑلیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا آپؐ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے لگے ہیں حالانکہ اللہ نے آپؐ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ۔ ۔ ۔ تو ان کے لئے استغفار کر یا نہ کر، اگر تو ان کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کرے گا‘‘۔ 1 میں ستر سے زیادہ دفعہ استغفار کر لوں گا۔ انہوں (حضرت عمرؓ ) نے کہا کہ وہ منافق ہے مگر رسول اللہﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ تب اللہ عز وجل نے یہ آیت اُتاری۔ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْھُمْ مَاتَ اَبَدًا۔ ۔ ۔ ’’اور تو ان میں سے کسی مرنے والے کی کبھی (جنازہ کی) نماز نہ پڑھ اور کبھی اس کی قبر پر (دعا کے لئے) کھڑا نہ ہو۔‘‘ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپؐ نے ان(منافقین) کی نمازِ (جنازہ) پڑھنا ترک فرمادی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے گھر میں اپنی رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹائے ہوئے لیٹے تھے کہ حضرت ابو بکرؓ نے اجازت مانگی توآپؐ نے اسی حالت میں انہیں اجازت دی۔ پھر آپؐ باتیں کرنے لگے پھر حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی توآپؐ نے اسی حالت میں انہیں بھی اجازت دے دی۔ پھر آپؐ باتیں کرتے رہے۔ پھر جب حضرت عثمانؓ نے اجازت مانگی تو رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کوٹھیک کیا_راوی محمد کہتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب ایک دن میں ہوا_ وہ آئے باتیں کیں اور جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ ابو بکرؓ آئے لیکن ان کے لئے آپؐ نے کوئی خاص خیال نہ کیا۔ پھر عمرؓ آئے تو ان کے لئے بھی آپؐ نے کوئی خاص خیال نہ کیا لیکن جب عثمانؓ اند ر آئے تو آپؐ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگے !اس پر آپؐ نے فرمایا کیا میں اس شخص کا لحاظ نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔
حضرت عائشہؓ اور حضرت عثمانؓ نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکرؓ نے رسول اللہﷺ سے اجازت مانگی۔ اس وقت آپؐ حضرت عائشہؓ کی چادرلئے ہوئے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپؐ نے حضرت ابو بکرؓ کو اجازت دی اور آپؐ اسی حال میں رہے۔ انہیں آپؐ سے جو کام تھا وہ کیا اور چلے گئے۔ پھر حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی تو آپؐ نے ان کو اجازت دی اور آپؐ اسی حال میں رہے حضرت عمرؓ کوحضورؐ سے جو کام تھا اس سے فارغ ہوئے اور چلے گئے۔ حضرت عثمانؓ کہتے ہیں پھر میں نے آپؐ سے اجازت مانگی توآپؐ بیٹھ گئے اور آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اپنے کپڑے کو اپنے اوپر سمیٹ لو۔ حضرت عثمانؓ کہتے ہیں پھرمجھے آپؐ سے جو کام تھا اس سے فارغ ہواتوحضرت عائشہؓ نے عرض کیا ارسولؐ اللہ! کیا بات ہے کہ حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کی دفعہ آپؐ نے کوئی خاص خیال نہ کیا جس طرح آپؐ نے عثمانؓ کے لئے خیال کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا عثمانؓ حیادار طبیعت رکھتاہے اس لئے میں ڈرا کہ اس حالت میں اگر اسے اجازت دیتا تو شاید وہ اپنامقصد بیان نہ کر پاتا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے دیوار والے باغوں میں سے ایک باغ میں ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما تھے اور چھڑی جو آپؐ کے پاس تھی سے پانی اور مٹی میں سہارا لئے ہو ئے تھے کہ ایک شخص نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دو۔ راوی کہتے ہیں وہ حضرت ابو بکرؓ تھے پس میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی۔ راوی کہتے ہیں پھر کسی آدمی نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کھو ل دو اور اسے جنت کی بشارت دو۔ راوی کہتے ہیں وہ حضرت عمرؓ تھے۔ پس میں نے ان کیلئے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی۔ راوی کہتے ہیں پھر کسی آدمی نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ راوی کہتے ہیں (اس وقت) نبیﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا کھول دو اور اس کو جنت کی بشارت دو اس مصیبت کے ساتھ جوواقع ہوگی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں گیا تو وہ حضرت عثمانؓ بن عفان تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے (دروازہ) کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی اور جو آپؐ نے فرمایا میں نے آپؓ سے کہہ دیا۔ وہ کہتے ہیں اس پر حضرت عثمانؓ نے کہا اے اللہ! صبر کی توفیق دے یا کہااللہ ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی حفاظت پر مامور فرمایا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضوء کیا اور پھر باہر نکلے اور کہا کہ میں ضرور رسول اللہﷺ کی معیت میں رہوں گا اور آج سارا دن آپؐ کے ساتھ رہوں گا۔ وہ (سعیدؓ )کہتے ہیں پھروہ (حضرت ابو موسیٰؓ )مسجد میں آئے اور نبیﷺ کے بارہ میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ آپؐ باہر تشریف لے گئے ہیں اور اس طرف گئے ہیں۔ وہ (حضرت ابو موسیٰؓ )کہتے ہیں تومیں آپؐ کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا آپؐ کے بارہ میں پوچھتا ہوا نکلا یہانتک کہ آپؐ بئر اریس پر تشریف لے گئے۔ وہ (حضرت ابو موسیٰؓ ) کہتے ہیں میں دروازہ کے پاس بیٹھ گیا اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں کا تھا یہانتک کہ رسول اللہﷺ اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے اور وضوء کیا تومیں آپؐ کے پاس گیا۔ آپؐ بِئْرِاَرِیْس پر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کی منڈیر کے وسط میں تھے۔ آپؐ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا اور انہیں کنویں میں لٹکا دیا۔ حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں پھر میں نے آپؐ کی خدمت میں سلام عرض کیا پھر واپس مڑا اور دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے کہا کہ آج میں ضرور رسول اللہﷺ کا دربان بنوں گا۔ اس دوران حضرت ابو بکرؓ آئے اور انہوں نے دروازہ کو دھکا دیا۔ میں نے کہا کون ہے؟ انہوں نے کہا ابو بکرؓ۔ میں نے کہا ٹھہرئیے۔ حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں میں گیااور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ابو بکرؓ اجازت مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو۔ حضرت ابو مو سیٰؓ کہتے ہیں میں گیا اور میں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ اند ر آجائیں، رسول اللہﷺ آپؓ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں پھر حضرت ابو بکرؓ اندر آئے اور رسول اللہﷺ کے ساتھ آپؐ کے دائیں طرف کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دئیے جیسے نبیﷺ نے کیا تھا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا پھر میں واپس آیا اور بیٹھ گیا میں اپنے بھائی کو وضوء کرتے چھوڑ آیا تھا وہ مجھ سے آملنے والا تھا۔ پھر میں نے کہا کہ اگر اللہ نے فلاں کے لئے بھلائی کا ارادہ کیا تو اسے لے آئے گا۔ اس سے ان کی مراد اُن کا بھائی تھا۔ اس دوران کوئی آدمی دروازہ کو حرکت دینے لگا تو میں نے پوچھا کہ کون ہے؟انہوں نے کہا عمرؓ بن خطابؓ۔ میں نے کہا ٹھہرئیے۔ پھر میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپؐ کو سلام عرض کیا اور کہا کہ عمرؓ اجازت طلب کرتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اسے اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دو۔ پھر میں حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہاکہ رسول اللہﷺ نے اجازت دی ہے اور آپؓ کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ وہؓ اندر آئے اور رسول اللہﷺ کے ساتھ آپؐ کے بائیں طرف کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دئیے۔ پھر میں واپس آیا اور بیٹھ گیا اور میں نے کہا کہ اگر اللہ نے فلاں کی بہتری چاہی تو اسے لے آئے گا یعنی ان کا بھائی۔ اس دوران کوئی آدمی آیا اور دروازہ کو حرکت دی۔ میں نے کہا کون ہے؟انہوں نے کہا عثمانؓ بن عفان۔ میں نے کہا ٹھہریں۔ راوی کہتے ہیں میں نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو ان کے بارہ میں بتایا تو آپؐ نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو۔ ایک مصیبت کے ساتھ جو اسے پہنچے گی اس کو جنت کی خوشخبری دے دو۔ راوی کہتے ہیں میں آیا اور کہا کہ اندر آجائیں اور رسول اللہﷺ آپؓ کو ایک مصیبت کے ساتھ جو آپؓ کو پہنچے گی جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عثمانؓ اندر آئے اور کنویں کی منڈیر کو بھرا ہوا پایا۔ اس لئے ان کے سامنے دوسرے حصہ پر بیٹھ گئے۔ شریک کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ میں نے اس سے ان کی قبروں کی تاویل کی۔ ایک اور روایت میں سعید بن مسیب کہتے ہیں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بتایا کہ اس طرف اور (راوی)سلیمان نے میرے لئے مقصورہ کی سمت میں سعید کے بیٹھنے کی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔حضرت ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی تلاش میں نکلا۔ میں نے آپؐ کو کھیتوں میں سے گذرتے ہوئے پایا چنانچہ میں آپؐ کے پیچھے ہولیا۔ پھر میں نے آپؐ کو ایک باغ میں داخل ہوتے ہوئے پایا۔ پھر آپؐ کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا اور انہیں کنویں میں لٹکایا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک دن اپنی ضرورت کے لئے مدینہ کے کسی باغ میں تشریف لائے میں بھی آپؐ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے اور روایت میں یہ ذکر بھی ہے کہ ابن مسیب نے کہا کہ میں نے اس (واقعہ) سے ان کی قبروں کی تاویل کی ان سب کی قبریں اکٹھی بنیں لیکن حضرت عثمانؓ کی قبر الگ بنی۔
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ ؑ کے لئے ہارونؑ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ٭۔ سعید کہتے ہیں کہ میں نے چاہا کہ میں حضرت سعدؓ سے بالمشافہ یہ بات سنوں۔ پس میں حضرت سعدؓ سے ملا اور ان کو وہ بات بتائی جو عامر نے مجھے بتائی تھی انہوں نے کہا کہ میں نے خودآپؐ سے (یہ بات) سنی ہے۔ میں نے کہا کیا آپؓ نے خود حضورﷺ سے سنا ہے؟توانہوں نے اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے کانوں پر رکھااور کہا ہاں، اگر ایسا نہیں ہے تو یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں۔