بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عرفات سے لوٹے اور اسامہؓ آپؐ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت اسامہؓ کہتے تھے کہ آپؐ اس حالت میں چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے۔
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں حضرت اسامہؓ سے پوچھا گیا اور میں موجود تھا یا یہ کہا میں نے حضرت اسامہؓ بن زیدؓ سے پوچھا اور رسول اللہﷺ نے انہیں عرفات سے اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔ میں نے کہا رسول اللہﷺ جب عرفات سے واپس تشریف لائے تو کس رفتار سے چل رہے تھے؟ انہوں نے کہا آپؐ لمبے قدم سے تیز چال اپنے جانور کو چلا رہے تھے۔ اور جب کشادہ جگہ پاتے تو جانور کو دوڑاتے تھے۔ ہشام کہتے ہیں اَلْنَصُّ، اَلْعَنَقْ سے اوپر ہوتی ہے۔
عبداللہ بن یزید خطمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوایوبؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کیں۔ عبداللہ بن یزید خطمی ابن زبیرؓ کے عہدِ حکومت میں کوفہ کے امیر تھے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء جمع کیں۔
عبید اللہ بن عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ ان کے والد کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نہیں تھا اور مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعات پڑھیں۔ حضرت عبد اللہؓ مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں نماز مغرب اور نماز عشاء میں سے ہر ایک اقامت کے ساتھ ادا کی۔ پھر انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کے بارہ میں روایت کی کہ انہوں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی تھی۔ اور حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ دونوں کو ایک اقامت سے پڑھا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھیں۔ آپؐ نے مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعت ایک اقامت سے پڑھیں۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں ہم حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ (عرفات سے) لوٹے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچے اور انہوں نے ہمیں نماز مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھائی۔ پھر وہ (جب) فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس جگہ اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔
حضرت عبدؓ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز اپنے (معمول کے) وقت پر ہی پڑھتے دیکھا ہے سوائے دو نمازوں کے۔ (ایک تو) مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اور (دوسرے) فجر اس روز آپؐ نے (معمول کے) وقت سے پہلے پڑھی۔ ایک اور روایت میں (قَبْلَ مِیْقَاتِہَا کی بجائے) قَبْلَ وَقْتِہَا بِغَلَسٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ مزدلفہ کی رات حضرت سودہؓ نے رسول اللہﷺ سے اجازت چاہی کہ وہ آپؐ سے پہلے اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے پہلے واپس (منٰی) روانہ ہو جائیں اور وہ بھاری بھرکم خاتون تھیں۔ قاسم کہتے ہیں الثبطہ کے معنے ہیں (الثقیلۃ) بھاری بھرکم۔ وہ کہتے ہیں (حضرت عائشہؓ نے فرمایا) آپؐ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آپؐ کی روانگی سے پہلے چلی گئیں اور ہمیں آپؐ نے روک لیا یہانتک کہ صبح ہوگئی۔ پھر ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اگر میں نے (بھی) رسول اللہﷺ سے اجازت لے لی ہوتی جیسا کہ حضرت سودہؓ نے اجازت لی تھی اور میں آپ کی اجازت سے روانہ ہو جاتی تو مجھے آپ کے ساتھ ہونے کی خوشی سے یہ بات زیادہ پسند آتی۔