بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 186 hadith
حضرت سعیدؓ بن زید کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کھمبی مَنّ میں سے ہے جو اللہ عز وّ جل نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔
حضرت سعیدؓ بن زید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کھمبی مَنّ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم مَرُّ الظَّھران میں نبیﷺ کے ساتھ تھے اور ہم کباث چن رہے تھے تو نبیﷺ نے فرمایا ان میں سے کالے چنو۔ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! معلوم ہوتا ہے آپؐ نے بکریاں چرائی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ یا اس جیسی بات فرمائی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ لفظ اِدَامُ استعمال کیا یا اُدُم۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے۔ آپؐ نے وہ منگوایا اور اس کے ساتھ کھانے لگے اور فرمانے لگے سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے، سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔
حضرت جابر بنؓ عبداللہ کہتے ہیں ایک دن رسول اللہﷺ نے اپنے گھر جاتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا۔ (گھر والوں) نے آپؐ کے لئے روٹی کے چند ٹکڑے نکالے۔ آپؐ نے فرمایا سالن نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا تھوڑے سے سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا (لے آؤ) سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں جب سے میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور راوی طلحہ کہتے ہیں جب سے میں نے حضرت جابرؓ سے یہ سنا ہے اس وقت سے میں (بھی) سرکہ پسند کرتا ہوں۔ ایک اور روایت میں (اَخَذَ رَسُوْلُ اللَّہِﷺ بِیَدِی ْذَاتَ یَوْمٍ اِلَی مَنْزِلِہِ کی بجائے) أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِﷺ اَخَذَ بِیَدِہِ اِلَی مَنْزِلِہِ کے الفاظ ہیں اور روایت کے آخر میں فَنِعْمَ الْاُدُمُ الْخَلُّ کے الفاظ ہیں مگر اس کے بعد کے الفاظ بیان نہیں۔
حضرت جابر بنؓ عبداللہ کہتے ہیں میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہﷺ میرے پاس سے گذرے اور آپؐ نے مجھے اشارہ فرمایا میں اُٹھ کر آپؐ کے پاس گیا۔ آپؐ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چلے یہاں تک کہ آپؐ اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے حجرہ میں آئے۔ آپؐ اندر داخل ہوئے۔ پھر آپؐ نے مجھے اجازت دی۔ میں اس جگہ داخل ہوا جہاں پردہ پڑا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کیا کوئی کھانا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ پھر تین روٹیاں لائی گئیں اور نبیﷺ کے سامنے رکھ دی گئیں۔ رسول اللہﷺ نے ایک روٹی لی، اسے اپنے سامنے رکھا اور دوسری روٹی لی اور اسے میرے سامنے رکھا پھر تیسری لی۔ اس کے دو حصے کئے، نصف اپنے سامنے رکھی اور نصف میرے سامنے۔ پھر فرمایا کیا کوئی سالن ہے؟ انہوں نے کہا نہیں مگر کچھ سرکہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہی لے آؤ۔ کیا ہی اچھا سالن ہے وہ۔
حضرت ابو ایوبؓ انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب رسول اللہﷺ کے پاس کھانا پیش کیا جاتا۔ آپؐ اس میں سے کھاتے اور اس میں سے جو بچ جاتا وہ مجھے بھیج دیتے۔ ایک دن آپؐ نے مجھے بچا ہوا کھانا بھیجا جس میں سے آپؐ نے نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا۔ میں نے آپؐ سے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں لیکن میں اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا جو چیز آپؐ ناپسند فرماتے ہیں میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں۔
حضرت ابو ایوبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ ان کے ہاں اترے۔ نبیﷺ نچلی منزل میں اور حضرت ابو ایوبؓ اوپر والی منزل میں تھے۔ راوی کہتے ہیں ایک رات ابو ایوب بیدار ہوئے اور کہا ہم رسول اللہﷺ کے سر کے اوپر چلتے ہیں۔ پس وہ ایک طرف ہٹ گئے اور ایک کونے میں رات گزاری۔ پھر انہوں نے نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو نبیﷺ نے فرمایا نچلے حصہ میں زیادہ سہولت ہے۔ انہوں نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپؐ ہوں۔ نبیﷺ اوپر منتقل ہو گئے اور ابو ایوبؓ نیچے۔ وہ نبیﷺ کے لئے کھانا بناتے تھے اور جب وہ (کھانا) رسول اللہﷺ کی طرف سے ان کے پاس واپس لایا جاتا تو وہ پوچھتے کہ کس جگہ آپؐ کی انگلیاں لگی تھیں۔ پھر وہ آپؐ کی انگلیوں کی جگہ کا تتبع کرتے۔ انہوں نے (ایک دفعہ) آپؐ کے لئے کھانا تیار کیا جس میں لہسن تھا جب وہ اُن کی طرف واپس لایا گیا تو انہوں نے نبیﷺ کی انگلیوں کی جگہ کے متعلق پوچھا اور ان سے کہا گیا کہ آپؐ نے نہیں کھایا تو وہ گھبرا گئے اور آپؐ کی طرف اوپر گئے اور پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا جس کو آپؐ ناپسند کرتے ہیں میں اس کو ناپسند کرتا ہوں یا (انہوں نے کہا) جس کو آپؐ نے ناپسند کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس (فرشتے) آتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اس نے کہا میں فاقہ زدہ ہوں۔ آپؐ نے اپنی ایک زوجہ مطہرہ کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر آپؐ نے (ایک اور زوجہ مطہرہ) کی طرف بھیجا۔ انہوں نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ ان سب نے اسی طرح کہا کہ نہیں! اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا جو اس شخص کو رات مہمان بنائے گا اللہ اس پر رحم کرے گا۔ انصارؓ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا میں یا رسولؐ اللہ! وہ اسے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا سوائے میرے بچوں کی خوراک کے اور کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی چیز سے بہلا دو اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر ظاہر کرو کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں۔ جب وہ کھانے لگے تو چراغ کی طرف جانا اور اسے بجھا دینا۔ راوی کہتے ہیں وہ سب بیٹھے اور مہمان نے کھایا جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے فرمایا رات جو تم نے اپنے مہمان کے ساتھ کیا اللہ اس سے خوش ہوا۔