حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انصارؓ میں سے ایک شخص کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری اور اس کے پاس صرف اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ہی غذا تھی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو اور جو تمہارے پاس ہے مہمان کو پیش کر دو۔ راوی کہتے ہیں اور یہ آیت نازل ہوئی ’’اور خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے باوجود اس کے کہ انہیں خود تنگی درپیش تھی۔ ایک اور روایت میں ہے ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا کہ وہ آپؐ کا مہمان ہو۔ آپؐ کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا کوئی ہے جو اس کی مہمان نوازی کرے؟ اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔ اس پر انصارؓ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا جو ابو طلحہؓ کہلاتے تھے۔ وہ اسے اپنے ڈیرے پر لے گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا . قَالَ فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ - قَالَ - فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ - قَالَ - ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ - قَالَ - نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ فَلاَ يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ . وَعَلَىَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَىَّ خَرَجَ رَأْسِي وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَاىَ وَجَعَلَ لاَ يَجِيئُنِي النَّوْمُ وَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ - قَالَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ الآنَ يَدْعُو عَلَىَّ فَأَهْلِكُ . فَقَالَ اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي . قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَىَّ وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ - قَالَ - فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
حضرت مقدادؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اور میرے دو ساتھی آئے اور ہمارے کان اور آنکھیں مشقت کی وجہ سے متاثر ہو گئی تھیں۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کے صحابہؓ پر پیش کرنے لگے مگر کسی نے ہمیں قبول نہ کیا تو ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ آپؐ ہمیں اپنے گھر لے گئے تو وہاں تین بکریاں تھیں۔ نبیﷺ نے فرمایا ان کا دودھ ہم سب کے لئے دوھ لیا کرو۔ وہ کہتے ہیں ہم دودھ دوہتے اور ہم میں سے ہر شخص اپنا حصہ پی لیتا اور ہم نبیﷺ کے لئے آپؐ کا حصہ رکھ دیتے۔ وہ کہتے ہیں آپؐ رات کو تشریف لاتے اور السلام علیکم کہتے کہ سونے والا بیدار نہ ہوتا اور جو جاگ رہا ہوتا سن لیتا۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ مسجد تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے پھر اپنا مشروب لیتے اور نوش فرماتے۔ ایک رات میرے پاس شیطان آیا جبکہ میں اپنا حصہ پی چکا تھا۔ اس نے کہا محمدؐ انصارؓ کے پاس جاتے ہیں وہ آپؐ کو پیش کرتے ہیں اور آپؐ کو ان کے ہاں سے (کچھ) مل جائے گا۔ آپؐ کو اس گھونٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے وہ لے کر پی لیا۔ جب وہ میرے پیٹ میں چلا گیا میں جان گیا کہ اب اس کے حصول کی کوئی راہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں شیطان نے مجھے نادم کیا اور کہا کہ تیرا برا ہو تو نے کیا کیا، تو نے محمدؐ کے حصہ کا مشروب پی لیا ہے؟ وہ تشریف لائیں گے اور اسے نہ پائیں گے تو وہ تیرے خلاف دعا کریں گے اور تو ہلاک ہو جائے گا اور تیری دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی۔ میرے اوپر ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر باہر رہ جاتا اور جب سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں باہر نکل جاتے اور مجھے نیند نہ آتی تھی اور میرے دونوں ساتھی تو سو گئے اور انہوں نے وہ نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں پھر نبیﷺ تشریف لائے۔ آپؐ نے السلام علیکم کہا جیسے کہا کرتے تھے۔ پھر مسجد گئے اور نماز پڑھی پھر اپنے مشروب کی طرف آئے اور اس سے ڈھکنا ہٹایا تو اس میں کچھ نہ پایا۔ آپؐ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا۔ میں نے کہا اب آپؐ میرے خلاف دعا کریں گے اور میں ہلاک ہو جاؤں گا لیکن آپؐ نے کہا اے اللہ! جو مجھے کھلائے اس کو تو کھلا اور جو مجھے پلائے تو اس کو پلا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنی چادر لی اور اسے اپنے اوپر مضبوطی سے باندھا اور چھری لی اور ان میں سے سب سے فربہ کی طرف چل پڑا کہ اسے رسول اللہﷺ کے لئے ذبح کروں۔ دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ ان سب کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے۔ پھر میں محمدﷺ کے گھر والوں کا ایک برتن لایا۔ ان کو خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ اس میں دودھ دوھ کر اس کو بھر یں گے۔ وہ کہتے ہیں میں نے اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ اس کے اوپر تک جھاگ آگئی۔ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم لوگوں نے آج رات اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ پیجئے۔ آپؐ نے پیا پھر مجھے دیا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ پیجئے۔ آپؐ نے پیا پھر مجھے دیا۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ نبیﷺ سیر ہوگئے ہیں اور میں نے آپؐ کی دعا لے لی ہے۔ میں ہنس پڑا یہاں تک کہ میں بے اختیار زمین پر جا رہا۔ وہ کہتے ہیں نبی
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى جَمِيعًا عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ - وَحَدَّثَ أَيْضًا - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ . فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ - أَوْ قَالَ - أَمْ هِبَةٌ . فَقَالَ لاَ بَلْ بَيْعٌ . فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى . قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلاَثِينَ وَمِائَةٍ إِلاَّ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ - قَالَ - وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ . أَوْ كَمَا قَالَ .
