بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں لوگوں میں سے عیسیٰؑ کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ انبیاء علاتی بھائی ہیں اور میرے اور عیسٰی کے درمیان کوئی نبی نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی آدم میں سے ہر ایک جو جس دن اس کی ماں جنم دیتی ہے شیطان اسے مسّ کرتا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ نومولود کا چلانا اس وقت ہوتا ہے جب شیطان کا کچوکہ لگتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم نبی علیہ السلام جب اسّی سال کے تھے تب ان کا قدوم(مقام) میں ختنہ ہوا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت لوطؑ کی مغفرت فرمائے۔ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی طرف پناہ لی۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جوحضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پہلی میں اور آخری میں بھی عیسیٰ ابن مریم کے قریب ہوں۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ!کیسے؟ فرمایا انبیاء علاتی بھائی ہوتے ہیں اور اُن کی مائیں مختلف ہوتی ہیں اور اُن کا دین ایک ہی ہوتا ہے۔ پس ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے تو شیطان کے کچوکے کی وجہ سے وہ چلانے لگتا ہے سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ پھرحضرت ابو ہریرہؓ نے کہااگر تم چاہو تو یہ (آیت) پڑھو۔ وَإِنِّی أُعِیذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ترجمہ: میں اسے اور اس کی نسل کو شیطان سے جوراندئہ درگاہِ ہے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ (شیطان) اسے مس کرتا ہے اور شیطان کے مسّ کی وجہ سے چلانے لگتا ہے۔ ایک اور روایت میں (مِنْ مَسَّۃِ الشَّیْطَانِ کی بجائے) مِنْ مَسِّ الشَّیْطَانِ کے الفاظ ہیں۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ احادیث ہیں جوحضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں رسول اللہﷺ سے بتائیں اور انہوں نے کئی احادیث بیان کیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت عیسیٰؑ نے اسے کہا کہ تونے چوری کی ہے۔ اس نے کہا ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس پر عیسیٰؑ نے کہا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنے نفس کو جھٹلاتا ہوں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یَا خَیْرَ الْبَرِیَّۃِ (یعنی اے مخلوق میں سے سب سے بہترین)اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہم حضرت ابراہیمؑ کی نسبت شک کے زیادہ حق دار ہیں جب انہوں نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کیا تو ایمان نہیں لا چکا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں مگر اس لئے(پوچھا ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ اللہ رحم فرمائے لوطؑ پر وہ ایک مضبوط سہارے کی طرف پناہ لیا کرتے تھے اور اگر میں یوسفؑ جتنا عرصہ قید میں رہتا تو ضروربُلانے والے کا بلاوا قبول کر لیتا۔