بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کے پاس کوئی ضرورت مند آتا تو آپؐ اپنے پاس بیٹھے ہوئے احباب کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے سفارش کرو تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ جو پسند کرے گا (وہی) اپنے نبی ؐ کی زبان پر فیصلہ فرمائے گا۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے دو بچیوں کی پرورش کی یہانتک کہ وہ دونوں بالغ ہوگئیں تو قیامت کے دن وہ آئے گا، میں اور وہ اس طرح ہوں گے اور آپؐ نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایااچھے ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی سی ہے۔ خوشبو والا یا تو تجھے (خوشبو) دے دے گا یا تو اس سے خرید لے گا یا کم از کم تجھے اس سے اچھی خوشبو تو آجائے گی اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلادے گا یا تجھے اس سے بدبو آئے گی۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اُس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں اس نے مجھ سے مانگا مگر اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ پایا۔ میں نے وہی اسے دے دی۔ اس نے وہ لی اور وہی اپنی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کردی اور خوداس میں سے کچھ نہ کھایا۔ پھر اُٹھ گئی اور اس کی دونوں بیٹیاں بھی۔ پھر نبیﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی بات بتائی اس پر نبیﷺ نے فرمایا جس کی بیٹیوں سے کچھ آزمائش کی گئی اور اس نے ان بیٹیوں سے حسن سلوک کیا تو وہ آگ سے اس کے لئے روک ہوجائیں گی
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دوبیٹیاں اُٹھائے ہوئے آئی تو میں نے اسے تین کھجوریں کھانے کو دیں اس نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی اور ایک کھجور کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف بڑھائی ہی تھی کہ اس کی بیٹیوں نے کھانے کے لئے وہ بھی مانگ لی۔ چنانچہ اس نے وہ کھجورجسے وہ کھانا چاہتی تھی ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کردی۔ مجھے اس کا فعل پسند آیا اور میں نے جو اس نے کیا تھا رسول اللہﷺ سے اس کاذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے اس وجہ سے اس پر جنت واجب کردی یا(فرمایا) اس کی وجہ سے اسے آگ سے آ زاد کردیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے مر جائیں اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لئے۔ ایک روایت میں (فَتَمَسَّہُ النَّارکی بجائے) فَیَلِجَ النَّارَکے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انصاری عورتوں سے فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوئے اور وہ راضی برضا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ اس پر ان میں سے ایک عورت نے کہا یا دو (بچے)یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا یا دو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مرد آپؐ کی ساری باتیں سُن لیتے ہیں۔ پس آپؐ بنفسِ نفیس ہم سے ملنے کے لئے کوئی ایسا دن مقرر فرمادیں جس میں ہم آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپؐ ہمیں اس میں سے کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپؐ کو سکھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن اکٹھی ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ سب اکٹھی ہوئیں اور رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں اس میں سے سکھایا جو اللہ نے آپؐ کو سکھایا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی (عورت) تین بچے اپنے آگے نہیں بھیجتی مگر وہ اس کے لئے آگ سے روک بن جاتے ہیں۔ اس پر ایک عورت نے عرض کیا اور (اگر)دو ہوں، دو ہوں، دو ہوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا (خواہ) دو ہوں، دو ہوں، دو ہوں۔ ایک روایت میں ہے حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ تین(بچے) جو بالغ نہ ہوئے ہوں۔
ابو حسان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے پوچھا کہ میرے دو بیٹے مر گئے ہیں اور آپؐ ہمیں رسول اللہﷺ کی کوئی ایسی حدیث نہیں بتاتے جس سے آپ ہمیں ہمارے وفات یافتگان کے بارہ میں خوش کردیں۔ وہ کہتے ہیں حضرت ابوہریرہؓ نے کہا ہاں ان کے چھوٹے (بچے) توجنت کی چھوٹی مچھلیاں ہیں۔ جب ان میں سے کوئی اپنے باپ یا کہا کہ اپنے والدین سے ملے گا تووہ اس کے کپڑے کو پکڑے گا یا کہا کہ اس کا ہاتھ پکڑے گا جیسے میں تمہارے اس کپڑے کے پلو کو پکڑے ہوئے ہوں وہ اس وقت تک باز نہیں آئے گایا کہا نہیں ہوگا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے۔ ایک اور روایت میں ہے ابو حسان کہتے ہیں کہ کیا آپؓ نے رسول اللہﷺ سے کوئی ایسی بات سنی ہے جو ہمیں ہمارے وفات یافتگان کی طرف سے خوش کردے۔ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بچہ کے ساتھ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ !اس کے لئے اللہ سے دعا کیجئے تین(بچوں ) کو میں دفنا چکی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تین(بچوں ) کو دفنا چکی ہو! اس نے عرض کیاجی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تم نے توآگ سے بچاؤ کے لئے بڑی مضبوط روک بنالی ہے۔