عبد الرحمان بن ابو بکرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم ایک سو تیس آدمی نبیﷺ کے ساتھ تھے۔ نبیﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک شخص کے پاس ایک صاع یا اس کے لگ بھگ آٹا تھا۔ اسے گوندھا گیا پھر ایک پراگندہ بالوں والا قد آور شخص بکریاں ہانکتا ہوا لایا تو نبیﷺ نے فرمایا کیا بیچنے کے لئے ہیں یا تحفہ؟ یا فرمایا یا ہبہ؟ اس نے کہا نہیں بلکہ بیچنے کے لئے! آپؐ نے اس سے ایک بکری خریدی اور اس کا گوشت بنایا گیا رسول اللہﷺ نے اس کی کلیجی بھوننے کا ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں اور اللہ کی قسم! ایک سو تیس میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جسے رسول اللہﷺ نے کلیجی سے ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو۔ جو موجود تھا اس کو دے دیا اور غیر حاضر کے لئے بچا کر رکھ چھوڑا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے دو اور پیالے بنائے ہم سب نے اس میں سے کھایا اور سیر ہوگئے اور دونوں پیالوں میں بچ بھی رہا۔ میں نے اسے اونٹ پر رکھ لیا یا جیسا انہوں نے کہا۔
حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تین آدمیوں کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا ہو وہ پانچویں چھٹے کو لے جائے یا جیسا بھی فرمایا اور حضرت ابو بکرؓ تین آدمیوں کو لائے اور نبی ﷺ دس آدمیوں کو لے گئے اور ابو بکر تین کو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ہمارے گھر میں وہ، میں اور میرے والد اور میری والدہ اور میں نہیں جانتا کہ انہوں نے کہا میری بیوی اور خادم ہمارے اور ابو بکرؓ کے گھر کے درمیان تھے۔ وہ کہتے ہیں اور رات کا کھانا حضرت ابو بکرؓ نے نبی ﷺ کے ساتھ کھایا پھر وہ ٹھہرے یہان تک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی۔ پھر وہ لوٹے اور ٹھہرے یہان تک کہ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آگئی پھر رات کا ایک حصہ جیسے اللہ نے چاہا گزر جانے کے بعد وہ آئے۔ ان کی بیوی نے انہیں کہا۔ آپ کو آپ کے مہمانوں سے کس چیز نے روک دیا؟ یا کہا اپنے مہمان سے۔ انہوں نے کہا کیا تم نے انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا وہ نہ مانے جبتک کہ آپ آجائیں۔ انہوں نے ان کو (کھانا) پیش کیا تھا مگر وہ ان پر (انکار میں) غالب آگئے، راوی (عبدالرحمان) کہتے ہیں میں جاکر چھپ گیا۔ انہوں نے کہا اے سست الوجود! اور بہت برا بھلا کہا اور کہا کھائیے۔ یہ اچھا نہیں ہوا۔ اور کہا اللہ کی قسم میں اسے کبھی نہ کھاؤں گا۔ وہ کہتے ہیں ہم جو لقمہ بھی لیتے تھے اس کے نیچے سے اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا تھا وہ کہتے ہیں یہان تک کہ ہم سیر ہوگئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابو بکرؓ نے اس کی طرف دیکھا تو ویسے کا ویسا ہی تھا بلکہ زیادہ۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا اے بنی فراس کی بہن یہ کیا! انہوں نے کہا نہیں، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر اس میں سے ابو بکرؓ نے کھایا اور کہا کہ یہ تو صرف شیطان کی طرف سے تھی ان کی مراد اپنی قسم سے تھی۔ انہوں نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور پھر (کھانے کو) رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے۔ وہ آپؐ کے ہاں صبح تک رہا۔ وہ کہتے ہیں ہمارے اور ایک قوم کے درمیان ایک معاہدہ تھا اور (اس کی) مدت گزر گئی تھی۔ ہم نے بارہ آدمیوں کو نگران مقرر کیا تھا۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ کچھ لوگ تھے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ کتنے تھے۔ بہر حال آپؐ نے وہ (کھانا) ان کے ساتھ بھجوا دیا اور ان سب نے اس میں سے کھایا یا جیسے انہوں نے بیان کیا۔
