بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابراہیمؑ نے سوائے تین جھوٹوں کے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں تھے۔ ان کا کہنا إِنِّی سَقِیمٌ میں بیمار ہوں اور ان کا بَلْ فَعَلَہُ کَبِیرُہُمْ ہَذَا یعنی ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے اور ایک دفعہ سارہ کے بارہ میں جب آپ ایک بہت جابر (بادشاہ)کی سلطنت میں گئے اور آپ کے ساتھ سارہ بھی تھیں وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوش شکل تھیں تو انہوں نے ان سے کہا کہ اس جبار کو اگرپتہ لگ گیا کہ تم میری بیوی ہو تو وہ تیرے لئے مجھ پر غالب آجائیگا۔ پس اگر وہ تجھ سے پوچھے، تو اسے کہہ دینا کہ تو میری بہن ہے کیونکہ تو اسلام میں میری بہن ہے اور میں اپنے اور تیرے علاوہ اس ملک میں کسی مسلمان کو نہیں جانتا۔ پس جب آپؑ اس کی مملکت میں داخل ہوئے تو اس جابر کے کسی رشتہ دار نے حضرت سارہ کو دیکھ لیااوروہ اس (بادشاہ) کے پاس گیا اور کہا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو صرف تیرے لئے ہی مناسب ہے۔ پس اس (بادشاہ)نے ان(حضرت سارہ) کو بلا بھیجا۔ چنانچہ انہیں لایا گیا اور حضرت ابراہیمؑ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ جب آپ اس کے پاس اندر گئیں تو وہ اپنا ہاتھ اُن(حضرت سارہ)کی طرف بڑھانے سے نہ رہ سکا۔ مگراس کا ہاتھ نہایت شدت سے جکڑا گیا۔ اس پر اس نے کہا کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ میرا ہاتھ کھول دے پھر میں تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن اس نے پھر وہی حرکت کی اور اس کا ہاتھ پہلے سے زیادہ شدت سے پکڑا گیا۔ اس نے ان سے پھر وہی کہا۔ آپ (سارہ) نے ویسا ہی کیا لیکن اس نے پھر وہی حرکت کی۔ مگر اس کا ہاتھ پہلی دو مرتبہ سے زیادہ شدت سے پکڑا گیا۔ اس پر اس نے کہا تو دعا کر اللہ سے کہ وہ میرا ہاتھ کھول دے، میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ تجھے کوئی تکلیف نہ دوں گا۔ چنانچہ انہوں (حضرت سارہ) نے ایسا ہی کیا اور اس کا ہاتھ کھول دیا گیا پھر اس نے اس شخص کو بلایا جو انہیں لے کر آیا تھا اور اس شخص سے کہا کہ تو تو میرے پاس کسی شیطان کو لے آیا ہے کسی انسان کو نہیں لایا۔ پس اسے میری مملکت سے نکال دو اور اسے ہاجرہ دے دو۔ (راوی کہتے ہیں )وہ چلتی ہوئی آئیں جب حضرت ابراہیمؑ نے ان کو(نماز سے فارغ ہو کر)دیکھا تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ سارہ نے کہا ٹھیک ہے اللہ نے اس بدکار کے ہاتھ کو مجھ سے روکے رکھا بلکہ ایک خادمہ بھی دلوائی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اے ماء السماء کے بیٹو !یہ تمہاری ماں ہے۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جوحضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل ننگے نہایا کرتے تھے اور وہ ایک دوسرے کے ننگ کو دیکھ رہے ہوتے تھے جبکہ حضرت موسیٰؑ علیحدہ ہوکر نہایا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم موسیٰؑ کو ہمارے ساتھ نہانے سے اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں روکتی کہ انہیں فتق کی بیماری ہے۔ ایک دفعہ حضرت موسیٰؑ نہانے کے لئے گئے اور اپناکپڑا حجر پر رکھا اور حجر آپ کا کپڑا لے کر بھاگ گیاتو حضرت موسیٰؑ اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے حجر میرا کپڑا، حجر میرا کپڑایہانتک کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ کو دیکھ لیا اور انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم موسیٰؑ کو تو کوئی بیماری نہیں ہے۔ پھر حجر کھڑا ہو گیا یہانتک کہ انہیں دیکھ لیا گیا۔ وہ کہتے ہیں پھر حضرت موسیٰؑ نے اپنا کپڑا لیا اور حجر کو مارنے لگے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا اللہ کی قسم اس حجر پر موسیٰؑ کی مار کے چھ یا سات نشان ہیں۔ ٭حجر کے لفظی معنے تو پتھر کے ہیں ہو سکتا ہے کہ حجر کسی شخص کا نام ہو واللہ اعلم۔ آخری فقرہ کہ حجر پر حضرت موسیٰؑ کے مارنے کے نشان ہیں حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ اس سے اگلی روایت میں یہ واقعہ حضرت ابو ہریرہؓ کی طرف منسوب ہے حضورﷺ کی حدیث کے طور پر نہیں ہے۔
