بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے جبکہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگیا فرمایا اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور اسے اس کے (انہی) دو کپڑوں میں کفن دو اور اس کا سر نہ ڈھانپنا۔ یقینا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس دوران میں ایک شخص رسول اللہﷺ کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرا ہوا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر پڑا۔ (راوی) ایوب کہتے ہیں کہ اس نے اس کی گردن توڑ دی یا کہا اسی وقت اسے مار دیا (راوی) عمرونے (أَوْقَصَتْہُ کی بجائے) وَقَصَتْہُ کا لفظ بولا ہے۔ نبیﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا اسے پانی اور بیری (کے پتوں ) سے غسل دو اور اسے اس کے (انہی) دونوں کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگانا اور اس کا سر نہ ڈھانپنا۔ ایوب کہتے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ کہنے والا ہوگا۔ عمرو کی روایت میں ہے اللہ اسے اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔ ایک اور روایت میں (بَیْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ کی بجائے) أَنَّ رَجُلًا کَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبیِّّﷺ وَھُوَ مُحْرِمٌ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے نبی ﷺ کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر پڑا۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے پانی اور بیری (کے پتوں ) سے غسل دو اور اسے اس کے دونوں کپڑے (بطور کفن) پہنا دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو اور وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے آئے گا۔ ایک اور روایت میں (اَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ کی بجائے) اَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کے الفاظ ہیں اور اسی طرح (فَاِنَّہُ یَأْتِیْ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ یُلَبِّی کی بجائے) فَاِنَّہُ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ مُلَبِّیًا کے الفاظ ہیں اور مزید یہ کہ راوی سعید بن جبیر نے اس جگہ کا نام نہیں لیا جہاں وہ گرا تھا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی گردن اس کی سواری نے توڑ دی اور وہ مُحْرِم تھا اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے پانی اور بیری (کے پتوں ) سے غسل دو اور اسے اس کے (انہی) دونوں کپڑوں میں کفنا دو اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مُحرِم شخص رسول اللہﷺ کی معیت میں تھا۔ اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور اسے اس کے (انہی) دونوں کپڑوں میں کفنا دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر نہ ڈھانپو۔ یقینا یہ قیامت کے دن بالوں کو جمائے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ دی اور وہ حالتِ احرام میں رسول اللہﷺ کی معیت میں تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس کے بارہ میں حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دیا جائے اور اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر نہ ڈھانپا جائے۔ یقینا قیامت کے دن وہ اپنے بالوں کو جمائے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم ا بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آیا وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا۔ اور وہ اسی وقت مرگیا تو نبی ﷺ نے حکم دیا اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دیا جائے اور یہ کہ دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر باہر رہے۔ راوی شعبہ کہتے ہیں اس کے بعد راوی بشر نے مجھے اس بارہ میں بتایا کہ اس کا سر اور اس کا چہرہ باہر رہیں یقینا وہ قیامت کے دن انہیں جمائے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی کی گردن اس کی اونٹنی نے توڑ دی اور وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔ رسول اللہﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دیں اور اس کا چہرہ کھلا رکھیں۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا اور اس کا سر۔ یقینا وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔ اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا تو نبیﷺ نے فرمایا اسے غسل دو اور اسے ذرہ بھی خوشبو نہ لگاؤ، نہ اس کا چہرہ ڈھانپو یقینا یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لائے۔ آپؐ نے اسے فرمایا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کیا اللہ کی قسم میں اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں۔ آپؐ نے اسے فرمایا حج کے لئے جاؤ اور شرط کرلو اور کہو اے اللہ میرا احرام کھولنا وہیں ہوگا جہاں تو نے مجھے روک دیا اور وہ حضرت مقدادؓ کی بیوی تھیں۔