عبد الرحمانؓ بن ابو بکرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمارے ہاں ہمارے کچھ مہمان آئے۔ وہ کہتے ہیں میرے والد رات کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر گفتگو کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں وہ چلے اور انہوں نے کہا اے عبد الرحمان! تم اپنے مہمانوں سے فارغ ہو لینا۔ وہ کہتے ہیں جب شام ہوئی تو ہم ان کے لئے کھانا لائے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے کھانے سے انکار کیا اور کہا یہانتک کہ گھر کے مالک آجائیں اور ہمارے ساتھ کھائیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے انہیں کہا وہ تیز طبیعت آدمی ہیں۔ اگر آپ لوگوں نے کھانا نہ کھایا تو مجھے ان سے تکلیف کا ڈر ہے۔ وہ کہتے ہیں مگر انہوں نے انکار کیا۔ جب وہ (حضرت ابو بکرؓ) آئے تو سب سے پہلے یہی بات کہی کیا تم اپنے مہمانوں سے فارغ ہوچکے ہو؟ وہ کہتے ہیں انہوں (گھر والوں) نے کہا نہیں۔ اللہ کی قسم ہم فارغ نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کیا میں نے عبد الرحمان کو (اس کا) نہیں کہا تھا۔ وہ کہتے ہیں میں ایک طرف ہو گیا۔ انہوں نے کہا اے عبد الرحمان! میں ایک طرف ہی رہا۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے کہا اے سست الوجود! اگر تو میری آواز سنتا ہے تو میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ آجاؤ، تو میں آگیا اور میں نے کہا میرا کوئی قصور نہیں۔ یہ ہیں آپ کے مہمان، ان سے پوچھ لیں۔ میں ان کے پاس ان کا کھانا لایا تھا۔ انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا جب تک کہ آپ نہ آجائیں۔ وہ کہتے ہیں آپ نے ان سے کہا آپ لوگوں کو کیا ہوا کہ آپ ہماری طرف سے اپنی مہمانی قبول نہیں کرتے؟ راوی کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ نے کہا اللہ کی قسم آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم! جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے۔ انہوں نے کہا میں نے اس رات جیسی خرابی کبھی نہیں دیکھی۔ تمہارا بھلا ہو تمہیں کیا ہے کہ تم ہماری طرف سے اپنی مہمانی قبول نہیں کرتے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے کہا پہلی (قسم) شیطان کی طرف سے تھی اپنا کھانا لاؤ، راوی کہتے ہیں کھانا لایا گیا انہوں نے بسم اللہ پڑھی اور کھایا اور انہوں (مہمانوں) نے بھی کھایا۔ وہ کہتے ہیں جب صبح ہوئی تو آپؓ نبیﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ان کی قسم سچی ہوئی اور میری قسم باطل ہوئی۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے حضورؐ کو ساری (بات) بتائی تو آپؐ نے فرمایا بلکہ تم ان سے زیادہ حسنِ سلوک کرنے والے، سچے اور ان سے بہتر ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھ تک کفارہ کی خبر نہیں پہنچی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور تین کا کھانا چار کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ .
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کفایت کر جاتا ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوجاتا ہے اور دو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے کافی ہوجاتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔
نے فرمایا اے مقداد! تیری کوئی شرارت ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ساتھ یوں ہوا اور میں نے یہ کیا۔ نبی
ﷺ
نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے۔ تو نے مجھے (پہلے) کیوں نہ بتایا تاکہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو جگا لیتے۔ وہ بھی اس سے پیتے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ جب آپؐ نے وہ (رحمت) پالی اور آپؐ کے ساتھ میں نے وہ (رحمت) پالی۔ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ لوگوں میں سے کون اسے حاصل کرتا ہے۔