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ہمیں بتایا کہ حضرت موسیٰؑ بڑے حیادار تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی عریاں نہیں دیکھے گئے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے کہ بنی اسرائیل نے کہا کہ وہ فتق سے بیمار ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے چھوٹے چشمہ سے غسل کیااور حجر پر اپنے کپڑے رکھے اور حجر دوڑنے لگا اور حضرت موسیٰؑ نے اپنے سوٹے کے ساتھ اسے مارتے ہوئے اس کا پیچھا کیااے حجر میرا کپڑا، حجر میرا کپڑا یہانتک کہ حجر بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس آکھڑا ہواتو یہ آیت نازل ہوئی۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَّا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللَّہِ وَجِیہًایعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰؑ کو تکلیف دی پھر اللہ نے اسے اس سے بری کر دیاجو انہوں نے کہا اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی وجاہت والا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ موت کا فرشتہ حضرت موسیٰؑ کی طرف بھیجا گیا۔ جب وہ (فرشتہ) حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تو حضرت موسیٰؑ نے اسے (ایک طمانچہ) مارا اور اس (فرشتہ)کی آنکھ پھوڑدی۔ چنانچہ وہ (فرشتہ)اپنے رب کی طرف گیا اور عرض کیا کہ تونے مجھے ایک ایسے بندہ کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں پھر اللہ نے اسے اس کی آنکھ لوٹادی اور فرمایا اس کی طرف واپس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اپنے ہاتھ کو بیل کی پیٹھ پر رکھے تو جتنے بال اس کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے تو ہر بال کے بدلے اسے ایک سال (کی عمر)ملے گی۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا اے میرے رب پھر کیا ہو گا؟ اللہ نے فرمایا پھر موت ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا (موت ہی ہے تو)ابھی سہی۔ پھر موسیٰؑ نے اللہ سے التجاء کی کہ وہ انہیں ارض مقدسہ سے اتنا قریب کر دے جتنی دور پھینکنے پر ایک پتھر گرتا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگرمیں وہاں ہوتا تو تمہیں ضرور ایک رستہ کے پہلو میں سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھا دیتا۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ موت کا فرشتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اپنے رب کے بلاوے کو قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت موسیٰؑ نے موت کے فرشتہ کی آنکھ پر تھپڑ مارا اور اسے پھوڑ دیا۔ انہوں نے فرمایا پھر فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ گیا اور عرض کیا کہ تونے مجھے ایسے بندہ کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا اور اس نے میری آنکھ بھی پھوڑ ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر اللہ نے اسے اس کی آنکھ لوٹادی اور فرمایا کہ جاؤ میرے بندہ کے پاس اور کہو کہ تم زندگی چاہتے ہو؟ پس اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو۔ پس تمہارے ہاتھ نے جتنے بال ڈھانپ لئے، ہر بال کے مطابق تم ایک سال زندہ رہو گے۔ انہوں نے کہا پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا پھر تم مر جاؤ گے۔ انہوں نے کہا توپھر ابھی سہی۔ اے میرے رب!تو مجھے ارض مقدسہ سے ٹپے بھر فاصلہ پروفات دے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر میں اس (ارض مقدسہ) کے پاس ہوتا تو ضرور ایک راستہ کے پہلو میں سرخ ٹیلے کے قریب تمہیں اُن کی قبر دکھا دیتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی اپنا کچھ سامان بیچ رہا تھا۔ اسے اس (سامان) کی کوئی قیمت دی گئی تو اس نے اسے ناپسند کیا یا اس (قیمت)پر راضی نہ ہوا_ عبدالعزیز نے اس میں شک کیا ہے_اس (یہودی) نے کہا نہیں، اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سب انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انصارؓ میں سے کسی آدمی نے اسے (یہ کہتے) سن لیا اور اس(یہودی) کے چہرہ پر طمانچہ مارا۔ اس (انصاری)نے کہا کہ تو کہتا ہے کہ اس کی قسم جس نے موسیٰؑ کو سب انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ راوی کہتے ہیں وہ یہودی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے ابو القاسم! میرے لئے (آپؐ کی)ذمہ داری اور عہد ہے اور کہا کہ فلاں نے میرے چہرے پر طمانچہ مارا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے(اس انصاری سے)پوچھا کہ تم نے کیوں اس کے چہرہ پر طمانچہ مارا؟ راوی کہتے ہیں کہ اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس نے کہا تھا کہ اس کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کوسب انسانوں پر فضیلت دی جبکہ آپؐ ہمارے درمیان موجود ہیں (راوی کہتے ہیں )اس پر رسول اللہﷺ ناراض ہوئے یہانتک کہ ناراضگی آپؐ کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اللہ کے انبیاء کے درمیان فضیلت نہ دو کیونکہ یقینًا جب صور پھونکا جائے گا سوائے اس کے جسے اللہ چاہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے غش کھا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا پھر دوسری مرتبہ اس میں (صور)پھونکا جائے گا تو سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جو اٹھایا جاؤں گا یا سب سے پہلے جنہیں اٹھایا جائے گا ان میں میں ہوں گاتو کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوئے ہیں میں نہیں جانتا کہ آیا طور والے دن ان کی غشی شمار کر لی گئی یا انہیں مجھ سے پہلے اٹھایا گیا اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی یونس بن مَتّی علیہ السلام سے زیادہ صاحبِ فضیلت ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ یہود اور مسلمانوں میں سے دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہا۔ مسلمان نے کہا اس کی قسم جس نے محمدﷺ کو سب جہانوں پر فضیلت دی ہے۔ یہودی نے کہا اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سب جہانوں پر فضیلت دی ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس یہودی کے چہرہ پر طمانچہ مارا۔ تب وہ یہودی رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور اپنے اور اس مسلمان کے معاملہ کے بارہ میں بتایا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے موسیٰؑ پر فضیلت مت دو کیونکہ یقینا لوگ بے ہوش ہو جائیں گے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا۔ تب میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ کوعرش کو ایک طرف سے پکڑے ہوئے ہوں گے مجھے نہیں پتہ آیا وہ غش کھاجانے والوں میں سے تھے اور مجھ سے قبل ہوش میں آگئے یا وہ ان میں سے تھے جن کی اللہ نے استثناء کی ہے۔ ایک روایت میں (رَجُلَانِ کے بجائے) رَجُلٌ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں (أَمْ کَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَی اللَّہُ کی بجائے) أَوْ اکْتَفَی بِصَعْقَۃِ الطُّورِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انبیاء کے درمیان فضیلت (کا مقابلہ)نہ کیا کرو۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں آیا اور ایک روایت میں ہے جس رات مجھے اسراء کرایا گیااور میں سرخ ٹیلے کے قریب موسیٰؑ کے پاس سے گزرا اور وہ (موسٰیؑ )اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں موسیٰ ؑ کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جس رات مجھے اسراء کرایا گیا۔