عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ . قَالَ قِيلَ ل
أَبِي هُرَيْرَةَ
مَا الْحَنْتَمُ قَالَ الْجِرَارُ الْخُضْرُ .
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مزفت اور حنتم اور نقیر سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہؓ سے کہا گیا حنتم کیا ہے؟ انہوں نے کہا سبز گھڑے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے عبد القیس کے وفد سے فرمایا میں تمہیں دباء اور حنتم اور نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔ حنتم ایسے مشکیزہ کو کہتے ہیں جس کا منہ کٹا ہوا ہو، لیکن تم اپنے مشکیزے سے پیو اور اس کا منہ بند رکھو۔
قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ . هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ . وَفِي حَدِيثِ عَبْثَرٍ وَ
شُعْبَةَ
أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ .
حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ جریر کی روایت ہے اور عبثر اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے دباء اور مزفت سے منع کیا ہے۔
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے اسود سے کہا کیا تم نے حضرت اُمّ المؤمنینؓ سے پوچھا تھا کہ کن برتنوں میں نبیذ بنانا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا اے اُمّ المؤمنینؓ! مجھے بتائیے کہ رسول اللہﷺ نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا آپؐ نے ہم اہل بیت کو منع فرمایا کہ ہم دباء اور مزفت میں نبیذ بنائیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا آپؓ نے حنتم اور جَرْ (ایک قسم کے گھڑے) کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے۔ کیا میں تمہیں وہ بتاؤں جو میں نے نہیں سنا۔
قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيذِ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ .
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں حضرت عائشہؓ سے ملا اور آپؓ سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ عبدالقیس کا وفد نبیﷺ کے پاس آیا۔ انہوں نے نبیﷺ سے نبیذ کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے انہیں دباء اور نقیر اور مزفت اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔
ابو جمرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ عبد القیس کا وفد رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو نبیﷺ نے انہیں فرمایا کہ میں تمہیں دباء اور حنتم اور نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔ ایک اور روایت میں مقیر کی جگہ پر مزفت کا لفظ ہے۔