بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
طاؤس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباسؓ کے ساتھ تھا جب زیدؓ بن ثابت نے کہا آپؓ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا آخری طواف کرنے سے پہلے واپس چلی جائے۔ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے کہا اگر نہیں تو فلاں انصاری عورت سے پوچھ لو۔ کیا اس کے بارہ میں رسول اللہﷺ نے اسے حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت زیدؓ بن ثابت حضرت ابن عباسؓ کی طرف ہنستے ہوئے لوٹے اور وہ کہہ رہے تھے میرا خیال ہے کہ آپ درست ہی کہتے ہیں۔
ابو سلمہ اور عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں حضرت صفیہؓ بنتِ حُیَی کو طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے ان کے حیض کا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! وہ واپس آچکی ہیں اور طوافِ بیت اللہ کر چکی ہیں اور طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہوئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو پھر وہ روانہ ہوں۔ ایک اور روایت میں (قَالَتْ حَاضَتْ صَفِیَّۃُ بِنْتِ حُیَیٍّ بَعْدَ مَا اَفَاضَتْ کی بجائے) طَمِسَتْ صَفِیَّۃُ بِنْتِ حُیَیٍّ زَوْجِ النَّبِیِّﷺ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا اَفَاضَتْ طَاھِرًا کے الفاظ ہیں۔ یعنی نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہؓ بنتِ حُیَی حَجۃ الوداع میں طوافِ افاضہ جو انہوں نے پاک حالت میں کیا حائضہ ہو گئی۔ اسی طرح ایک روایت میں (ذَکَرَتْ حَیْضَتَہَا کی بجائے) اِنَّہَا ذَکَرَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اَنَّ صَفِیَّۃَ قَدْ حَاضَتْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں ہمیں اندیشہ تھا کہ طوافِ افاضہ سے قبل حضرت صفیہؓ کو حیض آجائے گا۔ وہ کہتی ہیں ہمارے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور فرمایا کیا صفیہؓ ہمیں روکنے والی ہے؟ ہم نے کہا انہوں نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تب نہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا یا رسولؐ اللہ! صفیہؓ بنتِ حُیَی حائضہ ہوگئی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید کہ وہ ہمیں روک دے۔ کیا اس نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں، آپؐ نے فرمایا تو پھر تم سب روانہ ہو سکتی ہو۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت صفیہؓ سے کچھ وہ چاہا جو مرد اپنی بیوی سے چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! وہ حائضہ ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ ضرور ہمیں روکنے والی ہے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! انہوں نے قربانی والے دن زیارت کر لی تھی۔ آپؐ نے فرمایا پھر وہ تمہارے ساتھ واپس چلیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب نبیﷺ نے روانگی کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہؓ اپنے خیمہ کے دروازے پر اداس و غمگین کھڑی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ بھلا کرے، تم ضرور ہمیں روکنے والی ہو پھر آپؐ نے ان سے فرمایا کیا تم نے قربانی والے دن طوافِ افاضہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر چلو۔ ایک اور روایت میں کَئِیْبَۃً حَزِیْنَۃً کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور اسامہؓ اور بلالؓ اور عثمان بن طلحہ کلید بردار کعبہ میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر لیا۔ اور اس میں ٹھہرے رہے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں میں نے بلالؓ سے جب وہ باہر نکلے پوچھا کہ رسول اللہﷺ نے (بیت اللہ کے اندر) کیا کیا؟ انہوں نے کہا آپؐ نے دو ستون اپنے بائیں اور ایک ستون اپنے دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے رکھ کر (نفل) نماز پڑھی اور اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر تھا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ فتح کے دن تشریف لائے۔ آپؐ کعبہ کے صحن میں اترے اور آپؐ نے عثمان بن طلحہ کو بلا بھیجا۔ وہ چابی لایا اور دروازہ کھولا۔ راوی کہتے ہیں پھر نبیﷺ اور بلالؓ اور اسامہؓ بن زیدؓ اور عثمان بن طلحہ (کعبہ میں) داخل ہوئے۔ آپؐ نے دروازے کے بارے میں ارشاد فرمایا اور وہ بند کر دیا گیا۔ پھر وہ سب اس میں دیر تک رہے۔ پھر آپؐ نے دروازہ کھولا۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں میں لوگوں سے پہلے پہنچا اور میں نے رسول اللہﷺ کو (کعبہ سے) نکلتے ہوئے پایا اور حضرت بلالؓ آپؐ کے پیچھے تھے۔ میں نے بلالؓ سے کہا کیا رسول اللہﷺ نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے کہا کہاں؟ انہوں نے کہا دو ستونوں کے درمیان اپنے سامنے کے رُخ۔ وہ (ابن عمرؓ) کہتے ہیں میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپؐ نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ ایک اور روایت حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ فتحِ مکہ کے سال اسامہؓ بن زید کی اونٹنی پر آئے یہاں تک کہ آپؐ نے اسے صحنِ کعبہ میں بٹھایا پھر عثمان بن طلحہ کو بلایا اور فرمایا میرے پاس چابی لاؤ۔ وہ اپنی والدہ کے پاس گیا تو اس نے اسے وہ (چابی) دینے سے انکار کیا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم! تمہیں ضرور یہ (چابی) دینی ہوگی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار ہوگی۔ راوی کہتے ہیں تب اس نے اسے (چابی) دے دی۔ وہ اسے لے کر نبیﷺ کے پاس آیا اور وہ آپؐ کو دے دی۔ آپؐ نے وہ اسے واپس دی اور اس نے دروازہ کھولا۔ پھر باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور آپؐ کے ساتھ اسامہؓ، بلالؓ اور عثمان بن طلحہ بھی تھے۔ انہوں نے دیر تک دروازہ بند کر رکھا۔ پھر وہ کھولا گیا تو میں پہلا شخص تھا جو اندر داخل ہوا۔ میں بلالؓ سے ملا اور پوچھا رسول اللہﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا سامنے کے دو ستونوں کے درمیان۔ میں اُن سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ رسول اللہﷺ نے کتنی (رکعت) نماز پڑھی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق روایت ہے کہ وہ کعبہ کی طرف گئے اور اس میں نبیﷺ بلالؓ اور اسامہؓ داخل ہو چکے تھے اور عثمان بن طلحہ نے دروازہ بند کر دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ سب اس میں خاصی دیر ٹھہرے۔ پھر دروازہ کھولا گیا تو نبیﷺ باہر تشریف لائے۔ میں سیڑھی پر چڑھا اور بیت اللہ میں داخل ہو گیا۔ میں نے پوچھا نبیﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا اس جگہ۔ وہ کہتے ہیں میں اُن سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپؐ نے کتنی (رکعت) نماز پڑھی؟