بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 39 hadith
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مُسِنّہ (سال سے بڑا جانور) کے علاوہ (کوئی جانور) ذبح نہ کرو، سوائے اس کے کہ تم ایسا جانور نہ پاؤ تو دنبہ میں سے جذعہ (ایک سال سے کم اور چھ ماہ سے زیادہ) ذبح کر سکتے ہو۔
ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے سنا وہ کہتے ہیں نبیﷺ نے ہمیں قربانی کے دن مدینہ میں نماز پڑھائی بعض لوگوں نے جلدی سے قربانی کرلی اور انہوں نے خیال کیا کہ نبیﷺ نے قربانی کرلی ہے۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے آپؐ سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوسری قربانی کرے اور جب تک نبیﷺ قربانی نہ کرلیں وہ قربانی نہ کریں۔
حضرت عُقبہؓ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں قربانی کے لئے اپنے ساتھیوں میں بکریاں تقسیم کرنے کے لئے دیں۔ ایک سال کا جانور بچ گیا۔ انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا اسے تم ذبح کر لو۔
حضرت عُقبہؓ بن عامر جہنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ہمارے درمیان قربانی کے جانور تقسیم فرمائے۔ مجھے جذعہ ملا۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے جذعہ ملا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے ذبح کر لو۔ ایک روایت میں (قَسَمَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ فِیْنَا ضَحَایَا کی بجائے) أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِﷺ قَسَمَ ضَحَایَا بَینَ اَصْحَابِہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی ﷺ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ آپؐ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی اور اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی وہ کہتے ہیں میں نے آپﷺ کو ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا اور میں نے یہ (بھی) دیکھا کہ آپؐ نے اپنا پاؤں ان دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی۔ شعبہ بیان کرتے ہیں۔ قتادہ کہتے تھے میں نے حضرت انسؓ کو کہتے سنا رسول اللہﷺ نے قربانی دی وہ کہتے ہیں میں نے کہا کیا آپؓ نے یہ بات (خود) حضرت انسؓ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ایک دوسری روایت میں (قَالَ وَسَمَّی وَ کَبَّرَ کی بجائے) وَیَقُولُ بِسْمِ اللَّہِ وَاللَّہُ اَکْبَرُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے ایک سینگوں والا مینڈھا جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو لانے کا ارشاد فرمایا۔ وہ آپؐ کے پاس قربانی کے لئے لایا گیا۔ آپؐ نے انہیں فرمایا اے عائشہؓ! چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرو۔ انہوں نے (تیز) کر دی۔ آپؐ نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو پکڑ لیا اور اسے لٹایا اور پھر اسے ذبح کیا اور آپؐ نے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ! اسے محمدؐ اور آلِ محمدؐ اور محمدؐ کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ اس کے بعد اسے ذبح کیا۔
حضرت رافعؓ بن خدیج سے روایت ہے کہ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا جلدی کرو یا فرمایا ہوشیاری سے کام لو۔ جو اچھی طرح خون بہائے اور اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا سکتے ہو۔ ہاں مگر دانت اور ناخن سے نہیں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جہاں تک دانت کا تعلق ہے وہ ہڈی ہے اور جو ناخن ہیں وہ حبشہ کی چھریاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں (مالِ غنیمت کے طور پر) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگا۔ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اس نے اسے روک دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ان اونٹوں میں سے بھی بعض جنگلی جانوروں کی طرح بگڑ جاتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی تم پر غالب آجائے تو اس کے ساتھ ایسا کیا کرو۔ حضرت رافعؓ بن خدیج سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم ذوالحلیفہ جو تہامہ کا ایک مقام ہے میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہمیں (مالِ غنیمت میں) بکریاں اور اونٹ ملے۔ لوگوں نے جلدی کی اور ان کو ہنڈیا میں اُبالا۔ آپؐ نے ان کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو وہ اُلٹا دی گئیں۔ پھر دس دس بکریاں ایک ایک اونٹ کے برابر ٹھہرائیں۔ پھر باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو (کیا) ہم بانس وغیرہ کی دھار سے ذبح کر لیں؟ راوی کہتے ہیں ان میں سے ایک اونٹ بے قابو ہوگیا تو ہم نے اُسے تیر مارا یہاں تک کہ اُسے گرا دیا۔ حضرت رافعؓ بن خدیج سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں اور اس روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ لوگوں نے جلدی کی اور اس کے ساتھ ہانڈیاں ابلنے لگیں اور آپؐ نے اُنہیں الٹانے کا حکم دیا اور وہ الٹا دی گئیں۔
ابو عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں عید (کی نماز) میں حضرت علیؓ بن ابی طالب کے ساتھ تھا۔ آپؓ نے خطبہ سے پہلے نماز سے ابتداء کی اور فرمایا رسول اللہﷺ نے ہمیں تین دن کے بعد اپنی قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے ابو عبید نے جو ابن ازھر کے آزاد کردہ غلام تھے بتایا کہ وہ عید (کی نماز) میں حضرت عمرؓ بن خطاب کے ساتھ تھے وہ کہتے ہیں پھر میں نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ کہتے ہیں آپؓ نے ہمیں خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا یقینا رسول اللہﷺ نے تمہیں تین سے زائد (دن) اپنی قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