بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں گویا میں اب بھی رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک خوب دیکھ رہی ہوں اور آپؐ احرام باندھے ہوئے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو بہترین خوشبو جو آپؐ کو ملتی آپؐ لگاتے اور میں آپؐ کے سر اور آپؐ کی داڑھی میں تیل کی چمک اس کے بعد دیکھتی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ گویا میں مشک کی چمک رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں اور آپؐ احرام باندھے ہوئے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نبی ﷺ کو قبل اس کے کہ آپؐ احرام باندھیں اور قربانی والے دن بھی قبل اس کے کہ آپؐ بیت اللہ کا طواف کریں ایسی خوشبو لگاتی تھی جس میں مشک ہوتا۔
محمد بن منتشر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارہ میں پوچھا جو خوشبو لگاتا ہے پھر احرام باندھتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ مجھے پسند نہیں کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ مجھ سے خوشبو مہک رہی ہو۔ مجھے تارکول لیپ کرلینا اس سے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسا کروں۔ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ ابن عمرؓ یہ کہتے ہیں کہ مجھے پسند نہیں کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ مجھ سے خوشبو مہک رہی ہو اور مجھے تارکول لیپ کرلینا اس سے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں یہ کروں۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو آپؐ کے احرام کے وقت خوشبو لگائی پھر آپؐ اپنی ازواج سے ملنے گئے پھر آپؐ نے احرام باندھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ ﷺ اپنی ازواج کے پاس جاتے پھر آپ ﷺ احرام باندھتے جبکہ آپ ﷺ سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہوتیں۔
حمد بن منتشر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ میں تارکول لیپ کر کے صبح کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں بہ نسبت اس کے کہ احرام کی حالت میں صبح کروں اور مجھ سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان کی بات بتائی۔ آپؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو خوشبو لگائی آپؐ اپنی ازواج (مطہرات) کے پاس گئے۔ پھر آپؐ نے احرام باندھ لیا۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت صعب بن جثَّامہ لیثیؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک گورخر تحفہ دیا جبکہ آپؐ ابواء یا وَدَّان مقام پر تھے۔ رسول اللہﷺ نے وہ اسے واپس کردیا۔ وہ (حضرت صعبؓ ) کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میرے چہرہ کی کیفیت دیکھی تو فرمایا ہم نے تمہیں اس لئے یہ لوٹایا ہے کہ ہم مُحرم ہیں۔ ایک اور روایت میں (اَھْدَی لِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ حِمَارًا وَحْشِیًّا کی بجائے) اَھْدَیْتُ لَہُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ وَحْشٍ ہے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ میں نے حضورؐ کو گورخر کا گوشت تحفۃً پیش کیا تھا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت صعبؓ بن جَثَّامہؓ نے نبیﷺ کو ایک گورخر تحفہ دیا جبکہ آپؐ مُحرِم تھے تو آپؐ نے وہ اسے واپس کر دیا اور فرمایا اگر ہم مُحرِم نہ ہوتے تو ضرور یہ تم سے قبول کر لیتے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت صعبؓ بن جَثَّامہؓ نے نبیﷺ کو گورخر کی ٹانگ تحفہ دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ گورخر کی پُٹھ تھی جس سے خون ٹپک رہا تھا اور ایک اور روایت میں یہ ہے کہ گورخر کا ایک حصہ نبیﷺ کو تحفۃً دیا گیا تو آپؐ نے اسے لوٹا دیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقمؓ آئے تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے یاد داشت تازہ کرنے کے لئے ان سے پوچھا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارہ میں کس طرح بتایا تھا جو رسول اللہﷺ کو تحفہ میں پیش کیا گیا تھا جبکہ آپؐ مُحرِم تھے؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ آپؐ کی خدمت میں شکار کے گوشت کا ایک عضو پیش کیا گیا تھا۔ جو آپؐ نے واپس کر دیا اور فرمایا ہم یہ نہیں کھائیں گے کیونکہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