بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
سوید بن غفلہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا۔ آپؓ نے حجر (اسود) کو بوسہ دیا اور اس کے ساتھ چمٹ گئے اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھ سے پیار کرتے دیکھا ہے۔ ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ کے بجائے اباالقاسم ﷺ کے الفاظ ہیں جبکہ وَالْتَزَمَہُ (اسے چمٹ گئے) کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر (سوار ہو کر) طواف کیا۔ آپ رکن (حجر اسود) کو چھڑی سے استلام کرتے تھے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپؐ حجر (اسود) کو اپنی چھڑی سے استلام کرتے تھے تاکہ لوگ آپؐ کو دیکھ سکیں اور آپؐ (ان پر) نظر ڈال سکیں اور وہ آپؐ سے سوال کر سکیں کیونکہ لوگوں کا آپؐ پر ہجوم تھا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا تا کہ لوگ آپؐ کو دیکھ سکیں اور آپؐ (ان پر) نظر ڈال سکیں اور تاکہ وہ آپؐ سے سوال کر سکیں کیونکہ لوگوں کا آپؐ پر ہجوم تھا۔ ابن خشرم نے اپنی روایت میں صرف لِیَسْئَلُوْہُ کے الفاظ نہیں کہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں حجۃ الوداع میں نبیﷺ نے اپنے اونٹ پر خانہ کعبہ کے گرد طواف کیا اس بات کی ناپسندیدگی کی وجہ سے کہ لوگوں کو آپؐ سے پرے ہٹایا جائے۔ آپؐ رکن کا استلام فرماتے تھے۔
حضرت ابو طفیلؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا۔ آپؐ اپنی چھڑی سے جو آپؐ کے پاس تھی حجر اسود کو استلام کرتے تھے اور چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپؐ نے فرمایا سوار ہو کر لوگوں سے ہٹ کر طواف کر لو۔ وہ کہتی ہیں تو میں نے طواف کیا اور اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپؐ سورۃ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے ان (حضرت عائشہؓ) سے کہا میرا خیال ہے اگر ایک شخص صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اسے کوئی حرج نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں؟ میں نے کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔۔۔ الخ (ترجمہ): یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے اور جو نفلی طور پر نیکی کرنا چاہے تو یقینا اللہ شکر کا حق ادا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ (البقرہ:159) انہوں نے فرمایا اللہ تو اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل (قرار) نہیں دیتا جس نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کیا ہو اور اگر ایسی بات ہوتی جیسے تم کہتے ہو تو یوں ہوتا لَاجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ اور تم جانتے ہو ایسے کیوں کیا گیا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ انصارؓ جاہلیت میں ساحل سمندر پر اپنے دونوں بتوں کے لئے احرام باندھا کرتے تھے۔ جو اساف اور نائلہ کہلاتے تھے۔ پھر وہ آتے اور صفا اور مروہ کا طواف کرتے پھر وہ اپنا سر منڈواتے۔ جب اسلام آیا تو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ ان دونوں (صفا اور مروہ) کا طواف کریں کیونکہ وہ جاہلیت میں ایسا کیا کرتے تھے۔ وہ فرماتی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔۔۔ الخ (البقرہ:159) انہوں نے کہا پھر وہ طواف کرنے لگے۔
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں مجھے میرے باپ نے بتایا۔ وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہؓ سے کہا میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کروں تو میں اپنے پر کوئی گناہ نہیں سمجھتا۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ میں نے کہا کیونکہ اللہ عَزّ وجلّ فرماتا ہے: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔۔۔ الخ (ترجمہ) یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ (البقرہ: 159) انہوں نے فرمایا اگر بات اس طرح ہوتی جیسے تم کہتے ہو تو ایسے ہوتا اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ یہ تو انصارؓ میں سے ان لوگوں کے بارہ میں اتری جو جاہلیت میں احرام باندھتے تھے تو مناۃ بت کے لئے احرام باندھتے تھے اور ان کے لئے (بزعم خویش) جائز نہ تھا کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کریں۔ پھر جب وہ نبیﷺ کے ساتھ حج کے لئے آئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر آپؐ سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ میری عمر کی قسم! اللہ تعالیٰ اس کا حج مکمل قرار نہیں دیتا جو صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کرے۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے کہا میں اس شخص پر کوئی حرج نہیں دیکھتا جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتا۔ اور میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ میں ان دونوں کے درمیان طواف نہ کروں۔ انہوں نے کہا تم نے کیسی غلط بات کہی ہے اے میرے بھانجے! رسول اللہﷺ نے (صفا و مروہ کا) طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی (ان کا) طواف کیا پس یہ سنت ہے۔ دراصل بات صرف یہ ہے کہ جو لوگ مناۃ بت کے لئے جو مشلّل مقام پر تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم نے اس کے بارہ میں نبیﷺ سے پوچھا تو اللہ عزّوجلّ نے یہ (آیت) نازل فرمائی: یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔ (البقرہ: 159) اگر وہی بات ہوتی جو تُم کہتے ہو تو یہ (آیت) یوں ہوتی اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ زہری کہتے ہیں میں نے یہ بات ابو بکر بن عبدالرحمٰن کے پاس بیان کی۔ انہوں نے اسے بہت پسند کیا اور کہا یقینا یہ علم کی بات ہے۔ میں نے کئی صاحبِ علم لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ اس سے مراد عرب میں سے وہ لوگ تھے جو صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان ہمارا طواف کرنا جاہلیت کی باتوں میں سے ہے اور بعض دوسرے انصارؓ میں سے کہتے تھے ہمیں تو محض بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے۔ اور صفا اور مروہ کے درمیان (طواف) کا ہمیں حکم نہیں دیا گیا۔ تو اللہ عزّوجلّ نے یہ آیت نازل فرمائی: یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں (البقرہ: 159)۔ ابو بکر بن عبدالرحمان کہتے تھے میرا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارہ میں اتری اور ان لوگوں کے بارہ میں بھی۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے عروہؓ بن زبیر نے بتایا انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا۔۔۔ اور اسی کی مانند روایت بیان کی اور روایت میں یہ بھی کہا جب انہوں نے رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم صفا اور مروہ کا طواف کرنے میں حرج سمجھتے تھے تو اللہ عزّوجلّ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ان دونوں (صفا اور مروہ) کے درمیان طواف کرنے کی سنت رسول اللہﷺ نے قائم فرما دی۔ پس کسی کے لئے درست نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف چھوڑ دے۔