بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار نیز غسّان (قبیلہ) کے لوگ مناۃ (بت) کے لئے احرام باندھتے تھے۔ اور وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے کو گناہ سمجھا کرتے تھے اور اُن کے آباء و اجداد کا طریق یہ تھا کہ جو شخص مناۃ (بت) کے لئے احرام باندھتا وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتا تھا اور جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارہ میں یہ نازل فرمایا اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔۔۔ (ترجمہ): یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے اور جو نفلی طور پر نیکی کرنا چاہے تو یقینا اللہ شکر کا حق ادا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ (البقرہ: 159)
حضرت فضلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ پہنچ گئے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں انصارؓ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔۔۔ ترجمہ: یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔ (البقرہ: 159)
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ نے صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی تھی۔ ایک اور روایت میں (اِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا کے بجائے) اِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَہُ الْاَوَّلَ کا اضافہ ہے۔
حضرت اسامہؓ بن زیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں عرفات سے رسول اللہﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا۔ جب رسول اللہﷺ مزدلفہ سے ورے اس بائیں طرف والی گھاٹی تک پہنچے تو آپؐ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ پھر آپؐ تشریف لائے تو میں نے آپؐ کے لئے وضوء کا پانی انڈیلا۔ آپؐ نے ہلکا سا وضوء کیا۔ پھر میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! نماز! آپؐ نے فرمایا نماز آگے چل کر۔ پھر رسول اللہﷺ سوار ہوئے یہان تک کہ مزدلفہ تشریف لائے اور آپؐ نے نماز پڑھائی۔ پھر مزدلفہ کی صبح حضرت فضلؓ (بن عباسؓ) رسول اللہﷺ کی سواری پر آپؐ کے پیچھے بیٹھے۔
عطاء کہتے ہیں مجھے حضرت ابن عباسؓ نے بتایا کہ نبیﷺ نے مزدلفہ سے حضرت فضلؓ کو (سواری پر) پیچھے بٹھایا۔ راوی کہتے ہیں مجھے حضرت ابن عباسؓ نے بتایا کہ فضلؓ نے انہیں بتایا تھا کہ نبیﷺ مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپؐ نے جمرہ عقبہ کو کنکر مارے۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت فضل بن عباسؓ سے جنہیں سواری پر رسول اللہﷺ کے پیچھے بیٹھنے کی سعادت ملی تھی روایت کرتے ہیں کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح جب لوگ روانہ ہوئے آپؐ نے لوگوں سے فرمایا تم سکینت اختیار کرو اور آپؐ اپنی اونٹنی کو روکے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ محسر میں داخل ہوئے اور وہ منٰی کا حصہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا پھینکی جانے والی کنکریاں لے لو جو جمرہ پر پھینکی جائیں گی۔ اور وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپؐ نے جمرہ کو کنکریاں ماریں۔ ایک اور روایت میں لَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہﷺ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ کے الفاظ نہیں ہیں مگر یہ اضافہ ہے کہ نبیﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما رہے تھے جیسے آدمی انگلیوں سے کنکر پھینکتا ہے۔
عبدالرحمان بن یزید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ نے کہا جب ہم مزدلفہ میں تھے میں نے اِس مقام پر اس کو جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی فرماتے ہوئے سنا لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ میں تیری جناب میں حاضر ہوں اے اللہ! میں تیری جناب میں حاضر ہوں۔
عبدالرحمان بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہؓ جب مزدلفہ سے لوٹے تو انہوں نے تلبیہ کے الفاظ کہے۔ کہا گیا یہ کوئی بدو ہے؟ حضرت عبداللہؓ نے کہا لوگ بھول گئے ہیں؟ یا بھٹک گئے ہیں؟ میں نے اس کو جس پر سورۃ بقرۃ اتری اس جگہ کہتے سنا لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ میں تیری جناب میں حاضر ہوں اے اللہ! میں تیری جناب میں حاضر ہوں۔
عبدالرحمان بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے سنا۔ وہ مزدلفہ میں کہہ رہے تھے میں نے اس کو جس پر سورۃ البقرۃ اتاری گئی یہاں اس جگہ یہ کہتے سنا میں تیری جناب میں حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں پھر انہوں نے تلبیہ کہا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ کہا۔