بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
عبداللہ بن دینار حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ جب بھی وہ مکہ کی طرف جاتے تو ان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا جب وہ اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو اس پر آرام محسوس کرتے اور ایک عمامہ ہوتا جسے وہ اپنے سر پر باندھتے ایک روز اس اثناء میں کہ وہ اسی گدھے پر (سوار) جارہے تھے کہ ان کے پاس سے ایک بدوی گذرا تو انہوں نے کہا کیا تم ابن فلاں بن فلاں نہیں ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ اس پر آپؐ نے اسے وہ گدھادے دیا اور کہا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اور عمامہ بھی دیا اور کہا کہ اس کو اپنے سر پر باندھ لو اس پر ان کے ایک ساتھی نے کہا اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ آپؐ نے اس بدوی کو گدھا دے دیا جس پر آپ آرام کی خاطر سواری کرتے تھے اور عمامہ بھی جسے آپ اپنے سر پر باندھتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کا اپنے باپ کے بعد اس کے باپ کے پیاروں سے حسن سلوک کرنایقینا سب سے بڑی نیکی ہے۔ اس (بدوی) کا باپ حضرت عمرؓ کا دوست تھا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جسے پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراخی دی جائے یا اس کی عمر لمبی کی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت نواس بن سمعانؓ انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا نیکی حسنِ خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ لگے۔
حضرت نواس بن سمعانؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس مدینہ میں ایک سال تک رہا۔ مجھے ہجرت (کرنے) سے صرف سوال کرنے (کی خواہش) نے روکے رکھا۔ اس بات نے روکے رکھا کہ جب ہم میں سے کوئی ہجرت کر لیتا تو رسول اللہﷺ سے کسی چیز کے بارہ میں سوال نہ کرتا۔ وہ (نواس) کہتے ہیں میں نے حضورؐ سے نیکی اور بدی کے بارہ میں سوال کیا اس پررسول اللہﷺ نے فرمایا نیکی حسنِ خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا یہانتک کہ جب وہ اُن سے فارغ ہوا تو رِحم کھڑا ہوا اور کہنے لگا یہ مقام اس کا ہے جو قطع رحمی کرنے والے سے تیری پناہ چاہتا ہے۔ فرمایا ہاں ! کیا تم خوش نہیں ہو کہ میں اس سے تعلق جوڑوں جو تجھ سے تعلق جوڑے اور اس سے قطع تعلق کروں جو تجھ سے قطع تعلق کرے اس (رِحم) نے کہا کیوں نہیں (اللہ نے) فرمایا یہ مقام تیرے لئے ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر چاہو تو (یہ آیت) پڑھ لو فَہَلْ عَسَیتُمْ اِنْ تَوَلَّیتُمْ اَنْ تُفْسِدُوا فِی اْلارْضِ وَ تُقَطِّعُوا اَرْحَامَکُمْ اُولٓئِکَ الَّذینَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَھُمْ اَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوبٍ اَقْفَالُھا٭کیا تمہارے لئے ممکن ہے کہ اگر تم متولّی ہوجاؤ تو تم ز مین میں فساد کرتے پھرو اور اپنے رحمی رشتوں کو کاٹ دو؟ (ہرگز نہیں ) یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں بہرہ کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ پس کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ رِحم عرش سے تعلق رکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ جو مجھ سے تعلق جو ڑے گا اللہ اس سے تعلق جوڑے گا اور جو مجھ سے قطع تعلق کرے گا اللہ اس سے قطع تعلق کرے گا۔
محمد بن جبیر بن مطعمؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ سفیان کہتے تھے ’’یعنی قطع رحمی کرنے والا‘‘
محمد بن جبیر بن مطعمؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والدنے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ایسے قرابت دار ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلقی کرتے ہیں میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان سے حلم سے پیش آتا ہوں وہ مجھ سے جہالت سے پیش آتے ہیں۔ اس پرآپؐ نے فرمایا اگر تم ویسے ہی ہو جیسا کہ تم کہتے ہو۔ تو تم گویا ان پر گرم راکھ ڈالتے ہو۔ جب تک تم اس حال پر رہے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ان کے مقابل پر ایک مددگار رہے گا۔