بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہم صبح کے وقت رسول اللہﷺ کے ساتھ منٰی سے عرفات کو چلے۔ ہم میں سے بعض تلبیہ کہنے والے تھے اور ہم میں سے بعض تکبیر کہنے والے تھے۔
عبداللہ بن عبداللہ بن عمرؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عرفہ کی صبح رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ پس ہم میں سے بعض تکبیر کہنے والے تھے اور ہم میں سے بعض تلبیہ کہنے والے تھے۔ ہم تو تکبیر ہی کہہ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم! تم پر بڑا تعجب ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ تم نے انہیں یہ نہ کہا کہ آپؓ نے رسول اللہﷺ کو کیا کرتے دیکھا تھا۔
محمد بن ابی بکر الثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا جبکہ وہ دونوں صبح صبح منٰی سے عرفات کی طرف جا رہے تھے۔ آپ لوگ رسول اللہﷺ کی معیّت میں آج کے دن کیا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ہم میں سے تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا تھا اور اُسے غلط نہیں سمجھا جاتا تھا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تھا اور اسے بھی غلط نہیں سمجھا جاتا تھا۔
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں میں نے عرفات کی صبح حضرت انس بن مالکؓ سے کہا آپ آج کے دن میں تلبیہ کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں اس جگہ نبیﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ کے ساتھ چلا۔ ہم میں سے بعض تکبیر کہنے والے تھے اور ہم میں سے بعض تلبیہ کہنے والے تھے۔ اور ہم میں سے کوئی اپنے ساتھی پر عیب نہ لگاتا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت کرتے ہیں _ انہوں نے ان کو کہتے ہوئے سنا_ رسول اللہﷺ عرفات سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپؐ گھاٹی کے پاس آئے تو (سواری سے) اترے پیشاب سے فارغ ہوئے، وضوء کیا مگر پورا وضوء نہیں کیا۔ میں نے آپؐ سے عرض کیا نماز! آپؐ نے فرمایا نماز آگے چل کر۔ پھر آپؐ سوار ہوئے پس جب آپؐ مزدلفہ آئے تو اترے اور وضوء کیا اور پورا وضوء کیا۔ پھر نماز کی اقامت کہی گئی۔ تو آپؐ نے نماز مغرب پڑھائی۔ پھر ہر شخص نے اپنا اونٹ اس کی جگہ پر بٹھا دیا۔ پھر نماز عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپؐ نے نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ عرفات سے روانہ ہونے کے بعد ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں نے (آپؐ کے آنے پر) پانی انڈیلا اور عرض کیا، کیا آپؐ نماز پڑھیں گے؟ آپؐ نے فرمایا نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عرفات سے لوٹے۔ جب آپؐ گھاٹی کے پاس پہنچے تو آپؐ اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے اور حضرت اسامہؓ نے اَرَاقَ الْمَاء کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے پانی منگوایا اور آپؐ نے وضوء کیا مگر وہ پورا وضوء نہ تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! نماز؟ آپؐ نے فرمایا نماز آگے چل کر۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ چلے یہاں تک کہ آپؐ مزدلفہ پہنچے اور آپؐ نے مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔
کریب کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زیدؓ سے پوچھا جب آپ عرفات کی شام رسول اللہﷺ کے پیچھے سوار ہوئے تو آپ لوگوں نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہم اس گھاٹی پر آئے جہاں لوگ مغرب کے لئے پڑاؤ کرتے ہیں تو رسول اللہﷺ نے اپنی اونٹنی کو وہاں بٹھایا اور پیشاب کیا۔ انہوں نے اَھْرَاقَ الْمَائ کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ پھر وضوء کا پانی منگوایا اور وضوء کیا جو پورا نہ تھا۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! نماز؟ آپؐ نے فرمایا نماز آگے چل کر۔ پھر آپؐ سوار ہوئے یہانتک کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپؐ نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں نے اپنی جگہوں پر اپنے اونٹ بٹھائے لیکن پڑاؤ نہیں کیا یہانتک کہ آپؐ نے عشاء کی نماز کے لئے اقامت کا ارشاد فرمایا اور نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں نے پڑاؤ کیا۔ میں نے کہا جب صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا آپؐ کے پیچھے سواری پر فضل بن عباسؓ بیٹھے اور میں قریش کے آگے جانے والوں میں پا پیادہ گیا۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب اس درہ پر آئے جہاں (اب) امراء پڑاؤ کرتے ہیں تو آپؐ اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت اسامہؓ بن زیدؓ نے ’’اَھَرَاقَ‘‘ کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ پھر آپؐ نے وضوء کا پانی منگوایا اور آپؐ نے ہلکا سا وضوء کیا۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! نماز؟ آپؐ نے فرمایا نماز آگے چل کر۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پیچھے (سواری پر) بیٹھے ہوئے تھے جب آپؐ عرفات سے واپس لوٹے۔ جب آپؐ گھاٹی کے پاس پہنچے آپؐ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور قضائے حاجت کے لئے گئے۔ جب آپؐ واپس آئے تو میں نے آپؐ کے لئے چھاگل سے پانی انڈیلا۔ آپؐ نے وضو کیا پھر سوار ہوئے اور آپؐ مزدلفہ آئے یہاں آپؐ نے نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے ادا کیں۔