بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور ان (کعبؓ) کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپؐ نے فرمایا تو اپنا سر منڈوا لو۔ وہ (کعبؓ) کہتے ہیں یہ آیت میرے بارہ میں اتری فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا... (سورۃ البقرہ: 197) ترجمہ: پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو کچھ روزوں کی صورت میں یا صدقہ دے کر یا قربانی پیش کر کے فدیہ دینا ہوگا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا یا تین دن روزے رکھو یا ایک فَرَق (کھانا) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی کرو جو میسر ہو۔
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور آپ حدیبیہ میں تھے قبل اس کے کہ مکہ میں داخل ہوں اور وہ (کعبؓ) مُحرِم تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تو اپنا سر منڈوا لو۔ ایک فَرَق کھانا چھ مسکینوں کو کھلاؤ __اور فرق تین صاع کا ہوتا ہے __ یا تین دن کے روزے رکھو یا ایک جانور کی قربانی کرو۔ ابن ابی نَجِیْح کہتے ہیں یا (فرمایا) ایک بکری ذبح کرو۔
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے ایام میں ان کے پاس سے گذرے تو آپؐ نے ان سے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں تکلیف میں ڈال رکھا ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اپنا سر منڈوا لو۔ پھر ایک بکری بطور قربانی ذبح کرو یا تین دن روزے رکھو یا تین صاع کھجوروں کے چھ مسکینوں کو کھلاؤ۔
عبد اللہ بن معقل سے روایت ہے کہ میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا جبکہ وہ مسجد میں تھے اور میں نے ان سے اس آیت ’’فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ‘‘ (سورۃ البقرہ: 197) ترجمہ: تو کچھ روزوں کی صورت میں یا صدقہ دے کر یا قربانی پیش کر کے فدیہ دینا ہوگا‘‘ کے بارہ میں پوچھا۔ اس پر حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ (آیت) میرے بارہ میں اتری۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا اور جوئیں میرے چہرہ پر گر رہی تھیں آپؐ نے فرمایا میرا خیال نہیں تھا کہ تمہیں اتنی سخت تکلیف پہنچی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہیں ایک بکری کی توفیق ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں تو یہ آیت ’’فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ‘‘ (سورۃ البقرہ: 197) نازل ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا تین دن روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھلاؤ۔ ہر مسکین کو نصف صاع غلّہ۔ انہوں نے کہا یہ خصوصًا میرے بارہ میں نازل ہوئی اور آپ لوگوں کے لئے عمومی طور پر۔
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں نکلے۔ ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑ گئیں۔ نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی۔ آپؐ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلوایا اور اس نے ان کا سر مونڈ دیا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا کیا تمہارے پاس قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں اور ہر دو مسکینوں کے لئے ایک صاع ہو۔ اللہ عزوجل نے بطور خاص ان کے لئے یہ آیت فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہِ أَذًی مِّنْ رَّأْسِہِ (سورۃ البقرہ: 197) نازل فرمائی پھر یہ مسلمانوں کے لئے عام ٹھہری۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی جبکہ آپؐ مُحرِم تھے۔
حضرت ابن بُحینۃؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مکہ کے رستہ میں اپنے سر کے درمیان سینگی لگوائی جبکہ آپؐ حالتِ احرام میں تھے۔
نُبَیْہ بن وہب کہتے ہیں ہم ابان بن عثمانؓ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم مَلَل کے مقام پر تھے تو عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی۔ پھر جب روحاء مقام پر پہنچے تو ان کی تکلیف بہت بڑھ گئی انہوں نے ابان بن عثمانؓ کو پیغام بھیجا ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب بھیجا کہ دونوں آنکھوں پر مُصَبّر (ایلوا) کا لیپ کریں کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے بارہ میں بیان کیا کہ ایک شخص کی آنکھیں دکھنے لگیں اور وہ مُحرِم تھا تو آپؐ نے دونوں آنکھوں پر مُصَبّر کا لیپ کرایا۔
نُبَیْہ بن وہب کہتے ہیں عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھ دکھنے لگی۔ انہوں نے سرمہ لگانا چاہا تو انہیں ابان بن عثمانؓ نے منع کیا اور انہیں مُصَبّر (ایلوا) کا لیپ کرنے کو کہا اور حضرت عثمان بن عفانؓ نے نبیﷺ کے بارہ میں بیان کیا کہ آپؐ نے ایسا ہی کیا تھا۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور مِسوَر بن مَخْرَمۃ کے بارہ میں روایت ہے کہ ان دونوں کے درمیان ابوا ء مقام پر یہ اختلاف ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا کہ مُحرِم اپنا سر دھو سکتا ہے اور مِسوَر نے کہا کہ مُحرِم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے مجھے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا اور میں نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے دیکھا اور وہ کپڑے سے پردہ کئے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے انہیں سلام کہا تو انہوں نے کہا کون ہے؟ میں نے کہا میں عبد اللہ بن حنین ہوں۔ مجھے آپ کے پاس حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے یہ پوچھنے کے لئے بھیجا ہے کہ رسول اللہﷺ احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟ حضرت ابو ایوبؓ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے نیچے کیا یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آنے لگا پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا کہا پانی ڈالو اس نے اُن کے سر پر پانی ڈالا۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ہلایا اور اپنے ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور پھر کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو ایوبؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے اپنے سارے سر پر پھیرے انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے۔ اس پر مسور نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا میں کبھی آپ سے بحث نہیں کروں گا۔